aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "taar-e-nigaah-e-huur"
بنگاہ ترجمہ ونشر کتاب تہران
ناشر
حلقۂ نیاز و نگار، کراچی
انجمن نگار ادب، کانپور
نگار ادب پبلیکیشنز، کراچی
ادارہ تاج و حجاب، لاہور
گلستان ادب اٹوا، سدھارتھ نگر، یو۔ پی۔
ای۔ روزن تال
مصنف
ابن احمد تاب
1931 - 1973
ادارہ تاج المعارف، دیوبند
بزم ادب، شکتی نگر
مکتبہ اثر نیا آزاد نگر مالیگاؤں
مطبع آفتاب عالم تاب، لکھنؤ
شہ تاج پبلی کیشنز، حیدرآباد
بزم کہکشاں، محبوب نگر حیدرآباد
خانقاہ تاج الوری اجمیر نگر، بنگال
لکھتا ہوں اس پری کی صفت چشم شوخ کیتار نگاہ حور ہو مسطر کے واسطے
تار نگاہ لطف سے پہلے رفو کریںپھر میرے زخم دل کی دوا چارہ جو کریں
توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہاخاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا
ڈرتے ہیں چشم و زلف و نگاہ و ادا سے ہمہر دم پناہ مانگتے ہیں ہر بلا سے ہم
جذب نگاہ شعبدہ گر دیکھتے رہےدنیا انہیں کی تھی وہ جدھر دیکھے رہے
عورت کو موضوع بنانے والی شاعری عورت کے حسن ، اس کی صنفی خصوصیات ، اس کے تئیں اختیار کئے جانے والے مرداساس سماج کے رویوں اور دیگر بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔ عورت کی اس کتھا کے مختلف رنگوں کو ہمارے اس انتخاب میں دیکھئے ۔
عید ایک تہوار ہے اس موقعے پر لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن عاشق کیلئے خوشی کا یہ موقع بھی ایک دوسری ہی صورت میں وارد ہوتا ہے ۔ محبوب کے ہجر میں اس کیلئے یہ خوشی اور زیادہ دکھ بھری ہوجاتی ہے ۔ کبھی وہ عید کا چاند دیکھ کر اس میں محبوب کے چہرے کی تلاش کرتا ہے اور کبھی سب کو خوش دیکھ کر محبوب سے فراق کی بد نصیبی پر روتا ہے ۔ عید پر کہی جانے والی شاعری میں اور بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ شعری انتخاب پڑھئے ۔
بیگم اختر کی گائی ہوئیں ١٠ مشهور غزلیں
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
محمد بدیع الزماں
شاعری
تیر نگاہ
ایم۔ اسلم
متاع نقد و نگاہ
مسیح الدین انصاری شارق
انتخاب
تار نظر
وہاب عندلیب
نگاہِ محبوب
ملک لاہوری
غزل
تار عنکبوت
رائیڈر ہیگرڈ
ناول
زاویہ نگاہ
انور صدیقی
نگاہ ناز
کرشن موہن
مجموعہ
م، ق، سلیم
نغمۂ تار حیات
زاہد کلیم
تروتازہ
اولاد رسول قدسی
مرکز نگاہ
مجاز نوری
زاویۂ نگاہ
سلطان اختر
خاكه
دل مست ہے لطف نگہ ناز تو دیکھوہے کتنا حسیں عشق کا آغاز تو دیکھو
دل سراپا وقف سوداے نگاہ تیز ہےیہ زمیں مثل نیستاں سخت ناوک خیز ہے
قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہمسب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم
کھا کے تیغ نگہ یار دل زار گرامردم دید پکارے کہ وہ سردار گرا
دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئےتیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئے
بچ گیا تیر نگاہ یار سےواقعی آئینہ ہے فولاد کا
مست نگاہ ناز کا ارماں نکالیےبے خود بنا کے بزم سے اے جاں نکالیے
تیر نگاہ ناز کا گھائل جگر نہیںدل خانۂ خدا ہے کسی بت کا گھر نہیں
وہ طلسم نگہ ناز کہاں بھولا ہےغم کی روداد کا آغاز کہاں بھولا ہے
وقف نگاہ ناز مرا دل نہ ہو سکایہ آئنہ بھی ان کے مقابل نہ ہو سکا
تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالیکیوں آپ نے عشاق پہ تلوار نکالی
کر رہا ہے سامنا تیر نگاہ ناز کااللہ اللہ یہ کلیجہ عاشق جانباز کا
تمہاری تیغ نگاہ معجز نما نے بے موت جس کو ماراتو پاسبانی میں اس شہید وفا کی آکر اجل رہی ہے
لطف نگاہ ناز کی تہمت اٹھائے کونکچھ دیر کی بہار کو خاطر میں لائے کون
وہ کون ہے جو ہلاک نگاہ ناز نہیںمیں کچھ نہیں ہوں اگر چشم امتیاز نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books