aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "thirak"
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوںآخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیںکچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں
تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کواب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں
یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میںخدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے
یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھاہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیںشکریہ مشورت کا چلتے ہیں
دل کو سنبھالے ہنستا بولتا رہتا ہوں لیکنسچ پوچھو تو زیبؔ طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی
تمہیں بھی نیند سی آنے لگی ہے تھک گئے ہم بھیچلو ہم آج یہ قصہ ادھورا چھوڑ دیتے ہیں
ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہےآپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
تھک گئے ہم کرتے کرتے انتظاراک قیامت ان کا آنا ہو گیا
تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھیجی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھی
ترے بغیر تیرے انتظار سے تھک کرشب فراق کے ماروں کو نیند آئی ہے
ٹھیک ہے جاؤ تعلق نہ رکھیں گے ہم بھیتم بھی وعدہ کرو اب یاد نہیں آؤ گے
چل چل کے تھک گیا ہے کہ منزل نہیں کوئیکیوں وقت ایک موڑ پہ ٹھہرا ہوا سا ہے
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہوکوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو
تھک تھک کے تری راہ میں یوں بیٹھ گیا ہوںگویا کہ بس اب مجھ سے سفر ہو نہیں سکتا
پڑھتے پڑھتے تھک گئے سب لوگ تحریریں مریلکھتے لکھتے شہر کی دیوار کالی ہو گئی
کبھی موج خواب میں کھو گیا کبھی تھک کے ریت پہ سو گیایوں ہی عمر ساری گزار دی فقط آرزوئے وصال میں
مسافر چلتے چلتے تھک گئے منزل نہیں ملتیقدم کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہو فاصلہ جیسے
تعلقات میں گہرائیاں تو اچھی ہیںکسی سے اتنی مگر قربتیں بھی ٹھیک نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books