aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "پردیسی"
زندگی کم پڑھے پردیسی کا خط ہے عبرتؔیہ کسی طرح پڑھا جائے نہ سمجھا جائے
اس کی ہنسی تم کیا سمجھووہ جو پہروں رویا ہے
ان کی نگاہ ناز کی گردش کے ساتھ ساتھمحسوس یہ ہوا کہ زمانہ بدل گیا
اے انقلاب نو تری رفتار دیکھ کرخود ہم بھی سوچتے ہیں کہ اب تک کہاں رہے
شریک درد نہیں جب کوئی تو اے شوکتؔخود اپنی ذات کی بے چارگی غنیمت ہے
اپنے پرائے تھک گئے کہہ کر ہر کوشش بیکار رہیوقت کی بات سمجھ میں آئی وقت ہی کے سمجھانے سے
ہوش والے تو الجھتے ہی رہےراستے طے ہوئے دیوانوں سے
حسن اخلاص ہی نہیں ورنہآدمی آدمی تو آج بھی ہے
قریب سے اسے دیکھو تو وہ بھی تنہا ہےجو دور سے نظر آتا ہے انجمن یارو
نگاہ کو بھی میسر ہے دل کی گہرائییہ ترجمان محبت ہے بے زباں نہ کہو
اگر تم مل بھی جاتے تو نہ ہوتا ختم افسانہپھر اس کے بعد دل میں کیا خبر کیا آرزو ہوتی
وہ آنکھیں جو اب اجنبی ہو گئی ہیںبہت دور تک ان میں پایا گیا ہوں
زندگی سے کوئی مانوس تو ہو لے پہلےزندگی خود ہی سکھا دے گی اسے کام کی بات
کچھ تو فطرت سے ملی دانائیکچھ میسر ہوئی نادانوں سے
کسی کی بازی کیسی گھاتوقت کا پانسہ وقت کی بات
تم ہی اب وہ نہیں رہے ورنہوہی عالم وہی خدائی ہے
کیا بڑھے گا وہ تصور کی حدوں سے آگےصبح کو دیکھ کے یاد آئے جسے شام کی بات
ادھورا ہو کے ہوں کتنا مکملبہ مشکل زندگی بکھرا ہوا ہوں
ہوائیں روک نہ پائیں بھنور ڈبو نہ سکےوہ ایک ناؤ جو عزم سفر کے بعد چلی
اس فیصلے پہ لٹ گئی دنیائے اعتبارثابت ہوا گناہ گنہ گار کے بغیر
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books