aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",VdDn"
نہ جانے عاربہ کیوں آئے کیوں مستعربہ آئےمضر کے لوگ تو چھانے ہی والے تھے سو وہ چھائےمرے جد ہاشم عالی گئے غزہ میں دفنائےمیں ناقے کو پلاؤں گا مجھے واں تک وہ لے جائےلدوا للموت وابنو للحزاب سن خراباتیوہ مرد عوص کہتا ہے حقیقت ہے خرافاتییہ ظالم تیسرا پیگ اک اقانیمی بدایت ہےالوہی ہرزہ فرمائی کا سر طور لکنت ہےبھلا حورب کی جھاڑی کا وہ رمز آتشیں کیا تھامگر حورب کی جھاڑی کیا یہ کس سے کس کی نسبت ہےیہ نسبت کے بہت سے قافیے ہیں ہے گلہ اس کامگر تجھ کو تو یارا! قافیوں کی بے طرح لت ہےگماں یہ ہے کہ شاید بحر سے خارج نہیں ہوں میںذرا بھی حال کے آہنگ میں حارج نہیں ہوںتنا تن تن تنا تن تن تنا تن تن تنا تن تنتنا تن تن نہیں محنت کشوں کا تن نہ پیراہننہ پیراہن نہ پوری آدھی روٹی اب رہا سالنیہ سالے کچھ بھی کھانے کو نہ پائیں گالیاں کھائیںہے ان کی بے حسی میں تو مقدس تر حرامی پن
کیا سخت مکاں بنواتا ہے خم تیرے تن کا ہے پولاتو اونچے کوٹ اٹھاتا ہے واں گور گڑھے نے منہ کھولاکیا رینی خندق رند بڑے کیا برج کنگورا انمولاگڑھ کوٹ رہکلہ توپ قلعہ کیا شیشہ دارو اور گولاسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
جب آدھا دن ڈھل جاتا ہے تو گھر سے افسر آتا ہےاور اپنے کمرے میں مجھ کو چپراسی سے بلواتا ہےیوں کہتا ہے ووں کہتا ہے لیکن بے کار ہی رہتا ہےمیں اس کی ایسی باتوں سے تھک جاتا ہوں تھک جاتا ہوںپل بھر کے لیے اپنے کمرے کو فائل لینے آتا ہوںاور دل میں آگ سلگتی ہے میں بھی جو کوئی افسر ہوتااس شہر کی دھول اور گلیوں سے کچھ دور مرا پھر گھر ہوتااور تو ہوتیلیکن میں تو اک منشی ہوں تو اونچے گھر کی رانی ہےیہ میری پریم کہانی ہے اور دھرتی سے بھی پرانی ہے
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں
اے دل اے بندۂ وطن ہوشیارخواب غفلت سے ہو ذرا بیداراو شراب خودی کے متوالےگھر کی چوکھٹ کے چومنے والےنام ہے کیا اسی کا حب وطنجس کی تجھ کو لگی ہوئی ہے لگنکبھی بچوں کا دھیان آتا ہےکبھی یاروں کا غم ستاتا ہےیاد آتا ہے اپنا شہر کبھیلو کبھی اہل شہر کی ہے لگینقش ہیں دل پہ کوچہ و بازارپھرتے آنکھوں میں ہیں در و دیوارکیا وطن کیا یہی محبت ہےیہ بھی الفت میں کوئی الفت ہےاس میں انساں سے کم نہیں ہیں درنداس سے خالی نہیں چرند و پرندٹکڑے ہوتے ہیں سنگ غربت میںسوکھ جاتے ہیں روکھ فرقت میںجا کے کابل میں آم کا پوداکبھی پروان چڑھ نہیں سکتاآ کے کابل سے یاں بہی و انارہو نہیں سکتے بارور زنہارمچھلی جب چھوٹتی ہے پانی سےہاتھ دھوتی ہے زندگانی سےآگ سے جب ہوا سمندر دوراس کو جینے کا پھر نہیں مقدورگھوڑے جب کھیت سے بچھڑتے ہیںجان کے لالے ان کے پڑتے ہیںگائے، بھینس اونٹ ہو یا بکریاپنے اپنے ٹھکانے خوش ہیں سبھیکہیے حب وطن اسی کو اگرہم سے حیواں نہیں ہیں کچھ کم ترہے کوئی اپنی قوم کا ہمدردنوع انساں کا سمجھیں جس کو فردجس پہ اطلاق آدمی ہو صحیحجس کو حیواں پہ دے سکیں ترجیحقوم پر کوئی زد نہ دیکھ سکےقوم کا حال بد نہ دیکھ سکےقوم سے جان تک عزیز نہ ہوقوم سے بڑھ کے کوئی چیز نہ ہوسمجھے ان کی خوشی کو راحت جاںواں جو نو روز ہو تو عید ہو یاںرنج کو ان کے سمجھے مایۂ غمواں اگر سوگ ہو تو یاں ماتمبھول جائے سب اپنی قدر جلیلدیکھ کر بھائیوں کو خوار و ذلیلجب پڑے ان پہ گردش افلاکاپنی آسائشوں پہ ڈال دے خاک
کیچڑ سے ہو رہی ہے جس جا زمیں پھسلنیمشکل ہوئی ہے واں سے ہر اک کو راہ چلنیپھسلا جو پاؤں پگڑی مشکل ہے پھر سنبھلنیجوتی گری تو واں سے کیا تاب پھر نکلیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
سو طرح کا بنوں میں ہے کھٹکاواں کی گزران سے بچائے خدا
آؤ کہ مرگ سوز محبت منائیں ہمآؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہمخوش ہوں فراق قامت و رخسار یار سےسرو و گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہمویرانی حیات کو ویران تر کریںلے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہمپھر اوٹ لے کے دامن ابر بہار کیدل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہمسلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوالواں جائیں یا نہ جائیں نہ جائیں کہ جائیں ہمپھر دل کو پاس ضبط کی تلقین کر چکیںاور امتحان ضبط سے پھر جی چرائیں ہمآؤ کہ آج ختم ہوئی داستان عشقاب ختم عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
کچھ تم سوچوکچھ میں سوچوںکیوں اونچی ہیں یہ دیواریںکب تک ہم ان پر سر ماریںکب تک یہ اندھیرے رہنے ہیںکینہ کے یہ گھیرے رہنے ہیںچلو اپنے دروازے کھولیںاور گھر کے باہر آئیں ہمدل ٹھہرے جہاں ہیں برسوں سےوہ اک نکڑ ہے نفرت کاکب تک اس نکڑ پر ٹھہریںاب اس کے آگے جائیں ہمبس تھوڑی دور اک دریا ہےجہاں ایک اجالا بہتا ہےواں لہروں لہروں ہیں کرنیںاور کرنوں کرنوں ہیں لہریںان کرنوں میںان لہروں میںہم دل کو خوب نہانے دیںسینوں میں جو اک پتھر ہےاس پتھر کو گھل جانے دیںدل کے اک کونے میں بھی چھپیگر تھوڑی سی بھی نفرت ہےاس نفرت کو دھل جانے دیںدونوں کی طرف سے جس دن بھیاظہار ندامت کا ہوگاتب جشن محبت کا ہوگا
ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کاہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کاسبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کاکسی کے دل کو مزا خوش لگا دوالی کاعجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کاجہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہارکسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھارکھلونے کھیلوں بتاشوں کا گرم ہے بازارہر اک دکاں میں چراغوں کی ہو رہی ہے بہارسبھوں کو فکر ہے اب جا بجا دوالی کامٹھائیوں کی دکانیں لگا کے حلوائیپکارتے ہیں کہ لالہ دوالی ہے آئیبتاشے لے کوئی برفی کسی نے تلوائیکھلونے والوں کی ان سے زیادہ بن آئیگویا انہوں کے واں راج آ گیا دوالی کا
اب بزم سخن صحبت لب سوختگاں ہےاب حلقۂ مے طائفۂ بے طلباں ہےگھر رہیے تو ویرانئ دل کھانے کو آوےرہ چلیے تو ہر گام پہ غوغائے سگاں ہےپیوند رہ کوچۂ زر چشم غزالاںپابوس ہوس افسر شمشاد قداں ہےیاں اہل جنوں یک بہ دگر دست و گریباںواں جیش ہوس تیغ بکف درپئے جاں ہےاب صاحب انصاف ہے خود طالب انصافمہر اس کی ہے میزان بدست دگراں ہےہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکناب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
یہ اندھیری رات یہ ساری فضا سوئی ہوئیپتی پتی منظر خاموش میں کھوئی ہوئیموجزن ہے بحر ظلمت تیرگی کا جوش ہےشام ہی سے آج قندیل فلک خاموش ہےچند تارے ہیں بھی تو بے نور پتھرائے ہوئےجیسے باسی ہار میں ہوں پھول کمہلائے ہوئےکھپ گیا ہے یوں گھٹا میں چاندنی کا صاف رنگجس طرح مایوسیوں میں دب کے رہ جائے امنگامڈی ہے کالی گھٹا دنیا ڈبونے کے لئےیا چلی ہے بال کھولے رانڈ رونے کے لئےجتنی ہے گنجان بستی اتنی ہی ویران ہےہر گلی خاموش ہے ہر راستہ سنسان ہےاک مکاں سے بھی مکیں کی کچھ خبر ملتی نہیںچلمنیں اٹھتی نہیں زنجیر در ہلتی نہیںسو رہے ہیں مست و بے خود گھر کے کل پیر و جواںہو گئی ہیں بند حسن و عشق میں سرگوشیاںہاں مگر اک سمت اک گوشے میں کوئی نوحہ گرلے رہی ہے کروٹوں پر کروٹیں دل تھام کردل سنبھلتا ہی نہیں ہے سینۂ صد چاک میںپھول سا چہرہ اٹا ہے بیوگی کی خاک میںاڑ چلی ہے رنگ رخ بن کر حیات مستعارہو رہا ہے قلب مردہ میں جوانی کا فشارحسرتیں دم توڑتی ہیں یاس کی آغوش میںسیکڑوں شکوے مچلتے ہیں لب خاموش میںعمر آمادہ نہیں مردہ پرستی کے لئےبار ہے یہ زندہ میت دوش ہستی کے لئےچاہتی ہے لاکھ قابو دل پہ پاتی ہی نہیںہائے رے ظالم جوانی بس میں آتی ہی نہیںتھرتھرا کر گرتی ہے جب سونے بستر پر نظرلے کے اک کروٹ پٹک دیتی ہے وہ تکیہ پہ سرجب کھنک اٹھتی ہیں سوتی لڑکیوں کی چوڑیاںآہ بن کر اٹھنے لگتا ہے کلیجہ سے دھواںہو گئی بیوہ کی خاطر نیند بھی جیسے حراممختصر سا عہد وصلت دے گیا سوز دوامدوپہر کی چھاؤں دور شادمانی ہو گیاپیاس بھی بجھنے نہ پائی ختم پانی ہو گیالے رہی ہے کروٹوں پر کروٹیں با اضطرارآگ میں پارہ ہے یا بستر پہ جسم بے قرارپڑ گئی اک آہ کر کے رو کے اٹھ بیٹھی کبھیانگلیوں میں لے کے زلف خم بہ خم اینٹھی کبھیآ کے ہونٹوں پر کبھی مایوس آہیں تھم گئیںاور کبھی سونی کلائی پر