aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sail-e-ma.aanii"
تمہیں رنگ مے شیخ مرغوب کیا ہے گلابی ہو یا زعفرانی کہو توپلائے کوئی ساقئ حور پیکر مصفا کشیدہ پرانی کہو تو
یہاں تک تو نبھایا میں نے ترک مے پرستی کوکہ پینے کو اٹھا لی اور لیں انگڑائیاں رکھ دی
سائلؔ کی تمنا ہے شب و روز الٰہیہر دم مرے دل میں رہے سودائے مدینہ
حقیقت میں سائلؔ نے ذوق ادب سےجہاں تک اچھالا گیا نام اچھالا
مہ جبینوں کی گلی میں ہے یہ سائلؔ کی صداایک دو بوسۂ لب بہر خدا دے کوئی
انتظار کی کیفیت زندگی کی سب سے زیادہ تکلیف دہ کیفیتوں میں سے ایک ہوتی ہےاوریہ کیفیت شاعری کےعاشق کا مقدر ہے وہ ہمیشہ سے اپنے محبوب کے انتطار میں لگا بیٹھا ہے اور اس کا محبوب انتہائی درجے کا جفا پیشہ ،خود غرض ، بے وفا ، وعدہ خلاف اوردھوکے باز ہے ۔ عشق کے اس طے شدہ منظرنامے نے بہت پراثر شاعری پیدا کی ہے اور انتظار کے دکھ کو ایک لازوال دکھ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور انتظار کی ان کفیتوں کو محسوس کیجئے ۔
بیسویں صدی کا ابتدائی زمانہ دنیا کے لئے اور بالخصوص بر صغیر کے لئے خاصہ ہنگامہ خیز تھا۔ نئی صدی کی دستک نے نئے افکار و خیالات کے لئے ایک زرخیز زمین تیّار کی اور مغرب کے توسیع پسندانہ عزائم پر قدغن لگانے کا کام کیا۔ اس پس منظر نے اردو شاعری کے موضوعات اور اظہار کےمحاورے یکسر بدل کر رکھ دئے اور اس تبدیلی کی بہترین مثال علامہ اقبالؔ کی شاعری ہے۔ اقبالؔ کی شاعری نے اس زمانے میں نئے افکار اور روشن خیالات کا ایک ایسا حسین مرقع تیار کیا جس میں شاعری کے جملہ لوازمات نے اسلامی کرداروں اور تلمیحات کے ساتھ مل کر ایک جادو کا سا اثر پیدا کیا۔ لوگوں کو بیدار کرنے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ اقبالؔ کی شاعری نے عالمی ادب کے جیّدوں سے خراج حاصل کیا اور ساتھ ہی ساتھ تنازعات کا محور بھی بنی رہی۔ اقبال بلا شبہ اپنے عہد کے ایسے شاعر تھے جنہیں تکریم و تعظیم حاصل ہوئی اور ان کے بارے میں آج بھی مستقل لکھا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے بچوں کے لئے جو شاعری کی ہے وہ بھی بے مثال ہے۔ان کی کئی نظموں کے مصرعے اپنی سادگی اور شکوہ کے سبب آج بھی زبان زد عام ہیں۔ مثلاً سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا یا لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری کا آج بھی کوئی بدل نہیں۔ یہاں ہم اقبالؔ کے مقبول ترین اشعار میں سے صرف ۲۰ اشعار آپ کی نذر کر رہے ہیں۔ آپ اپنی ترجیحات سے ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں تاکہ اس انتخاب کو مزید جامع شکل دی جا سکے۔ ہمیں آپ کے بیش قیمت تاثرات کا انتظار رہے گا۔
درمعنی
محمد شرف الدین ساحل
نقش معنی
آپ کے سجدے میں روح سجدہ اے مانیؔ کہاںکاش یہ احساس ہوتا خم ہے پیشانی کہاں
جزا ہے غم کی تو مل جائے آج اے مانیؔکہ سو غموں کا ہے غم کل کا انتظار مجھے
سوز مانیؔ کا زمانہ میں ہے کس کو احساسآج پھر درد مرے پہلو میں بیکار اٹھا
لب پہ عیش عہد ماضی کا ہے افسانا ہنوزجا چکی ہے فصل گل اور میں ہوں دیوانا ہنوز
کامیابی ہو نہ ہو بیٹھا نہ رہ تدبیر کرمدعا بس میں نہیں ہے سعیٔ امکانی تو ہے
ہاں ازل سے جو مقدر ہے وہی ہوگا مگرجذبۂ تائید قدرت سعئ لا حاصل میں ہے
مانیؔ یہ سوزن نفس و رشتۂ وفالب ہائے شکوہ سنج سیے جا رہا ہوں میں
سانس گنتا ہوں تمنا میں کہ دیکھوں مانیؔغم دل کا ادب آموز فنا ہو جانا
تری امید وصل حور ہے اک زہد پر مبنیمگر واعظ مجھے ہر شیوۂ رندانہ آتا ہے
ثبت ہے آستاں پہ نقش سجودحسن تقدیر جبہہ سائی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books