Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گیت

MORE BYبیکل اتساہی

    ہم کو

    تم کو

    ان کو ان کو اک دن سب کو جانا ہے

    اس گلشن سے اس گلشن تک رونا اور مسکانا ہے

    ان کو اپنے گھر تک جانا ان کو بھی کاشانے تک

    تم کو اپنے شہر یا بستی ہم کو بھی ویرانے تک

    منزل ان میں کوئی نہیں ہے

    کس کا کون ٹھکانہ ہے اک دن سب کو جانا ہے

    جلد کوئی تو دیر سے کوئی نظروں سے کھو جائے گا

    کوئی آگے کوئی پیچھے اپنی راہ بنائے گا

    کوئی چلے گا اتنا کہہ کر

    یار کا ساتھ نبھانا ہے اک دن سب کو جانا ہے

    ہنستے چہرے پھول کے نغمے ہونٹوں کے مرجھائیں گے

    رنگ برنگے پیراہن سب تن میں آگ لگائیں گے

    خواہش کے شیشوں کو

    وقت کے پتھر سے ٹکرانا ہے اک دن سب کو جانا ہے

    اے محلوں کے رہنے والے کیا سکھ ہے کیسا آرام

    جھونپڑیوں میں بسنے والے بے دیپک کی کیسی شام

    جلتے بجھتے شام سویرے نے

    کس کو پہچانا ہے اک دن سب کو جانا ہے

    عہد جوانی بہتا پانی اور بڑھاپا اتری کمان

    بچپن شام کی سیج کی لوری سانسیں دو پل کی مہمان

    مہمانوں کو ان کی حد تک

    اخلاقاً پہنچانا ہے اک دن سب کو جانا ہے

    کوئی کسی کو روک نہ پایا دولت حسن و عشق نہ پیار

    بجھ جائیں گے دیپ ملن کے سونا ہو جائے گا سنگار

    جیون اک اتہاس کا پنا

    یادوں کا افسانا ہے اک دن سب کو جانا ہے

    اے میری میرا مری شہناز نہ روکو راہ مری

    آنسو ہوں میں بہہ جانے دو تم کیا جانو چاہ میری

    دریا کے دامن میں بیکلؔ

    قطرے کو مل جانا ہے اک دن سب کو جانا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے