aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shahida urooj khan"
شاہدہ عروج خان
شاعر
آنکھیں اس کی خوابدل کہتا ہے دیکھے جاؤں
یقیناً ہوا ہی میں نشتر ہیں شاہدؔکہ ہر شاخ گلشن ہوئی خوں چکیدہ
شاہدؔ نگار خانۂ صد رنگ ہے جہاںپھر بھی وہ نقش آنکھ سے اترا نہیں ابھی
ٹھوکریں کھا کے سنبھلتا نہیں لیکن شاہدؔکم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹا دیتا ہوں
آج کی رات بہ ہر حال نہ سونا شاہدؔہر گھڑی آنکھ میں اک خار چبھویا جائے
शाहिदाشاہِدَہ
گواہیِ دینے والی عورت
खन-खनکَھن کَھن
کھن کھن، چھن چھن کی آواز، کھرا پن
khankhan
خان
ख़नخَن
خانہ کا مخفف
شاہدؔ کہاں سے ہو کے گزرتی ہے آب جورنگت تمام سرخ ہے کیوں سطح آب کی
مردہ احراف بھی کرتے ہیں تکلم شاہدؔاپنا کچھ خون جگر لفظ کے اندر رکھ دے
نیند آتی ہے کہاں اجڑے مکاں میں شاہدؔکوئی آسیب کا ہر رات گماں رہتا ہے
شیداؔ کہاں وہ عیش وہ عشرت وہ انبساطمحفل میں جب وہ زینت محفل نہیں رہا
تمام سمتیں بھی تیری ہیں راستے بھی ترےکہاں ہے منزل شاہد جمالؔ تو جانے
خون شریانوں کا آنکھوں میں دکھائی دے سکےتو بھی دریا ہے اگر شاہدؔ تو طغیانی میں آ
زبان خلق پہ شاہد میں حرف تلخ رہااڑی نہ خاک مری گرد آبرو ہو کر
کشمکش دونوں جگہ دیکھ رہا ہوں شاہدؔاب نہ کعبے کا ارادہ ہے نہ بت خانے کا
اب کہاں روکے سے شاہدؔ رک سکیں گے انقلابجن کو آنا تھا وہ حد برہمی تک آ گئے
ہاتھ تو سرخ کئی دن سے ہیں ان کے شاہدؔخون ناحق ہے کہ ہے رنگ حنا دیکھو تو
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books