گیت
ہم کو
تم کو
ان کو ان کو اک دن سب کو جانا ہے
اس گلشن سے اس گلشن تک رونا اور مسکانا ہے
ان کو اپنے گھر تک جانا ان کو بھی کاشانے تک
تم کو اپنے شہر یا بستی ہم کو بھی ویرانے تک
منزل ان میں کوئی نہیں ہے
کس کا کون ٹھکانہ ہے اک دن سب کو جانا ہے
جلد کوئی تو دیر سے کوئی نظروں سے کھو جائے گا
کوئی آگے کوئی پیچھے اپنی راہ بنائے گا
کوئی چلے گا اتنا کہہ کر
یار کا ساتھ نبھانا ہے اک دن سب کو جانا ہے
ہنستے چہرے پھول کے نغمے ہونٹوں کے مرجھائیں گے
رنگ برنگے پیراہن سب تن میں آگ لگائیں گے
خواہش کے شیشوں کو
وقت کے پتھر سے ٹکرانا ہے اک دن سب کو جانا ہے
اے محلوں کے رہنے والے کیا سکھ ہے کیسا آرام
جھونپڑیوں میں بسنے والے بے دیپک کی کیسی شام
جلتے بجھتے شام سویرے نے
کس کو پہچانا ہے اک دن سب کو جانا ہے
عہد جوانی بہتا پانی اور بڑھاپا اتری کمان
بچپن شام کی سیج کی لوری سانسیں دو پل کی مہمان
مہمانوں کو ان کی حد تک
اخلاقاً پہنچانا ہے اک دن سب کو جانا ہے
کوئی کسی کو روک نہ پایا دولت حسن و عشق نہ پیار
بجھ جائیں گے دیپ ملن کے سونا ہو جائے گا سنگار
جیون اک اتہاس کا پنا
یادوں کا افسانا ہے اک دن سب کو جانا ہے
اے میری میرا مری شہناز نہ روکو راہ مری
آنسو ہوں میں بہہ جانے دو تم کیا جانو چاہ میری
دریا کے دامن میں بیکلؔ
قطرے کو مل جانا ہے اک دن سب کو جانا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.