aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daar"
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کیسو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پرکیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہیتمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے
جل اٹھے بزم غیر کے در و بامجب بھی ہم خانماں خراب آئے
ہے اسے دور کا سفر در پیشہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گاوقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا
اتنے خائف کیوں رہتے ہوہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مراسخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا
سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہےبا وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
جو نہ آیا اسے کوئی زنجیر درہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر
اب ہے بس اپنا سامنا در پیشہر کسی سے گزر گیا ہوں میں
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوںروئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیںورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے
وہ راحت جاں ہے مگر اس در بدری میںایسا ہے کہ اب دھیان ادھر بھی نہیں جاتا
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترےاے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دمبرسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیںاتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
زندگی تو کب تلک در در پھرائے گی ہمیںٹوٹا پھوٹا ہی سہی گھر بار ہونا چاہئے
میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارےتو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو
خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داںپر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books