aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",fes"
گوشت مچھلی سبزیاں بنیے کا راشن دودھ گھیمجھ کو کھاتی ہیں یہ چیزیں میں نے کب کھایا انہیںمیرا گھر رہتا ہے مجھ میں گھر میں میں رہتا نہیںبیوی بچوں کے پھٹے کپڑوں میں ہوںاور نئے جوڑوں کی خوشیوں میں چھپا جو کرب ہے وہ بھی ہوں میںفیس میں اسکول کی کاپی کتابوں میں بھی میںمیں ہی ہوں چولھے کی گیسمیں ہی ہوں اسٹو کا گیسمیرے جوتے جونک کی مانند میرے پاؤں سے لپٹے ہوئے ہیںچوستے ہیں میرا خونمیرا اسکوٹر میرے کاندھوں پہ بیٹھا ہےمیں اس کے ٹائروں میں لپٹا ہوں اور گھستا ہوں
فیس لیتا ہے دل ملانے کیاور اسی کام پر ''گزارہ'' ہے
اگرچہ ہیں اپنی جگہ سارے کاممگر ڈاکٹر کا ہے اپنا مقامذرا درد میں مبتلا ہوں اگرپکارے ہیں سب ڈاکٹر ڈاکٹرکہیں پر اگر ہو برا حادثہتو پھر کام آتا ہے یہ ناخداکہیں آپریشن کہیں سرجریبھلا کس سے ہوگی یہ چارہ گریبدن کا ہر اک زخم بھرنے کو ہیںمسیحا ہی یہ کام کرنے کو ہیںمگر کام یہ ذمہ داری کا ہےاور احساس ایمانداری کا ہےہے اس کام میں یوں تو محنت بڑیخدا ان کو دیتا ہے عزت بڑیبڑے ہو کے سوچا ہے میں نے یہیکہ میں ڈاکٹر ہی بنوں گی کبھیغریبوں سے میں فیس لوں گی نہیںکبھی یہ گناہ میں کروں گی نہیںمری یہ دعا سن لے میرے خدامجھے ایسی خدمت کے لائق بنا
دس روپے فی بوتل پانیہکا بکا رہ گئی نانیاپنا بچپن یاد کیا توارزانی سی تھی ارزانیبارہ آنے سیر اصلی گھیگیارہ آنے تولہ چاندیکیلے تھے دو پیسے درجنچاول پانچ آنے پنسیریبائیسکوپ ٹکٹ ایک آنہایک اٹھنی کا پاجامہاسکولوں میں فیس نہیں تھیکالج دو روپے ماہانہنانا کی تنخواہ جو پوچھیکل پینتالیس روپیہ نکلیپینتالیس ہزار کے لگ بھگپاتے ہیں ابو اور امی
ذہن میں اپنے علم بھریںدو کا پہاڑا یاد کریںدو اکم دو دو دونا چارسب سے الفت سب سے پیاردو تیا چھ اور دو چوکے آٹھپڑھ لکھ کر تم کرنا ٹھاٹدو پنجے دس دو چھکے بارہبھارت خوشیوں کا گہوارہدو ست چودہ دو اٹھے سولہیاد کرو اے منا راجہدو نم اٹھارہ دو دہام بیسختم پہاڑا لاؤ فیس
ہم جو کبھی کبھی ہوتے ہیںاور اکثر نہیں ہوتےخواب کی اولاد ہیںتکمیل اک صحرا کا نام ہےجس کے سفر کے لیےجتنی نسلوں کی عمر چاہےاتنی نسلیں ابھی پیدا نہیں ہوئیںاور وہ جو میرے صحرا کا سراب تھامیں نے اپنے اپنے زندہ لمحوں کواس کے نام کر دیاوہ کون تھاوہ مرتے ہوئے مزدوروں کی امنگ نہیں تھااور وہ غریب طالب علم کی وہ فیس نہیں تھاجو ایک ایک پیسے سے مل کر بنتی ہےاور وہ کنواری بیٹی کا وہ جہیز بھی نہیں تھاجو خوشی کے مضبوط تالے کی اکلوتی کنجی بن جاتاوہ کون تھاوہ تنہائی سے مزید تنہائی تک سفر کا وہ درمیان تھاجو صرف بہروپ ہوتا ہےخواب نے بہروپ سے شادی کر لیاور میں نے اپنے زندہ لمحوں کوبہروپ کے نام کر دیاجس کا نام خود فریبی ہےروپ اور بہروپ کے درمیان بہتی ہےوہ جو دھند کی لکیر کے اس پاربہروپ کی دنیا میں چلا گیالوٹ کر نہ آیااور میں نے لوٹ کر نہ آنے والوں کے ناماصل کے زمانے کر دیے
چلا تھا گھر سے کہ بچے کی فیس دینی تھیکہا تھا بیوی نے بیچ آؤں بالیاں اس کیکہ گھر کا خرچ چلے اور دوا بھی آ جائےسوال یہ ہے کہ کیا علم نے دیا اب تکبجائے کل کے اگر آج مر گئے تو کیازمیں پہ کتنے مسائل ہیں آدمی کے لیےخیال آیا چلو آج جب کہ زندہ ہیںچڑھا کے آئیں گے دو پھول گور مادر پہکہ چاند میں تو کسی ماں کی قبر کیا ہوگینہ جانے کیا ہوا جب گھر پہنچ گیا اپنےبتایا بیوی نے پھر آج پی کے آیا ہوں
چند کتابیں اک بیوی دو بچے ہیںکیا کیا کچھ اس چھوٹی سی دنیا میں ہےاس چھوٹی سی دنیا کا میں حاکم ہوںبیوی بچے سب میرے محکوم ہیں پرگھورتے رہتے ہیں یہ اپنے حاکم کوحسرت یاس بھری نظروں سے شام و سحرچھوٹی چھوٹی آنکھوں میں ہیں خواب بڑےان بڑے خوابوں کو جب میں سنتا ہوںحیرت کے عالم میں سر کو دھنتا ہوںآنے والی ہے تاریخ جو تنخواہ کیسوچتا ہوں اس ماہ وہ سب کچھ لے لوں گاجن کے خواب سجا رکھے ہیں بچوں نےبیوی کی تاکید ہے جن کے بارے میںگھر کے کچھ سامان جو اب کے لینے ہیںتیل مسالے اور راشن بھی لانا ہےبجلی کا بل گیس سلنڈر دودھ کا خرچبچوں کے اسکول کے جوتے لینے ہیںامی اور ابو کی دوائی لانی ہےاور بھرنی ہے فیس بھی ساری ٹیوشن کیچند کتابیں اپنی بھی بلوانی ہےجن کے کچھ نئے ایڈیشن آئے ہیںمیر و غالب کے شعروں کی کچھ شرحیںمنٹو اور بیدی کے کچھ افسانے ہیںفاروقیؔ کی اور حنفیؔ کی تنقیدیںکچھ سیرت کچھ قرآں کی تفسیریں ہیںلیکن جب تنخواہ کی آتی ہے تاریختب مجھ کو احساس یہ ہونے لگتا ہےیہ تنخواہ جو اب کے ملنے والی ہےیہ ملنے سے پہلے ہی بٹ جاتی ہے
بائیسکوپ ٹکٹ ایک آناایک اٹھنی کا پاجامہاسکولوں میں فیس نہیں تھیکالج دو روپے ماہانہ
ہو فیس مقدمہ لڑنے کی یا رشوت ٹھیکا دینے کیہر ایک ڈیمانڈ کرے کیول دو نمبر میں ہی لینے کیاک نمبر کا کیا کرنا جی جب چاہ سبھی کو دو کی ہےسب برکت نمبر دو کی ہے سب برکت نمبر دو کی ہے
ایک شب تو طبع موزوں نے اڑا دی نیند بھیاور دماغ و قلب کی رگ رگ پھڑکنے لگ گئیذہن پر چھانے لگیں پھر شاعری کی بدلیاںعالم مشہود کا چھپنے لگا پھر آسماںآمد موزوں تھی یا بڑھتا ہوا سیلاب تھاشعر کاغذ پر نکھرنے کے لیے بیتاب تھااک تلاطم سا بپا تھا بحر احساسات میںبے ثباتی حکمراں تھی عالم اثبات میںطبع کہتی تھی زمانے بھر کی آنکھیں کھول دوںذرہ و خورشید میزان سخن میں تول دوںذرہ ذرہ کو سنا دوں آج پیغام حیاتاک اشارے سے بدل دوں یہ نظام کائناتگنبد گردوں پہ اب تخئیل کی پرواز تھیدل کی دھڑکن جیسے اسرافیل کی آواز تھیخامہ تھا یا کہ کوئی رخش صبا رفتار تھاجو تخیل کی ہوا سے