aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saaz-e-hunar"
لہو ہی کتنا ہے جو چشم تر سے نکلے گایہاں بھی کام نہ عرض ہنر سے نکلے گا
ہر بزم کیوں نمائش زخم ہنر بنےہر بھید اپنے دوستوں کے درمیاں نہ کھول
مرے لہو کو مری خاک ناگزیر کو دیکھیونہی سلیقۂ عرض ہنر نہیں آیا
قائمؔ میں ریختہ کو دیا خلعت قبولورنہ یہ پیش اہل ہنر کیا کمال تھا
دیار فکر و ہنر کو نکھارنے والاکہاں گیا مری دنیا سنوارنے والا
یہ تماشائے علم و ہنر دوستوکچھ نہیں ہے فقط کاغذی وہم ہے
اس کی مٹھی میں جواہر تھے نظر میری طرفاور مجھے پیرایۂ عرض ہنر آتا نہ تھا
دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحرہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
اسی کو بات نہ پہنچے جسے پہنچنی ہویہ التزام بھی عرض ہنر میں رکھا جائے
اہل ہنر کی آنکھوں میں کیوں چبھتا رہتا ہوںمیں تو اپنی بے ہنری پر ناز نہیں کرتا
شاید اسی کا نام جمود حیات ہےاہل ہنر کو فرصت کسب ہنر نہیں
کیا خبر تھی اس قدر پر کیف نغمے ہیں نہاںزندگی کو ایک ساز بے صدا سمجھا تھا میں
سچائی کی خوشبو کی رمق تک نہ تھی ان میںوہ لوگ جو بازار ہنر کھولے ہوئے تھے
جنس ہنر مذاق خریدار دیکھ کرخود بے نیاز چشم خریدار ہو گئی
مری زندگی کا محور یہی سوز و ساز ہستیکبھی جذب والہانہ کبھی ضبط عارفانہ
مال و زر کی قدر کیا؟ خون جگر کے سامنےاہل دنیا ہیچ ہیں اہل ہنر کے سامنے
زخم نگاہ زخم ہنر زخم دل کے بعداک اور زخم تجھ سے بچھڑ کر ملا مجھے
شاعری علم و ہنر مذہب سیاست بعد میںسب سے پہلے آدمی انسان ہونا چاہیے
بکھرا بکھرا سا ساز و ساماں ہےہم کہیں دل کہیں عقیدہ کہیں
انتظار اور دستکوں کے درمیاں کٹتی ہے عمراتنی آسانی سے تو باب ہنر کھلتا نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books