aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naa-qaabil-e-e'tibaar"
آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووےگر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووے
کشتئ اعتبار توڑ کے دیکھکہ خدا بھی ہے نا خدا ہی نہیں
آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہآئینہ تھا تو مگر قابل دیدار نہ تھا
طبع کہہ اور غزل، ہے یہ نظیریؔ کا جوابریختہ یہ جو پڑھا قابل اظہار نہ تھا
رہ نہ سکے خودی میں مست ہو نہ سکے خدا میں جذبمفت ہوئے ذلیل و خوار کوچۂ اعتبار میں
غم عاقبت ہے نہ فکر زمانہپئے جا رہے ہیں جئے جا رہے ہیں
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہےتلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے
شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئیکبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیا
نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنانہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا
مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظنشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل
طوفاں سے بچ کے ڈوبی ہے کشتی کہاں نہ پوچھساحل بھی اعتبار کے قابل نہیں رہا
جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بارابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابل
عالمؔ دل اسیر کو سمجھاؤں کس طرحکمبخت اعتبار کے قابل نہیں ہے وہ
مجھے ہے اعتبار وعدہ لیکنتمہیں خود اعتبار آئے نہ آئے
مرے جنوں پہ تمہیں اعتبار آئے نہ آئےیہ سر کا زخم کھلے گا بہار آئے نہ آئے
کسی مرض کی دوا چشم اشکبار نہیںنہ انتظار کے قابل نہ خواب کے قابل
خواہش وصل سے خط پڑھنے کے قابل نہ رہالپٹے الفاظ سے الفاظ مکرر ہو کر
یہ محفل آج نا اہلوں سے جو معمور ہے واصفؔاسی محفل میں کوئی جوہر قابل بھی آئے گا
نے گل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہے اعتبارکس بات پر چمن ہوس رنگ و بو کریں
یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبارمہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books