برسر پیکار تھادفعتاً دو نرم و نازک ہاتھ شانوں سے لگےبرق خرمن سوز جیسے آشیانے پر گرےمڑ کے دیکھا تو کھڑا ہے ایک طفل خورد سالجس کی آنکھوں میں تمنا جس کی نظروں میں سوالمدرسے کی فیس پنسل پن کتابیں کاپیاںمشتمل تھا چند اشیاء پر نگاہوں کا بیاںاور پھر اس طفل کی صورت پہ گہری سوچ تھیجو مجھے اک دعوت فکر و عمل سی دے گئیمیں نے دیکھا ذہن میں اک گیند ہے لٹو بھی ہےاور پنسل چھیلنے کا خوش نما چاقو بھی ہےخوب صورت ہیٹ ہے اک خوش نما پوشاک ہےذہن کی گردش کا محور ٹرائیکل کا چاک ہےٹکٹکی سی باندھ کر کچھ دیر تک دیکھا کیامیں اسی عالم میں پھر محسوس یوں کرنے لگااک جمودی کیفیت چھانے لگی ادراک پرعرش سے گرتا ہو جیسے کوئی فرش خاک پرذہن سے جوش سخن کا رنگ کم ہونے لگاطبع موزوں کا سر تسلیم خم ہونے لگاایک مایوسی دماغ و قلب پر چھانے لگیاور جماہی پر جماہی نیند سی آنے لگیپھر پلٹ کر کی نظر اپنی ادھوری نظم پرایک بجلی سی گری میرے دماغ و قلب پرموت کی تھی حکمرانی پیکر احساس پرشاعری کا تھا جنازہ بستر قرطاس پر
سبھی باتیں سنی تم نےپھر آنکھیں پھیر لیں تم نے
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواببڑھا اور جس سے مرا اضطرابیہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیںاندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیںلرزتا تھا ڈر سے مرا بال بالقدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محالجو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھیتو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھیزمرد سی پوشاک پہنے ہوئےدیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئےوہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواںخدا جانے جانا تھا ان کو کہاںاسی سوچ میں تھی کہ میرا پسرمجھے اس جماعت میں آیا نظروہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھادیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھاکہا میں نے پہچان کر میری جاںمجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاںجدائی میں رہتی ہوں میں بے قرارپروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہارنہ پروا ہماری ذرا تم نے کیگئے چھوڑ اچھی وفا تم نے کیجو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تابدیا اس نے منہ پھیر کر یوں جوابرلاتی ہے تجھ کو جدائی مرینہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مرییہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہادیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگاسمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے؟ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے!
