aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "duud-e-sar-e-bazm"
تھے بزم میں سب دود سر بزم سے شاداںبیکار جلایا ہمیں روشن نظری نے
اور کوئی بات سر بزم سخن کب نکلیبس تری بات ہی نکلی ہے یہاں جب نکلی
اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرحپھول پھینکا بھی مری سمت تو پتھر کی طرح
سنائیں کیسے سر بزم خار ہونے کا دکھاور ایک بار نہیں بار بار ہونے کا دکھ
گر کے قدموں پہ سر بزم تڑپنا دیکھامرنے والے کا مری جان تماشا دیکھا
بے اختیار ہم جو سر بزم رو دئےکتنے سنہرے خواب ان آنکھوں نے کھو دئے
اس کی آنکھوں نے سر بزم ٹھہرنے نہ دیاصبر مظلوم کو ظالم کی نظر نے نہ دیا
کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائےکچھ کیا جائے چراغوں کو بجھایا جائے
سر بزم انگلی اٹھانے سے پہلےخود آئینہ دیکھو دکھانے سے پہلے
وہ جانے کتنا سر بزم شرمسار ہواسنا کے اپنی غزل میں قصوروار ہوا
سر بزم طلب رقص شرر ہونے سے ڈرتی ہوںکہ میں خود پر محبت کی نظر ہونے سے ڈرتی ہوں
آ گیا کون سر بزم یہ ساقی بن کےزندگی جھوم اٹھی طرفہ شرابی بن کے
ہر ذرہ چشم شوق سر رہ گزر ہے آجدل محو انتظار ہے اور کس قدر ہے آج
وہ شمع سر بزم پگھل جائے تو کیا ہوپروانے کی تقدیر بدل جائے تو کیا ہو
آج بھی اس نے سر بزم سنی بات نہیںاور یہ بات مرے دوست نئی بات نہیں
ہر موڑ کو چراغ سر رہ گزر کہوبیتے ہوئے دنوں کو غبار سفر کہو
بجھا بجھا سا چراغ سر مزار ہوں میںخزاں نے جس کو سنوارا ہے وہ بہار ہوں میں
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سر بزم رات یہ کیا ہوامری آنکھ کیسے چھلک گئی مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیںناوک ناز کلیجے میں اتر جاتے ہیں
کیوں التجائے شوق سر بزم کی گئیسننا تو درکنار یہاں بات بھی گئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books