نگاہیں جم گئیںاتنی دنیا میں کہیں اپنی جگہ پاتی نہیںیاس اس حد کی کہ شوہر کی بھی یاد آتی نہیںآ رہے ہیں یاد پیہم ساس نندوں کے سلوکپھٹ رہا ہے غم سے سینہ اٹھ رہی ہے دل میں ہوکاپنی ماں بہنوں کا بھی آنکھیں چرانا یاد ہےایسی دنیا میں کسی کا چھوڑ جانا یاد ہےباغباں تو قبر میں ہے کون اب دیکھے بہارخود اسی کو تیر اس کے کرنے والے ہیں شکارجب نظر آتا نہیں دیتا کوئی بیکس کا ساتھزہر کی شیشی کی جانب خودبخود بڑھتا ہے ہاتھدل تڑپ کر کہہ رہا ہے جلد اس دنیا کو چھوڑچوڑیاں توڑیں تو پھر زنجیر ہستی کو بھی توڑدم اگر نکلا تو کھوئی زندگی مل جائے گییہ نہیں تو خیر تنہا قبر ہی مل جائے گیواں تجھے ذلت کی نظروں سے نہ دیکھے گا کوئیچاہے ہنسنا چاہے رونا پھر نہ روکے گا کوئیواں سب اہل درد ہیں سب صاحب انصاف ہیںرہبر آگے جا چکا راہیں بھی تیری صاف ہیںدل انہیں باتوں میں الجھا تھا کہ دم گھبرا گیاہاتھ لے کر زہر کی شیشی لبوں تک آ گیاتلملاتی آنکھ جھپکاتی جھجکتی ہانپتیپی گئی کل زہر آخر تھرتھراتی کانپتیموت نے جھٹکا دیا کل عضو ڈھیلے ہو گئےسانس اکھڑی، نبض ڈوبی، ہونٹ نیلے ہو گئےآنکھ جھپکی اشک ٹپکا ہچکی آئی کھو گئیموت کی آغوش میں اک آہ بھر کر سو گئیاور کر اک آہ سلگے ہند کی رسموں کا داماے جوانا مرگ بیوہ تجھ پہ کیفیؔ کا سلام
کانوں کی اک نگری دیکھی جس میں سارے کانے دیکھےایک طرف سے احمق سارے ایک طرف سے سیانے تھےکانوں کی اس نگری کے سب ریت رواج علاحدہ تھےروگ علاحدہ بستی میں تھے اور علاج علاحدہ تھےدو دو کانے مل کر پورا سپنا دیکھا کرتے تھےگنگا کے سنگم سے کانے جمنا دیکھا کرتے تھےچاندنی رات میں چھتری لے کر باہر جایا کرتے تھےاوس گرے تو کہتے ہیں واں سر پھٹ جایا کرتے تھےدریا پل پر چلتا تھا پانی میں ریلیں چلتی تھیںلنگوروں کی دم پر انگوروں کی بیلیں پکتی تھیںچھوت کی اک بیماری پھیلی ایک دفعہ ان کانوں میںبھوک کے کیڑے سنتے ہیں نکلے گندم کے دانوں میںروز کئی کانے بے چارے مرتے تھے بیماری میںکہتے ہیں راجا سوتا تھا سونے کی الماری میںگھنٹی باندھ کے چوہے جب بلی سے دوڑ لگاتے تھےپیٹ پہ دونوں ہاتھ بجا کر سب قوالی گاتے تھےتب کانی بھینس نے پھول پھلا کر چھیڑا بین کا باجااور کالا چشمہ پہن کے سنگھاسن پر آیا راجادکھ سے چشمے کی دونوں ہی آنکھیں پانی پانی تھیںدیکھا اس کانے راجا کی دونوں آنکھیں کانی تھیںجھوٹا ہے جو اندھوں میں کانا راجا ہے کہتا ہےجا کر دیکھو کانی نگری اندھا راجا رہتا ہے
