aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",Fjk"
نسترن میں ناز باقی ہے نہ گل میں رنگ و بواب تو ہے صحن چمن میں خار و خس کی آبروخوردنی چیزوں کے چہروں سے ٹپکتا ہے لہوروپئے کا رنگ فق ہے اشرفی ہے زرد رو
چہرہ کسی کا جل گیا آنکھیں جھلس گئیںچھائی کسی کی جل گئیں باہیں جھلس گئیںٹانگیں بچیں کسی کی تو رانیں جھلس گئیںمونچھیں کسی کی پھک گئیں پلکیں جھلس گئیںرکھے کسی کی داڑھی پہ چنگاری شب برات
میں نے دیکھا ہے کہ افلاس کے صحراؤں میںقافلے عظمت احساس کے رک جاتے ہیںبے کسی گرم نگاہوں کو جھلس دیتی ہےدل کسی شعلۂ زرتاب سے پھک جاتے ہیں
شروع شروع میں اچنبھے اچھے لگتے تھےشوق بھی تھا اور دن بھی بھلے تھےاچھے لوگوں سے ملنے کا شوق جنون کی حد تکہر لمحہ بیتاب لیے پھرتا تھاجب کوئی اپنا ہیرواپنے آدرش کا پیکر سامنے آتاجی یہ چاہتاآنکھیں بچھائیں دل میں بٹھائیںباتیں سنیں اتنی باتیںسیل زماں سے اونچی باتیںدل کے گہرے غم کی باتیںدوری اور نزدیکیلفظ بہت چھوٹے ہیںان لفظوں کو پرکھو توانسان اور بھی چھوٹے نکلتے ہیںپاس بلا کر جسے دیکھواس کا چہرہ فق بے رنگبھبھوت کی صورت کالا کالاکیا سورج بہت نیچے آ گیا ہےکیا ماؤں نے بچے جن کردودھ پلانا چھوڑ دیا ہےگولیاں کھا کے دودھ کے سوتےخشک کرنے والی ماؤںپلاسٹک کے بیگز میں رات رات بھربچوں کا پیشاب جذب کرنے والی ماؤںنیند تمہاری بہت میٹھی ہےٹھیک ہے تم بھی بے بس ہومرد گھروں سے غائب ہوں توماں کی مامتا بلک بلک کرنیند کی گولی کے آنگن میں سو ہی جایا کرتی ہےخواب آور گولییہ بھی تو آج کی اہم ضرورت ہےمصنوعی پلکیں آنکھوں سے اتار کےاصلی چہرہ مت دیکھوگولیاں کھاؤ سو جاؤ آرام کروصبح تمہارے سر کے اوپر سورج کیاور بھی گرم شعاعیں رقص کریں گیاچھے لوگ صبح کو کچھ اور شام کو کچھاور رات کو ان کے خون کی طغیانی میںان کے ہاتھ اور ان کی آنکھیںبالکل جنگلی چوہے جیسی معلوم ہوںپہلے پہل یہ اچنبھا تھاخوف کی تہ میں انجانے کو جاننے کی خواہشمکڑی کے جالے کی مانند پھیلیپہلے پہل پستانوں میں درد کی ٹیسیں بہت اٹھیںپھر یاد نہیںمصنوعی پلکیں اتنی لمبی ہیںمیں اپنے پیر کے نقش کے آگے دیکھ نہیں سکتی ہوںکہتے ہیں کہ ہوا چلی ہےکھیپ نئے لوگوں کیجن کو اچھا کہنے والے ساتھ ساتھ ہیںپہنچ گئے ہیں شہر کنارےسورج اب تو اتنا نیچے آ پہنچا ہےاس کو اٹھا کے دور کسی کونے میں دفن کرورات کی چادر اوڑھنے سے پہچان کا رشتہشکر خدایا ٹوٹ تو جاتا ہےاے رب تو والیٔ کون و مکاںتو سب کے دلوں کے حال سے واقف ہےتو ہم کو بتا ہم کیا سوچیںہم نے خواہشوں کے سارے پرندے اڑا دئے ہیں
