aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".gerb"
جب ساون بادل چھائے ہوںجب پھاگن پھول کھلائے ہوںجب چندا روپ لٹاتا ہوجب سورج دھوپ نہاتا ہویا شام نے بستی گھیری ہو
چھوٹا سا اک گاؤں تھا جس میںدیئے تھے کم اور بہت اندھیرابہت شجر تھے تھوڑے گھر تھےجن کو تھا دوری نے گھیرااتنی بڑی تنہائی تھی جس میںجاگتا رہتا تھا دل میرابہت قدیم فراق تھا جس میںایک مقرر حد سے آگےسوچ نہ سکتا تھا دل میراایسی صورت میں پھر دل کودھیان آتا کس خواب میں تیراراز جو حد سے باہر میں تھااپنا آپ دکھاتا کیسےسپنے کی بھی حد تھی آخرسپنا آگے جاتا کیسے
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
وقت کے اگلے شہر کے سارے باشندےسب دن سب راتیںجو تم سے ناواقف ہوں گےوہ کب میری بات سنیں گےمجھ سے کہیں گےجاؤ اپنی راہ لو راہیہم کو کتنے کام پڑے ہیںجو بیتی سو بیت گئیاب وہ باتیں کیوں دہراتے ہوکندھے پر یہ جھولی رکھےکیوں پھرتے ہو کیا پاتے ہومیں بے چارہاک بنجارہآوارہ پھرتے پھرتے جب تھک جاؤں گاتنہائی کے ٹیلے پر جا کر بیٹھوں گاپھر جیسے پہچان کے مجھ کواک بنجارہ جان کے مجھ کووقت کے اگلے شہر کے سارے ننھے منے بھولے لمحےننگے پاؤںدوڑے دوڑے بھاگے بھاگے آ جائیں گےمجھ کو گھیر کے بیٹھیں گےاور مجھ سے کہیں گےکیوں بنجارےتم تو وقت کے کتنے شہروں سے گزرے ہوان شہروں کی کوئی کہانی ہمیں سناؤان سے کہوں گاننھے لمحو!ایک تھی رانیسن کے کہانیسارے ننھے لمحےغمگیں ہو کر مجھ سے یہ پوچھیں گےتم کیوں ان کے شہر نہ آئیںلیکن ان کو بہلا لوں گاان سے کہوں گایہ مت پوچھوآنکھیں موندواور یہ سوچوتم ہوتیں تو کیسا ہوتاتم یہ کہتیںتم وہ کہتیںتم اس بات پہ حیراں ہوتیںتم اس بات پہ کتنی ہنستیںتم ہوتیں تو ایسا ہوتاتم ہوتیں تو ویسا ہوتا
سیکڑوں حسن ناصرہیں شکار نفرت کےصبح و شام لٹتے ہیںقافلے محبت کےجب سے کالے باغوں نےآدمی کو گھیرا ہےمشعلیں کرو روشندور تک اندھیرا ہےمیرے دیس کی دھرتیپیار کو ترستی ہےپتھروں کی بارش ہیاس پہ کیوں برستی ہےملک کو بچاؤ بھیملک کے نگہبانودس کروڑ انسانو!بولنے پہ پابندیسوچنے پہ تعزیریںپاؤں میں غلامی کیآج بھی ہیں زنجیریںآج حرف آخر ہےبات چند لوگوں کیدن ہے چند لوگوں کارات چند لوگوں کیاٹھ کے درد مندوں کےصبح و شام بدلو بھیجس میں تم نہیں شاملوہ نظام بدلو بھیدوستوں کو پہچانودشمنوں کو پہچانودس کروڑ انسانو!
