aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",QueH"
پاگل سمجھا ہے کیا مجھ کوڈوب مروں میںاور سب اس منظر سے اپنا دل بہلائیںبچوں کو کاندھوں پر لے کراچک اچک کر مجھ کو دیکھیںہنسی اڑائیںلاکھ مری اپنی وجہیں ہوں جاں دینے کیلیکن پھر بھیدل میں میرے بھی ہے وہ بے معنی خواہشجاتے جاتے سب کی آنکھیں نم کرنے کیمیری سمجھ سےاتنا حق تو ہےجاں دینے والے کا دنیا والوں پرشرکت کر لیںوہ اس پل میں تھوڑا سا سنجیدہ ہو کرجاں دینے آیا ہوں لیکنیہ بتلا دوںجان لڑا دوں گا میں جان بچانے میں گرایک تماشا دیکھنے والے کو بھی ہنستا دیکھا خود پرلوٹ آؤں گاکہہ دیتا ہوںایسا کچھ بھی اگر ہوا توبیچ بھنور سے لوٹ آؤں گا
آؤاب ڈھونڈو مجھےپھسڈی کہہ کے مجھ کو چھیڑنے والوہراؤ اب مجھےہاں مجھے بھی کھیل لگتا تھا یہ سب کچھ ابتدا میںمگر یہ بھی تو سوچومسلسل ہار کوئی کھیل ہے جو کھیل اس کو مان لیتا میںکہاں تک ہارتا میں؟مرے چھپنے کے سب کونے اجاگر ہو گئے تھےبہت آسان ہوتا جا رہا تھا ڈھونڈنا مجھ کومجھے اب جیتنا تھاکسی قیمت پہ مجھ کو جیتنا تھاسو میں نے یہ کیاوہ آہٹ جو مری دشمن رہی تھی آج تکمیں نے اسی کو مار ڈالااور جا کر چھپ گیا خود قبر کے تختوں کے پیچھےمنوں مٹی کے نیچے
بیزار اس کی یادوں سے یوں ہو چکا ہے دلاب کے ملے تو کہہ دوں محبت نہیں مجھے
خواب پلکوں کی ہتھیلی پہ چنے رہتے ہیںکون جانے وہ کبھی نیند چرانے آئےمجھ پہ اترے مرے الہام کی بارش بن کرمجھ کو اک بوند سمندر میں چھپانے آئےجب میں سنوروں تو وہ گلنار کرے میرا تبسمجب میں ہنس دوں تو وہ غنچہ سا چٹخنا چاہےجب میں تنہا ہوں مرا ہاتھ پکڑ لے آ کرجب میں چپ ہوں تو وہ بادل سا برسنا چاہےمیری برسوں کی اداسی کو صلہ کچھ تو ملےاس سے کہہ دو وہ مرا قرض چکانے آئےوہ مرے کانپتے ہونٹوں کی صدائیں سن لےیا مرے ضبط کو اظہار کا لہجہ دے دےیا مجھے توڑ دے اک گہری نظر سے چھو کریا مجھے چوم کے تخلیق کو سانچہ دے دےمیری ترتیب اٹھا لائے خدا کی ماننداور مٹ جاؤں تو پھر مجھ کو بنانے آئےخواب پلکوں کی ہتھیلی پہ چنے رہتے ہیںکون جانے وہ کبھی نیند چرانے آئے
دوہتڑ جو مچھر کے غصہ میں ماراپکڑ کر مرے پیر وہ پھر پکارانہیں مارنا اتنا آسان مجھ کوترا خون پی کر ہی چھوڑوں گا تجھ کویہ کہہ کر مرے پاؤں پر کاٹ کھایامیں اک بار پھر درد سے بلبلایا
عیش و طرب کا دور ہے نو روز آج ہےخم خانۂ جہاں میں بڑا کام کاج ہےمختار اپنے دل کے ہیں رندوں کا راج ہےساقی کا عرش سے بھی کچھ اونچا مزاج ہےبیٹھا ہے بزم عیش میں جمشید کی طرحمے خوار مل رہے ہیں گلے عید کی طرح
گر اجازت ہو صاحب اقراعشق کی نظم کا کوئی مصرعآپ کہہ دیں تو میں چرا لاؤںآپ سے گندمی ستارے سےدو قدم ساتھ ساتھ میں چل کرآپ کے خد و خال میں ڈھل کرآپ ہی میں کہیں سمٹ جاؤںعشق کی نظم سے لپٹ جاؤں
ایک دن میں نے کہا یہ ایک جوتے چور سےجوتیوں پر کیوں ہمیشہ تیری رہتی ہے نظراور بھی گر ہیں کئی روزی کمانے کے لئےچھوڑ یہ چوری کے دھندے کوئی اچھا کام کرسن کے میری بات یہ اس نے دیا ہنس کر جوابتم تو بالکل چونچ ہو تم کو نہیں کچھ بھی خبراس سے بڑھ کر کون سا دھندا ہے انٹرنیشنلشہرۂ آفاق عالمگیر ہے اپنا ہنرچپہ چپہ چور بازاری کا ہے بازار گرمچل رہا ہے ہر جگہ دھندا یہی شام و سحرہر جگہ چوری کا چرچا ہر جگہ ہے لوٹ ماردن دہاڑے لٹ رہا ہے ہر طرف فرد بشرپھر گرانی کی گرانباری سے پتلا حال ہےشیونگ اسٹک کی وہ قیمت ہے کہ منڈھ جاتا ہے سریہ وہ دھندا ہے بری ہے قید انکم ٹیکس سےیہ وہ پیشہ ہے نہیں جس پر گرانی کا اثراس میں فرقہ واریت ہے اور نہ صوبہ واریتبین الاقوامی ہماری ہے مصفیٰ رہگزرشرط اتنی ہے کہ ہو ایسی صفائی ہاتھ میںایک جنبش میں چلے جوتا ادھر پاؤں ادھرجو صفایا قوم کا کر دے وہی لیڈر ہے آجہو صفائی ہاتھ میں جس کے وہ ہے اہل ہنراور بھی اس کے علاوہ سینکڑوں ایسے ہیں چورڈالتے رہتے ہیں جو ڈاکے پہ ڈاکے بے خطربعض ایسے ہیں چرا لیتے ہیں مضموں شعر کےاور کہہ لیتے ہیں اپنا شعر ڈاکا ڈال کرتم بھی تو چوری چھپے ان گنت کرتے ہو گناہڈالتے رہتے ہو ہر سو تم بھی دزدیدہ نظرجوتیاں چٹخاتے تم پھرتے ہو روزی کے لئےاپنی روزی ہم کما لیتے ہیں جوتے مار کر
