aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".rap"
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہےستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھتو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائےہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
میں اپنی راہ میں دیوار بن کے بیٹھا ہوںاگر وہ آیا تو کس راستے سے آئے گا
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جاکہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
دیر سے سوچ میں ہیں پروانےراکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں
موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی
بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی
اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میںرات دن تیری انتظاری ہے
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیںجو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھیکبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہےہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہوسامنے پھر وہ بے نقاب آئے
ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گاتمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگاکریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھااس رات کی تقدیر سنور جائے تو اچھا
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دیبڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تراکچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا
بھیگی ہے رات فیضؔ غزل ابتدا کرووقت سرود درد کا ہنگام ہی تو ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books