aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shahryar"
شہریار
1936 - 2012
شاعر
احمد شہریار
born.1983
حمایت علی شاعر
1926 - 2019
آغا شاعر قزلباش
1871 - 1940
عبدالحلیم شرر
1860 - 1926
مصنف
شہپر رسول
born.1956
شاعر جمالی
1943 - 2008
شاعر لکھنوی
1917 - 1989
شہریار پرداز
شہرام سرمدی
born.1975
کنور اخلاق محمد خاں شہر یار
born.1936
چاند ککرالوی
born.1979
شہریار لکھنوی
گنجن ناگر شاعر بکر
born.1984
صاحبہ شہریار
born.1953
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہےاس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے
شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کومیں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو
جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگاترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگا
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نےاس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے
سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کایہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کا
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
استاد شاعروں کی یہ غزلیں ہر اس شخص کو مہ زبانی یاد ہونگی جنہیں کلاسک اردو شاعری کا شوق ہے - آپ بھی اسکا لطف لیں -
ممتاز جدید شاعروں میں شامل، نغمہ نگار،فلم ’امراؤ جان‘ کے گیتوں کے لیے مشہور۔ بھارتیہ گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ۔
शहरयार شَہْریار
شہر کا حاکم یا میر، فرماں روائے شہر، شہر کا مالک، حاکم شہر
فارسی
शरर شَرَر
چنگاری، شرارہ، شرار
عربی
शरार شَرار
مجازاً جذبہ، حوصلہ
शहकार شَہْکار
بڑا کارنامہ، عظیم تخلیقی کارنامہ، کسی کام یا چیز کا بہترین نمونہ، کسی شخص کا بہترین کام، سب سے بڑا کارنامہ، کسی کام یا چیز کا بہترین نمونہ
سورج کو نکلتا دیکھوں
کلیات
اسم اعظم
مجموعہ
سرورالہدیٰ
سوانح حیات
حاصل سیر جہاں
اردو کی نئی کتاب
نصابی کتاب
اطہر پرویز
فرہنگ اردو فارسی
شریار نقوی
خواب کا در بند ہے
دھند کی روشنی
حاصل
میرے حصے کی زمیں
شام ہونے والی ہے
ناول
نیند کی کرچیں
شہر یار کی نثری کائنات
شہریار کی شعری خدمات
گلزار احمد
شاعری تنقید
ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیںان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں
دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئےبس ایک بار میرا کہا مان لیجئے
زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیںیہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں
شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہےرشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے
کیا کوئی نئی بات نظر آتی ہے ہم میںآئینہ ہمیں دیکھ کے حیران سا کیوں ہے
یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہےحد نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہے
گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہےاپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے
جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہےزندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہے
یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتامیں تجھ سے جدا ہو کے بھی تنہا نہیں ہوتا
شام ہوتے ہی کھلی سڑکوں کی یاد آتی ہےسوچتا روز ہوں میں گھر سے نہیں نکلوں گا
کون سی بات ہے جو اس میں نہیںاس کو دیکھے مری نظر سے کوئی
ہر ملاقات کا انجام جدائی کیوں ہےاب تو ہر وقت یہی بات ستاتی ہے ہمیں
ہے کوئی جو بتائے شب کے مسافروں کوکتنا سفر ہوا ہے کتنا سفر رہا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books