aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "angar"
وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتےاگر گمان میں انگار قبر آ جاتا
ابھی نہیں ہے مجھے سرد و گرم کی پہچانیہ میرے ہاتھوں میں انگار تھا کہ ژالہ تھا
جانے کس کا لہجہ اس پر حاوی ہےاس کی باتیں اب انگار اگلتی ہیں
اک خواب دیکھنے میں ہی ہم صرف ہو گئےانگار زندگی کا جلایا نہیں گیا
سہل انگار طبیعت کا برا ہو جس سےناز اٹھتے ہیں ترے اور نہ ستم اٹھتے ہیں
دھواں دھنک ہوا انگار پھول بنتے گئےتمہارے ہاتھ بھی کیا معجزے دکھانے لگے
دلی والوں کی زباں میں جسے دل کہتے ہیںسرخ انگار تھا برباد کیا ہے میں نے
سرمدؔ تپش نار سخن میں ہوں کہ مجھ کوگل کرتا رہا شعلہ و انگار میں رہنا
باہر نہ دھواں ہے نہ سلگنے کا نشاں ہےاندر سے بھڑکتے ہوئے انگار تو سب ہیں
صحت اگر ہے ٹھیک تو بچہ نہ آئیں گےماں باپ کو یہ چاہیئے بیمار بھی رہیں
ہوا سے کہیو آہستہ چھوئے نازک بدن اس کاوگرنہ سمجھا دے گی اچھے سے انگار کا مطلب
حور پریوں کے جمال انگار پہ آنے لگےجب مرے محبوب کچھ سنگار پہ آنے لگے
دہکتے کیوں نہیں اے دل بجھے انگار ہو کیارکی ہے جو زباں تک آ کے وہ گفتار ہو کیا
زخم جب بھی مندمل ہونے لگےگل مکھی انگار ہو کر رہ گئی
انگار تجلی نہیں شبنم بھی نہیں ہےآنکھوں میں کوئی وادیٔ نیلم بھی نہیں ہے
بس ہاتھ سے چھونے پر محسوس تمہیں ہوگاسویا ہے کوئی دریا انگار میں پہلے سے
ضرورت تیری ہوگی جس کو ہوگیمجھے کافی ہے یہ انگار میرا
اک دیا جلتا رہا تا دیر کوہ ہجر پرایک انگار وفا کی شعلگی آنکھوں میں تھی
ایک دھوکے پہ ٹکی ہے تری دنیا مالکاشک کو روک لے انگار نہ ہونے پائے
یہ دل ہے کہ گل نازک عجب ہے اس کا مستقبلاسے انگار بن کے درد کی منقل میں رہنا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books