aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rahn"
راہی معصوم رضا
1927 - 1992
مصنف
دواکر راہی
1914 - 1968
شاعر
سعید راہی
عادل راہی
born.1993
احمد راہی
1923 - 2002
غلام مرتضی راہی
born.1937
جمنا پرشاد راہیؔ
راکیش راہی
born.1969
مصطفیٰ راہی
1931 - 1986
ملا عبدالرحمان جامی
1414 - 1492
راہی فدائی
born.1949
امت جھا راہی
born.1989
راہی شہابی
1934 - 2005
محبوب راہی
born.1939
بال سوروپ راہی
born.1936
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےبیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے
ہے کشاد خاطر وابستہ در رہن سخنتھا طلسم قفل ابجد خانۂ مکتب مجھے
بکھیرتے رہو صحرا میں بیج الفت کےکہ بیج ہی تو ابھر کر شجر بناتے ہیں
پوچھ مت رسوائی انداز استغنائے حسندست مرہون حنا رخسار رہن غازہ تھا
بک گیا عمامہ ہو کر رہن مےبوجھ اترا سر سے جھگڑا تو چکا
بارش کا لطف یا تو آپ بھیگ کر لیتے ہوں گے یا بالکنی میں بیٹھ کر گرتی ہوئی بوندوں اور چمک دار آسمان کو دیکھ کر، لیکن کیا آپ نے ایسی شاعری پڑھی ہے جو صرف برسات ہی نہیں بلکہ بے موسم بھی برسات کا مزہ دیتی ہو ؟ ۔ یہاں ہم آپ کے لئے ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو برسات کے خوبصورت موسم کو موضوع بناتی ہے ۔ اس برساتی موسم میں اگر آپ یہ شاعری پڑھیں گے تو شاید کچھ ایسا ہو، جو یادگار ہوجائے۔
چائے صرف ایک مشروب نہیں ایک احساس ہے، ایک لمحہ ہے، ایک ساتھی ہے۔ اس کلیکشن میں ہم نے وہ اشعار منتخب کیے ہیں جو چائے کے ساتھ جڑی ہوئی گرم جوشی، یادوں کی خوشبو، اور خاموش مسرت کو بیان کرتے ہیں۔ چاہے وہ بارش میں تنہائی ہو، محفل میں قہقہے ہوں، یا خاموشی میں بھیگی یادیں — یہ منتخب اشعار چائے کی ہر گھونٹ پر ایک تازہ احساس کا لطف دیتے ہیں۔
नहंنَہں
نہیں
रहनिرَہْنی
रहनेرَہنے
ہندی
رہنا کی مغیّرہ حالت، تراکیب میں مستعمل، ٹھہرنا، بنے رہنا، باقی رہنا
रहोرہو
stay, remain, stop, be, continue to live
آدھا گاؤں
ناول
گرد راہ
اختر حسین رائے پوری
خود نوشت
جان غزل
یہ چراغ ہے تو جلا رہے
سلیم کوثر
مجموعہ
آسان کراٹے
اظہر حسین راہی
تعلیم
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
محمد بدیع الزماں
ہپناٹزم کے عملی طریقے
اور میں سوچتا رہ گیا
اجمل سراج
غزل
جو یاد رہا
عابد سہیل
جو رہی سو بے خبری رہی
ادا جعفری
شاہراہ زندگی پر کامیابی کا سفر
محمد بشیر جمعہ
خواجہ حیدر علی آتش لکھنوی
شعیب راہی
تحقیق
زاد راہ
پریم چند
افسانہ
نورالدین زنگی
اسلم راہی
تاریخی
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
اعزاز احمد آذر
سوانح حیات
زباں ہے رہن ذکر حور و غلماںخیال پاک دامانی بہت ہے
کھائیے یہ زہر کب تک کھائے جاتی ہے یہ زیستاے اجل کب تک رہیں گے رہن آب و دانہ ہم
رہن شراب خانہ کیا شیخ حیف ہےجو پیرہن بنایا تھا احرام کے لیے
عزم کعبہ کا تو قائمؔ تو کیا ہے لیکنرہن مے کیجو نہ واں جامۂ احرام کہیں
جلوۂ یار نے بے ہوش کیا ہے مجھ کوکچھ الگ نشۂ مے سے رہی غفلت میری
پارسائی تو ذرا زاہد مکار کی دیکھرہن مے خرقہ سالوس ہوا اے واعظ
تلخیٔ ایام رہن جام کیبادہ خانے میں بسر ہر شام کی
نقد دل و جاں اس کی خاطر رہن جام کرومیرؔ کے بادۂ غم خوردہ کو مے خواروں میں عام کرو
زمانہ کی نئی باتوں میں شامل یہ بھی ہے زاہدکہ رہن مے تمہارا جبہ و دستار ہو جانا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books