(1)کس طرح بیاں ہو ترا پیرایۂ تقریرگویا سر باطل پہ چمکنے لگی شمشیروہ زور ہے اک لفظ ادھر نطق سے نکلاواں سینۂ اغیار میں پیوست ہوئے تیرگرمی بھی ہے ٹھنڈک بھی روانی بھی سکوں بھیتاثیر کا کیا کہیے ہے تاثیر ہی تاثیراعجاز اسی کا ہے کہ ارباب ستم کیاب تک کوئی انجام کو پہنچی نہیں تدبیراطراف وطن میں ہوا حق بات کا شہرہہر ایک جگہ مکر و ریا کی ہوئی تشہیرروشن ہوئے امید سے رخ اہل وفا کےپیشانئ اعدا پہ سیاہی ہوئی تحریر(2)حریت آدم کی رہ سخت کے رہگیرخاطر میں نہیں لاتے خیال دم تعزیرکچھ ننگ نہیں رنج اسیری کہ پرانامردان صفا کیش سے ہے رشتۂ زنجیرکب دبدبۂ جبر سے دبتے ہیں کہ جن کےایمان و یقیں دل میں کیے رہتے ہیں تنویرمعلوم ہے ان کو کہ رہا ہوگی کسی دنظالم کے گراں ہاتھ سے مظلوم کی تقدیرآخر کو سرافراز ہوا کرتے ہیں احرارآخر کو گرا کرتی ہے ہر جور کی تعمیرہر دور میں سر ہوتے ہیں قصر جم و داراہر عہد میں دیوار ستم ہوتی ہے تسخیرہر دور میں ملعون شقاوت ہے شمرؔ کیہر عہد میں مسعود ہے قربانئ شبیر(3)کرتا ہے قلم اپنے لب و نطق کی تطہیرپہنچی ہے سر حرف دعا اب مری تحریرہر کام میں برکت ہو ہر اک قول میں قوتہر گام پہ ہو منزل مقصود قدم گیرہر لحظہ ترا طالع اقبال سوا ہوہر لحظہ مددگار ہو تدبیر کی تقدیرہر بات ہو مقبول، ہر اک بول ہو بالاکچھ اور بھی رونق میں بڑھے شعلۂ تقریرہر دن ہو ترا لطف زباں اور زیادہاللہ کرے زور بیاں اور زیادہ
مٹھائیوں کی دکانیں لگا کے حلوائیپکارتے ہیں کہ ''لا لا! دوالی ہے آئی''بتاشے لے کوئی برفی کسی نے تلوائیکھلونے والوں کی ان سے زیادہ بن آئیگویا انہوں کے واں راج آ گیا دوالی کا
نقش یاں جس کے میاں ہاتھ لگا پیسے کااس نے تیار ہر اک ٹھاٹھ کیا پیسے کاگھر بھی پاکیزہ عمارت سے بنا پیسے کاکھانا آرام سے کھانے کو ملا پیسے کاکپڑا تن کا بھی ملا زیب فزا پیسے کاجب ہوا پیسے کا اے دوستو آ کر سنجوگعشرتیں پاس ہوئیں دور ہوئے من کے روگکھائے جب مال پوے دودھ دہی موہن بھوگدل کو آنند ہوئے بھاگ گئے روگ اور دھوگایسی خوبی ہے جہاں آنا ہوا پیسے کاساتھ اک دوست کے اک دن جو میں گلشن میں گیاواں کے سرو و سمن و لالہ و گل کو دیکھاپوچھا اس سے کہ یہ ہے باغ بتاؤ کس کااس نے تب گل کی طرح ہنس دیا اور مجھ سے کہامہرباں مجھ سے یہ تم پوچھا ہو کیا پیسے کایہ تو کیا اور جو ہیں اس سے بڑے باغ و چمنہیں کھلے کیاریوں میں نرگس و نسرین و سمنحوض فوارے ہیں بنگلوں میں بھی پردے چلونجا بجا قمری و بلبل کی صدا شور افگنواں بھی دیکھا تو فقط گل ہے کھلا پیسے کاواں کوئی آیا لیے ایک مرصع پنجڑالال دستار و دوپٹا بھی ہرا جوں طوطااس میں اک بیٹھی وہ مینا کہ ہو بلبل بھی فدامیں نے پوچھا یہ تمہارا ہے رہا وہ چپکانکلی منقار سے مینا کے صدا پیسے کاواں سے نکلا تو مکاں اک نظر آیا ایسادر و دیوار سے چمکے تھا پڑا آب طلاسیم چونے کی جگہ اس کی تھا اینٹوں میں لگاواہ وا کر کے کہا میں نے یہ ہوگا کس کاعقل نے جب مجھے چپکے سے کہا پیسے کاروٹھا عاشق سے جو معشوق کوئی ہٹ کا بھرااور وہ منت سے کسی طور نہیں ہے منتاخوبیاں پیسے