خود فراموشی

سلیمان اریب

خود فراموشی

سلیمان اریب

MORE BY سلیمان اریب

    چلا تھا گھر سے کہ بچے کی فیس دینی تھی

    کہا تھا بیوی نے بیچ آؤں بالیاں اس کی

    کہ گھر کا خرچ چلے اور دوا بھی آ جائے

    سوال یہ ہے کہ کیا علم نے دیا اب تک

    بجائے کل کے اگر آج مر گئے تو کیا

    زمیں پہ کتنے مسائل ہیں آدمی کے لیے

    خیال آیا چلو آج جب کہ زندہ ہیں

    چڑھا کے آئیں گے دو پھول گور مادر پہ

    کہ چاند میں تو کسی ماں کی قبر کیا ہوگی

    نہ جانے کیا ہوا جب گھر پہنچ گیا اپنے

    بتایا بیوی نے پھر آج پی کے آیا ہوں

    مآخذ:

    • Book: shab-khoon(shumara-number-38) (Pg. 14)
    • اشاعت: 1969

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites