aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "faasid"
سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیںجس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں
واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سےوہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے
سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگہم لوگ بھی فقیر اسی سلسلے کے ہیں
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئیکہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
پرانے یار بھی آپس میں اب نہیں ملتےنہ جانے کون کہاں دل لگا کے بیٹھ گیا
میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیںصرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا
عشق ہے عشق یہ مذاق نہیںچند لمحوں میں فیصلہ نہ کرو
امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدورکہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے
تیرے جانے میں اور آنے میںہم نے صدیوں کا فاصلہ دیکھا
عمر بھر ملنے نہیں دیتی ہیں اب تو رنجشیںوقت ہم سے روٹھ جانے کی ادا تک لے گیا
اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتاکب سے میں نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں
ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شرابآئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوںمیں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں
میں ترے در کا بھکاری تو مرے در کا فقیرآدمی اس دور میں خوددار ہو سکتا نہیں
کچھ لوگ تو خلاف ہوں حاسد کوئی تو ہوکیا لطف سیدھی سادی محبت میں آئے گا
دیکھنے والو تبسم کو کرم مت سمجھوانہیں تو دیکھنے والوں پہ ہنسی آتی ہے
بہت سکون سے رہتے تھے ہم اندھیرے میںفساد پیدا ہوا روشنی کے آنے سے
رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیںجن کو مجبورئ حالات نے رونے نہ دیا
تری اداؤں کی سادگی میں کسی کو محسوس بھی نہ ہوگاابھی قیامت کا اک کرشمہ حیا کے دامن میں پل رہا ہے
میرا قاتل ہی میرا منصف ہےکیا مرے حق میں فیصلہ دے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books