مگر میں آج بہت دور جانے والا ہوںبس اور چند نفس کو تمہارے پاس ہوں میںتمہیں جو پا کے خوشی ہے تم اس خوشی پہ نہ جاؤتمہیں یہ علم نہیں کس قدر اداس ہوں میںکیا تم کو خبر اس دنیا کی کیا تم کو پتہ اس دنیا کامعصوم دلوں کو دکھ دینا شیوہ ہے اس دنیا کاغم اپنا نہیں غم اس کا ہے کل جانے تمہارا کیا ہوگاپروان چڑھو گی تم کیسے جینے کا سہارا کیا ہوگاآؤ کہ ترستی بانہوں میں اک بار تو تم کو بھر لوں میںکل تم جو بڑی ہو جاؤ گی جب تم کو شعور آ جائے گاکتنے ہی سوالوں کا دھارا احساس سے ٹکرا جائے گاسوچو گی کہ دنیا طبقوں میں تقسیم ہے کیوں یہ پھیر ہے کیاانسان کا انساں بیری ہے یہ ظلم ہے کیا اندھیر ہے کیایہ نسل ہے کیا یہ ذات ہے کیا یہ نفرت کی تعلیم ہے کیوںدولت تو بہت ہے ملکوں میں دولت کی مگر تقسیم ہے کیوںتاریخ بتائے گی تم کو انساں سے کہاں پر بھول ہوئیسرمائے کے ہاتھوں لوگوں کی کس طرح محبت دھول ہوئیصدیوں سے برابر محنت کش حالات سے لڑتے آئے ہیںچھائی ہے جو اب تک دھرتی پر اس رات سے لڑتے آئے ہیںدنیا سے ابھی تک مٹ نہ سکا پر راج اجارہ داری کاغربت ہے وہی افلاس وہی رونا ہے وہی بیکاری کامحنت کی ابھی تک قدر نہیں محنت کا ابھی تک مول نہیںڈھونڈے نہیں ملتیں وہ آنکھیں جو آنکھیں ہو کشکول نہیںسوچا تھا کہ کل اس دھرتی پر اک رنگ نیا چھا جائے گاانسان ہزار برسوں کی محنت کا ثمر پا جائے گاجینے کا برابر حق سب کو جب ملتا وہ پل آ نہ سکاجس کل کی خاطر جیتے جی مرتے رہے وہ کل آ نہ سکالیکن یہ لڑائی ختم نہیں یہ جنگ نہ ہوگی بند کبھیسو زخم بھی کھا کر میداں سے ہٹتے نہیں جرأت مند کبھی
مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کوابھی تک دل میں تیرے عشق کی قندیل روشن ہےترے جلووں سے بزم زندگی جنت بدامن ہےمری روح اب بھی تنہائی میں تجھ کو یاد کرتی ہےہر اک تار نفس میں آرزو بیدار ہے اب بھیہر اک بے رنگ ساعت منتظر ہے تیری آمد کینگاہیں بچھ رہی ہیں راستہ زر کار ہے اب بھیمگر جان حزیں صدمے سہے گی آخرش کب تکتری بے مہریوں پر جان دے گی آخرش کب تکتری آواز میں سوئی ہوئی شیرینیاں آخرمرے دل کی فسردہ خلوتوں میں جا نہ پائیں گییہ اشکوں کی فراوانی سے دھندلائی ہوئی آنکھیںتری رعنائیوں کی تمکنت کو بھول جائیں گیپکاریں گے تجھے تو لب کوئی لذت نہ پائیں گےگلو میں تیری الفت کے ترانے سوکھ جائیں گےمبادا یاد ہائے عہد ماضی محو ہو جائیںیہ پارینہ فسانے موج ہائے غم میں کھو جائیںمرے دل کی تہوں سے تیری صورت دھل کے بہہ جائےحریم عشق کی شمع درخشاں بجھ کے رہ جائےمبادا اجنبی دنیا کی ظلمت گھیر لے تجھ کومری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو
آج مرا دل فکر میں ہےاے روشنیوں کے شہرشب خوں سے منہ پھیر نہ جائے ارمانوں کی روخیر ہو تیری لیلاؤں کی ان سب سے کہہ دوآج کی شب جب دیئے جلائیں اونچی رکھیں لو
سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دویہ کیسا پھیر ہے تقدیر کا یہ پھیر تو شاید نہیں لیکنیہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا ہے
علم نے آج کریدے ہیں وہ ظلمات کے ڈھیروقت نے جس پہ بٹھائے تھے فنا کے پہرےجاگ اٹھے صور سرافیل سے گونگے بہرےتا ابد جن کے مقدر میں تھی دنیا اندھیریہ مگر عظمت انساں ہے کہ تقدیر کے پھیر؟
آنا ہے تو آ راہ میں کچھ پھیر نہیں ہےبھگوان کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books