aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "big.de"
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملاان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کیدشمنی کا بھی حق ادا نہ ہوا
زخم بگڑے تو بدن کاٹ کے پھینکورنہ کانٹا بھی محبت سے نکال
تم کو آنا ہے تو آ جاؤ اسی عالم میںبگڑے حالات غریبوں کے سنورتے ہیں کہیں
تشنگی خاک بجھے اشک کی طغیانی سےعین برسات میں بگڑے ہے مزا پانی کا
آپ آئے بن پڑی میرے دل ناشاد کیآپ بگڑے بن گئی میرے دل ناشاد پر
نگہ لطف میں ہے عقدہ کشائی مضمرکام بگڑے ہوئے بندوں کے سنور جاتے ہیں
میں نے یوسف جو کہا کیوں بگڑےمول لے لے گا کوئی بک جائے گا؟
جس تناظر میں بھی دیکھو خوش جمالوں کو خلشؔزاویہ بگڑا نظر کا سارے بگڑے زاویہ
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
وہ دن گئے کہ محبت تھی جان کی بازیکسی سے اب کوئی بچھڑے تو مر نہیں جاتا
اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیںبھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئیاک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانیجھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوستہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھا
جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہاس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوںکار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہیجس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے
عجیب لطف کچھ آپس کی چھیڑ چھاڑ میں ہےکہاں ملاپ میں وہ بات جو بگاڑ میں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books