پھر بھی اک رات میں سو طرح کے موڑ آتے ہیںکاش تم کو کبھی تنہائی کا احساس نہ ہوکاش ایسا نہ ہو گھیرے رہے دنیا تم کواور اس طرح کہ جس طرح کوئی پاس نہ ہو
درخت! میرے دوستتم مل جاتے ہو کسی نہ کسی موڑ پراور آسان کر دیتے ہو سفرتمہارے پیر کی انگلیاںجمی رہیں پاتال کے بھیدوں پرقائم رہے میرے دوستتمہارے تنے کی متانت اور قوتدھوپ اور بارش تمہیں اپنے تحفوں سے نوازتی رہےتم بہت پروقار اور سادہ ہومیرے تھیلے کو جاننا چاہتے ہوضرور.... یہ لو میں اسے کھولتا ہوںروٹیاں دعائیں اور نظمیںمیرے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیںایک شاعر کے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتادوست دکھ دینا تم نے سیکھا ہی نہیںتم نے نہ تو مجھ سے شاعری کا مطلب پوچھااور نہ کبھی میرے مطالعے پر شک کیاایسا ہی ہونا چاہئے دوستوں کواگر میرے پاس اک اور زندگی ہوتی توتو میں اپنی پہلی زندگی تمہاری جڑوں پر گزار دیتامگر میں گھر سے خاندان بھر خوشیوں کے لیے نکلا ہوںاور وہاں میرا انتظار کیا جا رہا ہےتم نے میرے دوستہاں تم نےبہت کچھ سکھایا ہے مجھےمثلاً زمین اور آسمانی بجلیاور ہوااور انتظاراور دوسروں کے لیے زندہ رہنابہت قیمتی ہیں یہ باتیںمیں کیا دے سکتا ہوں اس فیاضی کا جوابمیرے پاس تمہارے لیےایک روٹی اور دعا ہےروٹی: تمہاری چیونٹیوں کے لیےدعا تمہارے آخری دن کے لیےمجھے معلوم ہے تم نے کلہاڑی کے مصافحےاور آری کی ہنسی سے کبھی خوف نہیں کھایامگر تم روک نہیں سکتے انہیںکوئی بھی نہیں روک سکتاخدا کرےخدا کرے تمہاری شاخوں سے ایک جھونپڑی بنائی جائےبازوؤں کے گھیرے میں نہ آنے والے تمہارےتنے کی لکڑیبہت کافی ہےدو پہیوں اور ایک کشتی کے لیےدوست: ہم پھر ملیں گےمسافر اور چھکڑامسافر اور کشتیکہیں نہ کہیں ہم پھر ایک ساتھ ہوں گےکہیں نہ کہیںایک ساتھ.... ہم سامنا کریں گےہوا کا اور راستوں کامسرت اور موت کا....
گاتی ہے گیت کوئی جھولے پہ کر کے پھیرامارو جی آج کیجیے یاں رین کا بسیراہے خوش کسی کو آ کر ہے درد و غم نے گھیرامنہ زرد بال بکھرے اور آنکھوں میں اندھیراکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیاہل ہوس نے جب تک اپنے دام بکھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیمغرب کے چہرے پر یارو اپنے خون کی لالی ہےلیکن اب اس کے سورج کی ناؤ ڈوبنے والی ہےمشرق کی تقدیر میں جب تک غم کے اندھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیظلم کہیں بھی ہو ہم اس کا سر خم کرتے جائیں گےمحلوں میں اب اپنے لہو کے دئے نہ جلنے پائیں گےکٹیاؤں سے جب تک صبحوں نے منہ پھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیجان لیا اے اہل کرم تم ٹولی ہو عیاروں کیدست نگر کیوں بن کے رہے یہ بستی ہے خودداروں کیڈوبے ہوئے دکھ درد میں جب تک سانجھ سویرے ہیںاپنی جنگ رہے گی
مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کوابھی تک دل میں تیرے عشق کی قندیل روشن ہےترے جلووں سے بزم زندگی جنت بدامن ہےمری روح اب بھی تنہائی میں تجھ کو یاد کرتی ہےہر اک تار نفس میں آرزو بیدار ہے اب بھیہر اک بے رنگ ساعت منتظر ہے تیری آمد کینگاہیں بچھ رہی ہیں راستہ زر کار ہے اب بھیمگر جان حزیں صدمے سہے گی آخرش کب تکتری بے مہریوں پر جان دے گی آخرش کب تکتری آواز میں سوئی ہوئی شیرینیاں آخرمرے دل کی فسردہ خلوتوں میں جا نہ پائیں گییہ اشکوں کی فراوانی سے دھندلائی ہوئی آنکھیںتری رعنائیوں کی تمکنت کو بھول جائیں گیپکاریں گے تجھے تو لب کوئی لذت نہ پائیں گےگلو میں تیری الفت کے ترانے سوکھ جائیں گےمبادا یاد ہائے عہد ماضی محو ہو جائیںیہ پارینہ فسانے موج ہائے غم میں کھو جائیںمرے دل کی تہوں سے تیری صورت دھل کے بہہ جائےحریم عشق کی شمع درخشاں بجھ کے رہ جائےمبادا اجنبی دنیا کی ظلمت گھیر لے تجھ کومری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو
