aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qit.a"
چترا بھاردواج سمن
born.1986
شاعر
سٹی پریس بک شاپ، کراچی
ناشر
عامر کتاب گھر بٹلہ ہاؤس، نئی دہلی
مزمل حسین چیمہ
born.1993
کتاب نگر دین دیال روڈ، لکھنؤ
کتاب خانہ نورس، لاہور
کتاب زبان، تہران
کتاب خانہ، حیدرآباد
درسی کتاب خانہ، حیدرآباد
دہلی کتاب گھر، دہلی
ماہنامہ کتاب نما، جامعہ نگر، نئی دہلی
سب رنگ کتاب گھر، دہلی
الکتاب انٹرنیشنل، جامعہ نگر، نئی دہلی
دارالکتاب جامع مسجد، دہلی
رضوی کتاب گھر، دہلی
شرم دہشت جھجھک پریشانیناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
میں نے ہر بار تجھ سے ملتے وقتتجھ سے ملنے کی آرزو کی ہے
چارہ سازوں کی چارہ سازی سےدرد بدنام تو نہیں ہوگا
ہے محبت حیات کی لذتورنہ کچھ لذت حیات نہیں
مردوں کے لئے ہر ظلم روا عورت کے لیے رونا بھی خطامردوں کے لئے ہر عیش کا حق عورت کے لیے جینا بھی سزا
ایسے اشعار کا مجموعہ جس میں کسی خیال کو تسلسل سے پیش کیا جائے اسے قطعہ کہتے ہیں ۔یہ دو شعروں پر مشتمل ہوتا ہے اور دونوں میں باہمی ربط ضروری ہوتا ہے اگر کسی غزل میں ایک سے زیادہ قطعات موجود ہوں تو اس غزل کو قطعہ بند غزل کہا جاتا ہے ۔
قصہ
خاموشی کو موضوع بنانے والے ان شعروں میں آپ خاموشی کا شور سنیں گے اور دیکھیں گے کہ الفاظ کے بے معنی ہوجانے کے بعد خاموشی کس طرح کلام کرتی ہے ۔ ہم نے خاموشی پر بہترین شاعری کا انتخاب کیا ہے اسے پڑھئے اور خاموشی کی زبان سے آگاہی حاصل کیجیے۔
किता کِتا
کہتا
कित्ता کِتّا
کِتنا
कीता کیتا
कीटा کِیٹا
(جرائم پیشہ) شراب کی تلچھٹ یا ادنٰی درجے کی ایک شراب
قطعات و رباعیات اکبر
اکبر الہ آبادی
شاعری
رم جھم
احمد ندیم قاسمی
قطعہ
انداز بیاں اور
عاصم پیرزادہ
مزاحیہ
گاندھی نامہ
قطعات تاریخ
شان الحق حقی
فرصت یک نفس
فیروز ناطق خسرو
ستاروں کی آبجو
مظفر وارثی
گنج تواریخ
عبد الغفور نساخ
رتیں
طاہر رزاقی
رباعی
آبگینے
اختر انصاری
اردو میں قطعہ نگاری
خواجہ محمد زکریا
شاعری تنقید
کہاں ملو گے
اسد اعوان
آدم خور چیتا
ریاض احمد خان
شکاریات
قطعات حالی
الطاف حسین حالی
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیے
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئیجیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
میری عقل و ہوش کی سب حالتیںتم نے سانچے میں جنوں کے ڈھال دیں
چاند کی پگھلی ہوئی چاندی میںآؤ کچھ رنگ سخن گھولیں گے
جو حقیقت ہے اس حقیقت سےدور مت جاؤ لوٹ بھی آؤ
جو رعنائی نگاہوں کے لیے فردوس جلوہ ہےلباس مفلسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی
جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہیہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتے
ہر طنز کیا جائے ہر اک طعنہ دیا جائےکچھ بھی ہو پر اب حد ادب میں نہ رہا جائے
پاس رہ کر جدائی کی تجھ سےدور ہو کر تجھے تلاش کیا
نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیامکوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے
یہ تیرے خط تری خوشبو یہ تیرے خواب و خیالمتاع جاں ہیں ترے قول اور قسم کی طرح
عشق سمجھے تھے جس کو وہ شایدتھا بس اک نارسائی کا رشتہ
جو غم جلتے ہیں شعروں کی چتا میںانہیں پھر اپنے سینے سے لگائیں
سال ہا سال اور اک لمحہکوئی بھی تو نہ ان میں بل آیا
گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیںسنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books