aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aaseb"
نہ جانے کون سا آسیب دل میں بستا ہےکہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا
شہر میں جیسے کوئی آسیب ہےشہر میں مدت سے ہنگامہ نہیں
نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوںابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں
رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھااپنا ہونا اور نہ ہونا مبہم تھا
آپ ہی آپ دیے بجھتے چلے جاتے ہیںاور آسیب دکھائی بھی نہیں دیتا ہے
منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہےکہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
دل کو کسی کی یاد سے خالی نہ کیجیےآسیب رہنے لگتے ہیں خالی مکان میں
محبت زلف کا آسیب جادو ہے نگاہوں کامحبت فتنۂ محشر بلائے ناگہانی ہے
بند پڑے ہیں شہر کے سارے دروازےیہ کیسا آسیب اب گھر گھر لگتا ہے
روز آسیب آتے جاتے ہیںایسا کیا ہے غریب خانے میں
کھولو نہ کوئی عیب کسی کا بھی یہاں پرآسیب کو مل جائے گا دروازہ کھلا سا
چاہے اب آپ بھی مجھے آسیب ہی کہیںخود منتخب کیا ہے یہ اجڑا ہوا مکاں
دل کو ہم کب تک بچائے رکھتے ہر آسیب سےٹھیس آخر لگ گئی شیشے میں بال آ ہی گیا
کہیو خودبیں سے کہ آئینہ میں تنہا مت بیٹھخطر آسیب کا رہتا ہے پری خانے میں
ایک آسیب تعاقب میں لگا رہتا ہےمیں جو رکتا ہوں تو پھر اس کی صدا چلتی ہے
ایک آسیب ہے ہر اک گھر میںایک ہی چہرہ در بدر چمکے
کیوں بام پہ آوازوں کا دھمال ہے اجملؔاس گھر پہ تو آسیب کا سایہ بھی نہیں ہے
ہماری وحشت کسی پرانے کھنڈر کے آسیب کی امانتہماری غزلیں ہماری دیوی کی ایک ترچھی نظر کا صدقہ
گھر میں آسیب زلزلے کا ہےاس لیے خود میں ہی سمٹ کے ہیں
مرے تعویذ آ میرے گلے پڑمرے آسیب باہر آ رہے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books