تم کو دیکھا تو مرے دل کو یہ محسوس ہواحور شاید کوئی جنت سے اتر آئی ہےیا کوئی ایسی غزل کہہ نہ سکا میں جس کوبن کے ایک پیکر رنگین نظر آئی ہے
دل کا ڈمرو بجاتی ہوئی انگلیاں ساز ہستی کو چھیڑیں اگررنگ و آہنگ کا سیل خوش بار سا زیست کے تھل میں بھی بہہ پڑےاور مایوس آنکھوں میں سپنوں کا ڈر بانٹنا واہمہ یہ کہے
جلد کوئی تو دیر سے کوئی نظروں سے کھو جائے گاکوئی آگے کوئی پیچھے اپنی راہ بنائے گاکوئی چلے گا اتنا کہہ کریار کا ساتھ نبھانا ہے اک دن سب کو جانا ہے
تم آنا توکمرے میں بکھری خاموشی کو بھی پڑھناتنہائی کے نوحے سننابستر کی ویرانی پر آنسو نہ بہانہسگریٹ کے خالی ڈبوں پر ترس نہ کھاناجگہ جگہ بکھرے پنوں سے اپنا نام مٹاتی رہنا
اس کے جھانسے میں نہ آئیںآؤ ہم بھی ماسک لگائیں
آج صبح پھر دیر سے جاگاجلدی سے اسکول کو بھاگاگھر سے نکلا بس میں بیٹھابھاگم بھاگ اسکول کو پہنچاچوکیدار نے دروازے پرجانے دیا اندر یہ کہہ کراکثر دیر سے آتے ہو تمکیوں نقصان اٹھاتے ہو تمجلدی سے اب کلاس میں جاؤوقت کو اپنے یوں نہ گنواؤکلاس روم میں جب میں پہنچاسر نے مجھ کو گھور کے دیکھادیکھا میں نے بیٹھا میں جبتھے مشغول پڑھائی میں سبدیر سے آنے کی ہے عادتپیچھے بیٹھا حسب روایتساتھ ہی سب کے پڑھنے لگا میںعلم کے زینے چڑھنے لگا میںکچھ ہی دیر میں بج گئے گیارہگھنٹی نے پھر کیا اشارہوقفہ آیا جب کھانے کابستہ کھول کے میں نے دیکھاکھانا میں گھر بھول آیا تھاجلدی میں اسکول آیا تھاکچھ ہی دیر میں مالی بابالے آئے کھانے کا ڈبہپوچھا میں نے کون یہ لایاتو مالی بابا نے بتایاآپ کے ابو آئے تھے بیٹاوہ یہ کھانا لائے تھے بیٹاکتنا دھیان مرا رکھتے ہیںابو آپ بہت اچھے ہیںمیں نے جب وہ کھانا کھایایاد ابو کا کہنا آیاابو مجھ کو سمجھاتے ہیںبات بھلی یہ بتلاتے ہیںوقت گنوانا بات بری ہےاچھی وقت کی پابندی ہےوقت کی قدر و قیمت جانواپنے آپ کو تم پہچانوان کی باتوں میں ہے عظمتمیرے ابو رہیں سلامت
باغوں میں اب تک چھائی ویرانی ہےیہ بارش کا موسم ہے حیرانی ہےپھولوں کے چہرے سوکھے مرجھائے ہیںاس غم سے گھبرائی تتلی رانی ہے
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیاتتیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہےتیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثباتتیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہےتو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائےیوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائےاور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سواراحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہواسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںمدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہوبہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںبدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہوکسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںکسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
میں عشق کا اسیر تھاوہ عشق کو قفس کہےکہ عمر بھر کے ساتھ کووہ بد تر از ہوس کہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیاوہ لوگ بہت خوش قسمت تھےجو عشق کو کام سمجھتے تھےیا کام سے عاشقی کرتے تھےہم جیتے جی مصروف رہےکچھ عشق کیا کچھ کام کیاکام عشق کے آڑے آتا رہااور عشق سے کام الجھتا رہاپھر آخر تنگ آ کر ہم نےدونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھےمیری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیںمیرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیںمیرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books