aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",jHd"
نہ رشتۂ وفا پہ ضدنہ یہ کہ اذن عام ہو
قمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں
تو کہ معصوم بھی ہے زود فراموش بھی ہےاس کی پیماں شکنی کو بھی گوارا کر لے
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہوفرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیں
ہماری عمر کا قصہ حساب اندوز آنی ہےزمانی زد میں ظن کی اک گمان لازمانی ہے
خیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوں
بچے کی سو بھولی صورتاب تک ضد کرنے کی عادت
تمہیں بھی ضد ہے کہ مشق ستم رہے جاریہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے عادی ہیں
بڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفس
اس دور میں جینے کی قیمت یا دار و رسن یا خواری ہےمیں دار و رسن تک جا نہ سکا تم جہد کی حد تک آ نہ سکیں
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!
حتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
کتنے طوفانوں کی زد پرمیں نے اپنا دیپ جلایا
میں کیوں اس کو فون کروں!اس کے بھی تو علم میں ہوگا
کب اشکوں سے جڑ سکتا ہےجو ٹوٹ گیا سو چھوٹ گیا
خلوص بے شعور کی وہ زود اعتباریاںوہ شوق سادہ لوح کی حسین خامکاریاں
ایسے دیواروں سے منہ جوڑ کے چلتے ہیں یہاںچوڑی والان کے کٹرے کی بڑی بی جیسے
نظر آتا ہے یوں لگتا ہے جیسے یہ بلائے جاںمرا ہم زاد ہے ہر گام پر ہر موڑ پر جولاں
اسے اٹھانے کی ضد نہ کرنا!
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books