aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "andaaz-e-sitam"
انداز ستم ان کا نہایت ہی الگ ہےگزری ہے جو دل پر وہ قیامت ہی الگ ہے
ہر نام ہر انداز ستم عام نہیں ہےلیں لطف ستم سب کا تو یہ کام نہیں ہے
لطف آمیز ہر انداز ستم ہوتا ہےدرد بیمار نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے
انداز ستم ان کا دیکھے تو کوئی حسرتؔملنے کو تو ملتے ہیں نشتر سے چبھوتے ہیں
کرم میں بھی نہ ہوں مخفی جفائیںکہ انداز ستم جو گونا گوں ہے
کسی پہلو کسی کروٹ نہ چین آیا نہ نیند آئییہ انداز ستم تیر جگر افگار میں دیکھا
بیداد تغافل سے تو بڑھتا نہیں غم اورمیرے لئے سیکھو کوئی انداز ستم اور
واقف ہیں وہ خود اپنے ہر انداز ستم سےہم کیسے کہیں دل میں ہیں زخموں کے نشاں اور
اس کا انداز ستم پوچھ نہ مجھ سے اے طبیباس نے خنجر سے بھی مارا مجھے شمشیر کے بعد
دیدنی ہے یہ توجہ بھی بہ انداز ستمعمر بھر شیشۂ خالی سے پلاتا ہے مجھے
افسون کرم دیکھو انداز ستم دیکھوہر موج شکر خندہ شمشیر نظر آئی
تمہارے ناز و انداز ستم کے ہم بھی قائل ہیںنہ جانے کس لیے رہتے ہو پھر بھی بد گماں لوگو
یہ ہم پر لطف کیسا یہ کرم کیابدل ڈالے ہیں انداز ستم کیا
اس کا انداز ستم ہم کو بہت راس آیاورنہ دنیا کے ستم اور اٹھاتے کیسے
کوئی بھولا ہوا انداز ستم یاد آیاکہ تبسم تجھے ظالم دم بیداد آیا
کس طرح پھر کوئی امید کرم ہو دل میںجبکہ انداز ستم حوصلہ افزا نہ ہوا
ظالم نے بدل ڈالا ہے انداز ستم ابپہناتا ہے ہم کو ہی وہ زنجیر ہماری
سب کرم ہے ترے انداز ستم سے اے دوستذوق غم دل کو نہ تھا تیرے ستم سے پہلے
ان کے انداز ستم کا ہے تقاضا باسطؔعہد کر لیجئے مر مر کے جئے جانے کا
ہے یہ انداز ستم گرم ہواؤں کا ضیاؔپیڑ کے جسم پہ باقی نہیں پتہ کوئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books