کی اے یارو کہوں میں کیا کیادل اگر سنگ سے بھی اس کا زیادہ تھا کڑاموم سا ہو گیا جب نام سنا پیسے کاجس گھڑی ہوتی ہے اے دوستو پیسے کی نمودہر طرح ہوتی ہے خوش وقتئ و خوبی بہبودخوش دلی تازگی اور خرمی کرتی ہے درودجو خوشی چاہیئے ہوتی ہے وہیں آ موجوددیکھا یارو تو یہ ہے عیش و مزا پیسے کاپیسے والے نے اگر بیٹھ کے لوگوں میں کہاجیسا چاہوں تو مکاں ویسا ہی ڈالوں بنواحرف تکرار کسی کی جو زباں پر آیااس نے بنوا کے دیا جلدی سے ویسا ہی دکھااس کا یہ کام ہے اے دوستو یا پیسے کاناچ اور راگ کی بھی خوب سی تیاری ہےحسن ہے ناز ہے خوبی ہے طرح داری ہےربط ہے پیار ہے اور دوستی ہے یاری ہےغور سے دیکھا تو سب عیش کی بسیاری ہےروپ جس وقت ہوا جلوہ نما پیسے کادام میں دام کے یارو جو مرا دل ہے اسیراس لیے ہوتی ہے یہ میری زباں سے تقریرجی میں خوش رہتا ہے اور دل بھی بہت عیش پذیرجس قدر ہو سکا میں نے کیا تحریر نظیرؔوصف آگے میں لکھوں تا بہ کجا پیسے کا
دنیا میں کوئی شاد کوئی درد ناک ہےیا خوش ہے یا الم کے سبب سینہ چاک ہےہر ایک دم سے جان کا ہر دم تپاک ہےناپاک تن پلید نجس یا کہ پاک ہےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےہے آدمی کی ذات کا اس جا بڑا ظہورلے عرش تا بہ فرش چمکتا ہے جس کا نورگزرے ہے ان کی قبر پہ جب وحش اور طیوررو رو یہی کہے ہے ہر اک قبر کے حضورجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےدنیا سے جب کہ انبیا اور اولیا اٹھےاجسام پاک ان کے اسی خاک میں رہےروحیں ہیں خوب جان میں روحوں کے ہیں مزےپر جسم سے تو اب یہی ثابت ہوا مجھےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہیںوہ شخص تھے جو سات ولایت کے بادشاہحشمت میں جن کی عرش سے اونچی تھی بارگاہمرتے ہی ان کے تن ہوئے گلیوں کی خاک راہاب ان کے حال کی بھی یہی بات ہے گواہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےکس کس طرح کے ہو گئے محبوب کج کلاہتن جن کے مثل پھول تھے اور منہ بھی رشک ماہجاتی ہے ان کی قبر پہ جس دم مری نگاہروتا ہوں جب تو میں یہی کہہ کہہ کے دل میں آہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےوہ گورے گورے تن کہ جنہوں کی تھی دل میں جائےہوتے تھے میلے ان کے کوئی ہاتھ گر لگائےسو ویسے تن کو خاک بنا کر ہوا اڑائےرونا مجھے تو آتا ہے اب کیا کہوں میں ہاےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےعمدوں کے تن کو تانبے کے صندوق میں دھرامفلس کا تن پڑا رہا ماٹی اپر پڑاقائم یہاں یہ اور نہ ثابت وہ واں رہادونوں کو خاک کھا گئی یارو کہوں میں کیاجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگر ایک کو ہزار روپے کا ملا کفناور ایک یوں پڑا رہا ہے بے کس برہنہ تنکیڑے مکوڑے کھا گئے