aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "misl-e-parvaana"
مثل پروانہ فدا ہر ایک کا دل ہو گیایار جس محفل میں بیٹھا شمع محفل ہو گیا
نہ سہی جسم مگر خاک تو اڑتی پھرتیکاش جلتے نہ کبھی بال و پر پروانہ
سمٹا ترا خیال تو گل رنگ اشک تھاپھیلا تو مثل دشت وفا پھیلتا گیا
یوں تو ہم تھے یوں ہی کچھ مثل انار و مہتابجب ہمیں آگ دکھائے تو تماشا نکلا
نکل گیا مری آنکھوں سے مثل خواب و خیالگزر گیا دل روشن سے وہ نظر بن کر
دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بیتابی کوہجر اچھا نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے
دل کو ترے فراق کی آرزو یاد رہ گئیدن وہ محبتوں کے بھی مثل رہ سفر گئے
شامل ہوئے ہیں بزم میں مثل چراغ ہماب صبح تک جلیں گے لگاتار دیکھنا
شگفتہ باغ سخن ہے ہمیں سے اے صابرؔجہاں میں مثل نسیم بہار ہم بھی ہیں
جانے کیا محفل پروانہ میں دیکھا اس نےپھر زباں کھل نہ سکی شمع جو خاموش ہوئی
شمع جلتے ہی یہاں حشر کا منظر ہوگاپھر کوئی پا نہ سکے گا خبر پروانہ
سایہ سے اپنے وحشت کرتے ہیں مثل آہومشکل ہے ہاتھ لگنا از خود رمیدکاں کا
مثل آئینہ با صفا ہیں ہمدیکھنے ہی کے آشنا ہیں ہم
نئی شمعیں جلاؤ عاشقی کی انجمن والوکہ سونا ہے شبستان دل پروانہ برسوں سے
مثل طفلاں وحشیوں سے ضد ہے چرخ پیر کوگر طلب منہ کی کریں برسائے پتھر سیکڑوں
زندگی مثل کہکشاں ہوتیکاش میری بھی آج ماں ہوتی
شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برقوہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
ہم سرگزشت کیا کہیں اپنی کہ مثل خارپامال ہو گئے ترے دامن سے چھوٹ کر
ساری مخلوق تماشے کے لیے آئی تھیکون تھا سیکھنے والا ہنر پروانہ
شب و روز نخل وجود کو نیا ایک برگ انا دیاہمیں انحراف کا حوصلہ بھی دیا تو مثل دعا دیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books