چاندی کی انگوٹھی پہ جو سونے کا چڑھا جھولاوچھی تھی لگی بولنے اترا کے بڑا بولاے دیکھنے والو تمہی انصاف سے کہناچاندی کی انگوٹھی بھی ہے کچھ گہنوں میں گہناچاندی کی انگوٹھی کے نہ میں ساتھ رہوں گیوہ اور ہے میں اور یہ ذلت نہ سہوں گیمیں قوم کی اونچی ہوں بڑا میرا گھراناوہ ذات کی گھٹیا ہے نہیں اس کا ٹھکانامیری سی کہاں چاشنی میرا سا کہاں رنگوہ مول میں اور تول میں میرے نہیں پاسنگمیری سی چمک اس میں نہ میری سی دمک ہےچاندی ہے کہ ہے رانگ مجھے اس میں بھی شک ہےیہ سنتے ہی چاندی کی انگوٹھی بھی گئی جلاللہ رے ملمع کی انگوٹھی تیرے چھل بلسونے کی ملمع پہ نہ اترا میری پیاریدو دن میں بھڑک اس کی اتر جائے گی ساریکچھ دیر حقیقت کو چھپایا بھی تو پھر کیاجھوٹوں نے جو سچوں کو چڑھایا بھی تو پھر کیامت بھول کبھی اصل تو اپنی اری احمقجب تاؤ دیا جائے گا ہو جائے گا منہ فقسچے کی تو عزت ہی بڑھے گی جو کریں جانچمشہور مثل ہے کہ نہیں سانچ کو کچھ آنچکھونے کو کھرا بن کے نکھرنا نہیں اچھاچھوٹے کو بڑا بن کے ابھرنا نہیں اچھا
فرش گل کی جا ہے بستر خار کارنگ فق ہے ہر جگر افگار کاصدمہ ہے اندوہ کے آزار کادل فسردہ حال ہے بیمار کاپا برہنہ گھر سے نکلے مرد و زنلوگ دہلی کے ہیں سارے نعرہ زن
فندک فندک فندک فکدھنک دھنک دھن دھنک دھنکتانت بجی اور نکلا راگروئی بنی صابن کا جھاگکیسی چھنتی جاتی ہےبادل بنتی جاتی ہےکتنا ڈھیر ہوا آہامیں اس ڈھیر پہ کودوں گاکوئی چوٹ نہ آئے گیروئی مگر دب جائے گیاتی روئی اتنا ڈھیرہو گئی بارہ تیرہ سیرلے اب روئی ہو گئی صافبھر لے تکیے اور لحافان سے سب سکھ پاتے ہیںاوڑھتے اور بچھاتے ہیںملتا ہے سب کو آرامواہ رے دھنیے تیرا کامواہ ری دھنکی دھنک دھنکفندک فندک فک فک فک
سورج کے دم سے بچو دنیا میں ہے اجالاسورج نہ ہو تو چہرہ دنیا کا ہوگا کالاسورج میں مادے کی حالت پلازمہ ہےپوچھو یہ آج ہم سے کیسی ہے اور کیا ہےہاں گیس سے زیادہ ہلکی پلازمہ ہےبچو یہ تیز گرمی کی خود ہی رہنما ہےسورج کی روشنی سے بنتا ہے بھاپ پانیلیتی ہے جنم بچو بادل کی پھر کہانیاک سرخ شعلہ بن کر سورج دہک رہا ہےسورج کی روشنی سے چندا چمک رہا ہےسولر ہیٹروں کو سورج نے دی حرارتسورج کی پیڑ پودوں پہ ہوتی ہے عنایتحافظؔ یہ شام کو جو چہرہ ہے خود ہی فق ہےسورج کے ڈوبنے سے آکاش پر شفق ہے
میں نے دکھ نہیں دیکھامیں نے کچھ نہیں دیکھامیں نے سکھ نہیں دیکھامیں نے کچھ نہیں دیکھادنیا میری ہتھیلی سے باہر کیا رہی ہوگی میں نے دیکھازمین پر شاید سیلاب آیا تھامیں نے دیکھا کہ دھوپ چونکیاور بھاگ کر درختوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئی اس کا رنگ فق تھااور اس کی عمر تیرہ برس سے زیادہ نہ تھیسیلاب نے اس کے پاؤں چھو لئے اسے پھر بھی یقین نہیں آیاجیسے کہہ رہی ہوجاؤ مجھے اپنے یقینی پر کبھی یقین نہیں آیابے ایمان آدمی کی طرحمیں