اتنا سادہ نہ بن تجھ کو معلوم ہےکون گھیرے ہوئے ہے فلسطین کو
کون اب میرے لئے دست دعا پھیلائے گاکس طرح آفات کا صدقہ اتارا جائے گاکون مرہم زخم جاں پر پیار سے رکھ پائے گادرد کی شدت میں میری پیٹھ کو سہلائے گارنج و غم نے مجھ کو گھیرا ماں ترے جانے کے بعددم گھٹا جاتا ہے میرا ماں ترے جانے کے بعد
افق پر زندگی کے لشکر ظلمت کا ڈیرا ہےحوادث کے قیامت خیز طوفانوں نے گھیرا ہےجہاں تک دیکھ سکتا ہوں اندھیرا ہی اندھیرا ہےمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں
کچھ تم سوچوکچھ میں سوچوںکیوں اونچی ہیں یہ دیواریںکب تک ہم ان پر سر ماریںکب تک یہ اندھیرے رہنے ہیںکینہ کے یہ گھیرے رہنے ہیںچلو اپنے دروازے کھولیںاور گھر کے باہر آئیں ہمدل ٹھہرے جہاں ہیں برسوں سےوہ اک نکڑ ہے نفرت کاکب تک اس نکڑ پر ٹھہریںاب اس کے آگے جائیں ہمبس تھوڑی دور اک دریا ہےجہاں ایک اجالا بہتا ہےواں لہروں لہروں ہیں کرنیںاور کرنوں کرنوں ہیں لہریںان کرنوں میںان لہروں میںہم دل کو خوب نہانے دیںسینوں میں جو اک پتھر ہےاس پتھر کو گھل جانے دیںدل کے اک کونے میں بھی چھپیگر تھوڑی سی بھی نفرت ہےاس نفرت کو دھل جانے دیںدونوں کی طرف سے جس دن بھیاظہار ندامت کا ہوگاتب جشن محبت کا ہوگا
یہ رات کا چھلنی چھلنی سا کالا آسماں ہےکہ جس میں جگنو کی شکل میںبے شمار سورج پگھل رہے ہیںشہاب ثاقب ہےیا ہمیشہ کی ٹھنڈی کالی فضاؤں میںجیسے آگ کے تیر چل رہے ہیںکروڑ ہا نوری برسوں کے فاصلوں میں پھیلییہ کہکشائیںخلا گھیرے ہیںیا خلاؤں کی قید میں ہےیہ کون کس کو لیے چلا ہےہر ایک لمحہکروڑوں میلوں کی جو مسافت ہےان کو آخر کہاں ہے جانااگر ہے ان کا کہیں کوئی آخری ٹھکاناتو وہ کہاں ہے
تم خدا ہوخدا کے بیٹے ہویا فقط امن کے پیمبر ہویا کسی کا حسیں تخیل ہوجو بھی ہو مجھ کو اچھے لگتے ہومجھ کو سچے لگتے ہواس ستارے میں جس میں صدیوں کےجھوٹ اور کذب کا اندھیرا ہےاس ستارے میں جس کو ہر رخ سےرینگتی سرحدوں نے گھیرا ہےاس ستارے میں جس کی آبادیامن بوتی ہے جنگ کاٹتی ہےرات پیتی ہے نور مکھڑوں کاصبح سینوں کا خون چاٹتی ہےتم نہ ہوتے تو جانے کیا ہوتاتم نہ ہوتے تو اس ستارے میںدیوتا راکشش غلام امامپارسا رند راہ بر رہزنبرہمن شیخ پادری، بھکشوسبھی ہوتے مگر ہمارے لیےکون چڑھتا خوشی سے سولی پر
اور کہتی ہے جھانک کر دل میںتیرا مذہب، ترا عظیم خداتیری تہذیب کے حسین صنمسب کو خطرے نے آج گھیرا ہےبعد ان کے جہاں اندھیرا ہے
آہوتی باقی یگیہ ادھورااپنوں کے وگھنوں نے گھیراانتم جے کا وجر بنانے نو ددھیچی ہڈیاں گلائیںآؤ پھر سے دیا جلائیں
سمجھتا ہے اسے سارا زمانہکتابیں علم و حکمت کا خزانہدلوں کا نور ہیں اچھی کتابیںچراغ طور ہیں اچھی کتابیںہماری مونس و غم خوار ہیں یہجہاد علم کی للکار ہیں یہکتابیں کیا ہیں روحانی خدا ہیںسکوں دل کا دواؤں کی دوا ہیںہماری کیوں نہ ہو منزل کتابیںرسولوں پر ہوئیں نازل کتابیںکتابوں سے ہے جس کی آشنائیبڑی دولت جہاں میں اس نے پائیکتابیں کامیابی کا ہیں زینہرکھیں آباد یہ دل کا مدینہکتابوں کی رفاقت بھی عجب ہےتعلق توڑنا ان سے غضب ہےصداقت کا یہی رستہ دکھائیںبروں کو بھی یہی اچھا بنائیںسکھاتی ہیں یہ جینے کا طریقہبتاتی ہیں ہمیں کیا ہے سلیقہکسی نے منہ کتابوں سے جو پھیرایقیناً اس کو ذلت نے ہے گھیراکتابوں سے اگر خالی مکاں ہےوہ ہے بھوتوں کا مسکن گھر کہاں ہےکتابوں سے حلاوت گفتگو میںشرافت کا اثر باقی لہو میںکتابوں سے جہاں میں نام زندہہماری صبح زندہ شام زندہکتابوں سے سدا رشتہ بڑھاؤاسی میں زندگی اپنی لگاؤ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books