aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "yaasir"
یاسر خان انعام
born.1986
شاعر
عاطف وحید یاسر
born.1985
خالد اقبال یاسر
born.1952
عمار یاسر مگسی
born.1979
یاسر رضا آصف
born.1984
علی یاسر
1976 - 2020
یاسر رامپوری
born.1996
سید یاسر گیلانی
born.1992
یاسر جواد
مدیر
ڈاکٹر یاسین عاطر
born.1955
یاسر ملک
born.2002
محمد یاسر مصطفوی
یاسر تحسین
یاسر شاہ راشدی
born.1982
یاسر ابوالعاص
born.2006
تم اس کے پاس ہو جس کو تمہاری چاہ نہ تھیکہاں پہ پیاس تھی دریا کہاں بنایا گیا
ہم نے کب چاہا کہ وہ شخص ہمارا ہو جائےاتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارہ ہو جائے
یتیم آنسو یسیر آنسونہ معتبر تھا
تمہارے خط میں نظر آئی اتنی خاموشیکہ مجھ کو رکھنے پڑے اپنے کان کاغذ پر
زمیں بنائی گئی آسماں بنایا گیابرائے عشق یہ سارا جہاں بنایا گیا
यासिर یاسِر
طرف چپ، بائیں طرف، نیز جواری، قمار باز، ایک نام
عربی
नासिर ناصِر
مددگار، حامی، معاون، مدد کرنے والا، فتح و نصرت بخشنے والا
नासिर ناثِر
جو نثر میں تالیف و تصنیف کرے، نثر لکھنے والا، نثر نگار، مضمون نگار، نثار
बासी باسی
رات کا بچا ہوا، رات بسے کا، رات کا یا اس سے پہلے کا رکھا ہوا (کھانا یا پھول وغیرہ)
سنسکرت
گلوبلائزیشن اور اسلام
مولانا یاسر ندیم
اسلامیات
غلام عباس سوانح و فن کا تحقیقی جائزہ
سویا مانے یاسر
تنقید
ادبی۔ فکری تحریکات اور اقبال
ادبی تحریکیں
غزل بتائے گی
غزل
گردش
اردو تحقیق دائرہ کار امکانات اور مسائل
ایس محمد یاسر
تحقیق و تنقید
مرزا دبیر کی فارسی شاعری نقد و تفہیم
ڈاکٹر یاسر عباس
زبان و ادب
نقدو تفہیم
انداز
نظم
رخصتی
در و بست
مجموعہ
دیوان یسیر
امیر علی خان
دیوان
آفتاب ایشیا یاسر عرفات
اظہر حسین راہی
سیاسی
جو گرہیں کھول دی جائیں
احوال و آثار
آنکھوں کو کچھ خواب دکھا کر مانیں گےآپ ہمارے ہوش اڑا کر مانیں گے
رہتی ہے ساتھ ساتھ کوئی خوش گوار یادتجھ سے بچھڑ کے تیری رفاقت گئی نہیں
اٹھا لیا ہے قلم اب تو میں نے بھی یاسرؔاتار ڈالوں گا ساری تھکان کاغذ پر
دل تو کرتا ہے کہ بارش میں نہائیں یاسرؔگھر جو کچا ہو تو برسات سے ڈر لگتا ہے
ہوا لئے ہوئے پھرتی ہے قینچیاں یاسرؔبڑے حساب سے اپنے پروں کو کھولنا ہے
اپنا چہرہ تھا کبھی جن کی تمنا یاسرؔاب وہ کہتے ہیں نکل جاؤ یہ صورت لے کر
مری چیخوں سے کمرہ بھر گیا تھاکوئی کل رات مجھ میں مر گیا تھا
تمہارے کام اگر آئے مسکرانے میںتو کوئی حرج نہیں میرے ٹوٹ جانے میں
اس کی باتوں میں محبت ہے بلا کی یاسرؔاس کے لہجے سے جھلکتا ہے بلا کا مطلب
کسی نے حال جو پوچھا کبھی محبت سےلپٹ کے رویا بہت دیر اس سے شدت سے
یوں ترے شہر سے ہم یار چلے آتے ہیںجیسے کعبے سے گنہ گار چلے آتے ہیں
عشق جیسے کہیں چھونے سے بھی لگ جاتا ہوکون بیٹھے گا بھلا آپ کے بیمار کے ساتھ
اس کے ہاتھوں میں وہ تاثیر مسیحائی تھیسوکھتے پیڑ سے بھی شاخ نکل آئی تھی
مجھے وہ غم ہے کہ ساری زمین رونے لگےجو اشک پونچھ دوں تو آستین رونے لگے
واپسی کا کوئی رستہ نہیں ملتا یاسرؔکشتیاں اپنی میں پہلے ہی جلا بیٹھا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books