بے یقین ہوںیہ لوگ کہانی سناتے سناتے رک جاتے ہیںاور خاموشی کو سناتے سناتے رک جاتے ہیںجیسے تیر آرزو ہوا اور پرندہ چھدے ہوئے ترچھے زاویے بنا کرزن سے گزر گئے ہوںاور جیسے ان سب کو ایک نظر میں سب نے دیکھ لیا ہوجن سمندروں پر یہ پرندے گریں گےوہاں بہت شور ہوگااور لوگ کہانیوں کو امانت کر کے دریا میں بہا دیتے ہوں گےیہ لوگ تمباکو کے پتوں میں اپنے دل لپیٹ کر بو دیتے ہوں گے
چھک چھک پھک پھک شور مچاتی چلی ریل سرکاری ہےیہ منے کی پھلواری ہے
خواب پرست! اجالا نہ کرمیرا خون سفید اور رنگ فق ہےمجھے ناخن سے کرید، آ چل کے کہیں بیٹھیںبادشاہ کے حضور کھڑے کھڑے میں شل ہو گئیموم بتی کی طرحمجھے الگنی پر ٹانگ دے کہ میری دوہرگی کا بوجھبان بٹنے والے پہ ہو تجھ پر نہ ہوخواب پرست! مجھے جگا تو لے پھر سو جاناکیونکہ نہیں جانا جس نے جو جانابھیڑ بہت ہے اور بیگانگی اس سے بھی بہتلیکن میں تجھے بہتوں میں سے بھی ڈھونڈ لوں گیبا محبت با ایمان خوشبو دریچہ دریچہ پھریاور کہتی تھی صدیوں کا کہابوند بوند مٹی کشید کرنے کا فنکہو کہہ چکوخوں بہا اناروں کے کھیتپوشیدہ خزانوں کے خوابانگوٹھی پہ مہر تیری آنکھیںاور تو حاکم شہرمہرباں! مہرباں! مہرباںعذاب زیست سے حکم، رہائی کا دےایک موقعہ مجھے جگ ہنسائی کا دے!
سب نے فق چہروں کے ساتھمڑ کے دیکھاایک لمحے کے لیے بازار ساکتاور اسکوٹر روانہ ہو گیا
میں تھا جدید شاعری کرنے کے موڈ میںذہن رسا سے رات تخیل اڑا رہامفہوم شعر ایک طرف کو پڑا رہاآیا مری زباں پہ نہ فعلن نہ فاعلنچھوٹا رہا کوئی کوئی مصرع بڑا رہاتھا اس ادھیڑ بن میں کہ کچھ آئیں شاعراتجن کا قدیم رنگ میں جھنڈا گڑا رہامیں نے کہا کہ کچھ کہو رنگ جدید میںسن کر یہ ان کا روئے سخن فق پڑا رہاپر پھڑپھڑا کے رہ گئیں بے چاری شاعراتپائے خیال اپنی جگہ پر اڑا رہابزم جدید میں نہ گئیں شب کی مرغیاںسورج کو چونچ میں لئے مرغا کھڑا رہا
قتل گل قتل صبا قتل سحر کی تقریبمنعقد ہوتی رہی بارہا ایوانوں میںقلعۂ جبر و تشدد میںقصر ظلمت میںخلوت شب میںگاہے گاہے سر راہےاور اس بار یہ تقریب بڑی شان کے ساتھمنعقد اہل ہوس کے ہاتھوںرہ گزاروں پہ ہوئیبر سر بازار ہوئیکوچۂ شہر نگاراں میں ہوئیدشت و صحرا میں ہوئیکوہساروں میں ہوئینام گل نام صبا نام سحر ورد زباںہر نفس گام بہ گاممحترم ہے روش مکر و فریب پیہمشیوۂ راہزنی کی خیرپیشۂ قتل کی عظمت کی دہائی دیجےدست قاتل کے تقدس کی قسم کھائی گئیساتھیو چلتے رہوہم روایات شکاگو کے امیںخون فیوچک کے تقدس کے امیںعظمت خون لوممبا کے امیںخون ناصر کے امیںنذر خوں دیتے رہے ہیںسر محفل سر زنداں سر مقتل سر دارنذر خوں دیتے رہیں گے ہم لوگ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books