aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shelf"
یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکنشیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح
شیلف میں رکھی ہوئی اپنی کتابوں میں سےکوئی دیوان اٹھاؤ گے تو یاد آؤں گا
شیلف پر رکھی کتابیں سوچتی ہیں رات دنگھر سے دفتر کا سفر کتنا سہانا ہو گیا
شیلف پہ الٹا کر کے رکھ دو اور بسرا دوگل دانوں میں پھول سجاؤ خواب کا کیا ہے
دل کے شیلف میں شاہدؔ کتنییادوں کے البم ہوتے ہیں
ہر شیلف پر سجے ہیں مگر دشمنوں کے سرناداں تیرا دماغ ہے مقتل نہ کر اسے
اس نے کتاب کھول کے رکھ دی ہے شیلف میںمیری قبائے وصل کو کب مل سکا وجود
کمرے کی شیلف پر ہے سجی بدھ کی مورتیگلدان میں چنی ہوئی جنگل کی گھاس ہے
کچھ اس طرح دیا ترتیب عاقبت کا گھرگناہ شیلف پہ رکھے ثواب ردی میں
ورق ورق یوں ہی پھرتا رہوں کہاں تک میںکتاب جان کے بک شیلف پر سجا مجھ کو
جھانکتی ہیں سب کتابیں شیلف سےمیز پر ہیں انگلیاں رکھی ہوئیں
ٹپکا ہے خون شیلف سے طاہرؔ زمین پرکس کس کتاب میں مری چٹھی حنوط تھی
مرا کلام بھی میری ہی طرح ہے نقویؔاب اس کے شیلف میں کب دیکھیے کتاب سجے
آ جائے تو تنہائی کے اس شیلف سے نکلوںکھل جاؤں کتابوں کی طرح اور پڑھے وہ
یہاں کتابوں سے جھڑتی ہیں بھربھری صدیاںاور ایک شیلف کے خانوں سے ریت اڑتی ہے
ایک اداسی شیلف سے لپٹی سسکیاں لیتی رہتی ہےجانے والا چھوڑ گیا ہے دکھ ایسا الماری میں
کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہےپھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے
آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیںلیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں
عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیےدنیا کو حال ہی نہیں حلیہ بھی چاہیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books