aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "parveen-shakir"
پروین شاکر
1952 - 1994
شاعر
پرویز ساحر
انجمن پروانۂ شبیر، حیدرآباد
ناشر
میرا گناہ یہ ہے کہ میں ایک ایسے قبیلے میں پیدا ہوئی جہاں سوچ رکھنا جرائم میں شامل ہے، مگر قبیلے والوں سے بھول یہ ہوئی کہ انہوں نے مجھے پیدا ہوتے ہی زمین میں نہیں گاڑا اور اب مجھے دیوار میں چن دینا ان کے لیے اخلاقی طور پر...
جانمجھے افسوس ہےتم سے ملنے شاید اس ہفتے بھی نہ آ سکوں گابڑی اہم مجبوری ہےجانتمہاری مجبوری کواب تو میں بھی سمجھنے لگی ہوںشاید اس ہفتے بھیتمہارے چیف کی بیوی تنہا ہوگی
مجھے مت بتاناکہ تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تھاتو کیوںاور کس وجہ سےابھی تو تمہارے بچھڑنے کا دکھ بھی نہیں کم ہواابھی تو میںباتوں کے وعدوں کے شہر طلسمات میںآنکھ پر خوش گمانی کی پٹی لیےتم کو پیڑوں کے پیچھے درختوں کے جھنڈاور دیوار کی پشت پر ڈھونڈنے میں مگن ہوںکہیں پر تمہاری صدا اور کہیں پر تمہاری مہکمجھ پہ ہنسنے میں مصروف ہےابھی تک تمہاری ہنسی سے نبرد آزما ہوںاور اس جنگ میںمیرا ہتھیاراپنی وفا پر بھروسہ ہے اور کچھ نہیںاسے کند کرنے کی کوشش نہ کرنامجھے مت بتانا.....
ننھی لڑکیساحل کے اتنے نزدیکریت سے اپنے گھر نہ بناکوئی سرکش موج ادھر آئی توتیرے گھر کی بنیادیں تک بہہ جائیں گیاور پھر ان کی یاد میں توساری عمر اداس رہے گی!
وہی نرم لہجہجو اتنا ملائم ہے جیسےدھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی ہوشفق نرم کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہوکس قدر رنگ و آہنگ کا کس قدر خوب صورت سفروہی نرم لہجہکبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گاتو ایسا لگےجیسے ریشم کے جھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہووہی نرم لہجہکسی شوخ لمحے میں اس کی ہنسی بن کے بکھرےتو ایسا لگےجیسے قوس قزح نے کہیں پاس ہی اپنی پازیب چھنکائی ہےہنسی کو وہ رم جھمکہ جیسے فضا میں بنفشی چمکدار بوندوں کے گھنگھرو چھنکنے لگے ہوںکہ پھراس کی آواز کا لمس پا کےہواؤں کے ہاتھوں میں ان دیکھے کنگن کھنکنے لگے ہوںوہی نرم لہجہ مجھے چھیڑنے پر جب آئےتو ایسا لگے گاجیسے ساون کی چنچل ہواسبز پتوں کے جھانجھن پہنسرخ پھولوں کی پائل بجاتی ہوئیمیرے رخسار کوگاہے گاہے شرارے سے چھونے لگےمیں جو دیکھوں پلٹ کے تو وہبھاگ جائے مگردور پیڑوں میں چھپ کر ہنسےاور پھر ننھے بچوں کی مانند خوش ہو کے تالی بجانے لگےوہی نرم لہجہکہ جس نے مرے زخم جاں پہ ہمیشہ شگفتہ گلابوں کی شبنم رکھی ہےبہاروں کے پہلے پرندے کی مانند ہےجو سدا آنے والے نئے سکھ کے موسم کا قاصد بنا ہےاسی نرم لہجے نے پھر مجھ کو آواز دی ہے
پاکستان کی مقبول ترین شاعرات میں شامل ، عورتوں کے مخصوص جذبوں کو آواز دینے کے لئے معروف
پروين شاکر
ساحل احمد
خوشبو
خود کلامی
غزل
مجموعہ
فرحت یاسمین
کف آئینہ
کلیات پروین شاکر
کلیات
انکار
شاعری
پروین شاکر کی شاعری
محمد تنویر
تنقید
صد برگ
سیشن آف سوئٹ سائلنٹ تھاٹ
مرزا نہال احمد بیگ
انتخاب
ماہ تمام
اردو شاعری میر سے پروین شاکر تک
قاضی مشتاق احمد
زبان و ادب
پروین شاکر کے خطوط نظیر صدیقی کے نام
جاوید وارثی
مضامین/ انشائیہ
تمہارا کہنا ہےتم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہوتمہاری چاہتوصال کی آخری حدوں تکمرے فقط میرے نام ہوگیمجھے یقیں ہے مجھے یقیں ہےمگر قسم کھانے والے لڑکے!تمہاری آنکھوں میں ایک تل ہے!
پورا دکھ اور آدھا چاندہجر کی شب اور ایسا چاند
بارہا تیرا انتظار کیااپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح
رائے پہلے سے بنا لی تو نےدل میں اب ہم ترے گھر کیا کرتے
اتنے گھنے بادل کے پیچھےکتنا تنہا ہوگا چاند
لڑکی!یہ لمحے بادل ہیںگزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گےان کے لمس کو پیتی جاقطرہ قطرہ بھیگتی جابھیگتی جا تو جب تک ان میں نم ہےاور ترے اندر کی مٹی پیاسی ہےمجھ سے پوچھکہ بارش کو واپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہوابال سکھانے کے موسم ان پڑھ ہوتے ہیں!
میں نے ساری عمرکسی مندر میں قدم نہیں رکھالیکن جب سےتیری دعا میںمیرا نام شریک ہوا ہےتیرے ہونٹوں کی جنبش پرمیرے اندر کی داسی کے اجلے تن میںگھنٹیاں بجتی رہتی ہیں!
شب وہی لیکن ستارہ اور ہےاب سفر کا استعارہ اور ہے
گلابی پاؤں مرے چمپئی بنانے کوکسی نے صحن میں مہندی کی باڑ اگائی ہو
گھر آپ ہی جگمگا اٹھے گادہلیز پہ اک قدم بہت ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books