دونوں کے تن بدندیکھا جو ہم نے آہ تو سچ ہے یہی سخنجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے جہاں میں ناچ ہیں کنگنی سے تا گیہوںاور جتنے میوہ جات ہیں تر خشک گوناگوںکپڑے جہاں تلک ہیں سپیدہ و سیہ نموںکمخواب تاش بادلہ کس کس کا نام لوںجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے درخت دیکھو ہو بوٹے سے تا بہ جھاڑبڑ پیپل آنب نیب چھوارا کھجور تاڑسب خاک ہوں گے جب کہ فنا ڈالے گی اکھاڑکیا بوٹے ڈیڑھ پات کے کیا جھاڑ کیا پہاڑجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنا یہ خاک کا ہے طلسمات بن رہاپھر خاک اس کو ہوتا ہے یارو جدا جداترکاری ساگ پات زہر امرت اور دوازر سیم کوڑی لعل زمرد اور ان سواجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگڑھ کوٹ توپ رہکلہ تیغ و کمان و تیرباغ و چمن محل و مکانات دل پزیرہونا ہے سب کو آہ اسی خاک میں خمیرمیری زباں پہ اب تو یہی بات ہے نظیرؔجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے
کبھی ہنستی ہوئی آنکھوں میں اس کی جھانک کر دیکھوتو لگتا تھا چھلک اٹھیں گی پر اتنا ہی کہتی تھیکبھی لاہور دیکھا ہےمیاں والی سے گزرے ہونہیں دیکھے اگر یہ شہر تو کیا خاک دیکھا تم نے دنیا میںکبھی لاہور سے گزرو تو تھوڑی دیر کو رک کرمحلہ بوہڑ والا چوک میں میرا کسی سے نام لے دینامیاں والی کو جانا ہوتو واں دیوار پر بیٹھے ہوئے کاگا سےمیری ماں کا اور پیو کا ذرا احوال لے لیناوہ پھر سے ہنسنے لگتی تھی
کوئی دوستوں کو دل میں سمجھتا ہے اپنے غیرکوئی دشمنوں سے دل کا نکالے ہے اپنا بیرکہتا ہے واں نظیرؔ بھی آتش کی دیکھ سیریا رب تو سب کی کیجیو برسا برس کی خیربے طرح کر رہی ہے نموداری شب برات
مئی کے مہینے کا مانوس منظرغریبوں کے ساتھی یہ کنکر یہ پتھروہاں شہر سے ایک ہی میل ہٹ کرسڑک بن رہی ہےزمیں پر کدالوں کو برسا رہے ہیںپسینے پسینے ہوئے جا رہے ہیںمگر اس مشقت میں بھی گا رہے ہیںسڑک بن رہی ہےمصیبت ہے کوئی مسرت نہیں ہےانہیں سوچنے کی بھی فرصت نہیں ہےجمعدار کو کچھ شکایت نہیں ہےسڑک بن رہی ہےجواں نوجواں اور خمیدہ کمر بھیفسردہ جبیں بھی بہشت نظر بھیوہیں شام غم بھی جمال سحر بھیسڑک بن رہی ہےجمعدار سائے میں بیٹھا ہوا ہےکسی پر اسے کچھ عتاب آ گیا ہےکسی کی طرف دیکھ کر ہنس رہا ہےسڑک بن رہی ہےیہ بے باک الفت پر الھڑ اشارہبسنتی سے رامو تو رامو سے رادھاجمعدار بھی ہے بسنتی کا شیداسڑک بن رہی ہےجو سر پہ ہے پگڑی تو ہاتھوں میں ہنٹرچلا ہے جمعدار کس شان سے گھربسنتی بھی جاتی ہے نظریں بچا کرسڑک بن رہی ہےسمجھتے ہیں لیکن ہیں مسرور اب بھیاسی طرح گاتے ہیں مزدور اب بھیبہرحال واں حسب دستور اب بھیسڑک بن رہی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books