aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".tkv"
یہ ہوس یہ چور بازاری یہ مہنگائی یہ بھاؤرائی کی قیمت ہو جب پربت تو کیوں نہ آئے تاؤاپنی تنخواہوں کے نالے میں ہے پانی آدھ پاؤاور لاکھوں ٹن کی بھاری اپنے جیون کی ہے ناؤ
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
آبرو ہوگا گھرانے بھر کی تیرا رکھ رکھاؤدے گا تیرا باپ شان فخر سے مونچھوں پہ تاؤ
دو چوہوں کی ایک کہانیکچھ تازہ ہے کچھ ہے پرانیاک چوہے کی جیب میں بٹوااک چوہے کے ہاتھ میں حقہحقے میں تھے بور کے لڈوکچھ تھے موتی چور کے لڈولڈو تھے سب رنگ رنگیلےکچھ تھے نیلی اور کچھ پیلےبٹوے میں تھے چار ٹماٹراور تھوڑا سا منرل واٹرلڈو کھا کر پانی پی کربولے چوہے چھت پر چڑھ کرکہاں ہے بلی اس کو بلاؤآیا ہے اب ہم کو تاؤآج نہیں وہ بچنے والیبچہ لوگ بجائے تالیبلی نے جب سنی یہ باتبیت چکی تھی آدھی راتپہلے اس نے دم کو ہلایادانتوں کو دانتوں پہ جمایاچپکے چپکے چھت پر پہنچیپھر تیزی سے ان پر جھپٹیدونوں چوہے ڈر کر بھاگےبلی پیچھے چوہے آگےسوری سوری لاکھ وہ بولےسنی نہ ان کی بات کسی نےبلی نے پھر مزے اڑائےاک اک کر کے دونوں کھائے
زباں جس کو ہر اک بولے اسی کا نام ہے اردوزبان شعر میں فطرت کا اک انعام ہے اردوسبھی اس کو سمجھتے ہیں سبھی میں عام ہے اردوزباں کوئی بھی ہو ہر ایک کا انجام ہے اردوگئے وہ دن کہ جب کچھ لوگ ہی اس کو سمجھتے تھےزبانوں میں ابھر آئی ہے طشت از بام ہے اردوکہیں ہے ابتدا اس کی کہیں ہے انتہا مظہرکہیں آغاز ہے اردو کہیں انجام ہے اردویہ با اخلاق قوموں میں سرشتہ ہے اخوت کاسلوک غیر سے بھی آج خوش انجام ہے اردومرقع ہے حسیں تحریک افسانی کے خاکوں کامکمل اجتماع گوہر ایام ہے اردوعروس زندگی کی تاب و زینت جس زباں سے ہےاسی خوش کام فطرت کا اچھوتا نام ہے اردودیار پاک یا ہندوستاں دونوں وطن اس کےزباں ہر ایک جس میں قید ہے وہ دام ہے اردوذرا سی ٹھیس سے بھی شیشۂ دل ٹوٹ جاتا ہےبہت نازک مگر از قسم استحکام ہے اردوبہ ہر عنواں یہی اک پیشوائے حسن و خوبی ہےغلط ہے ایشیا میں مورد الزام ہے اردوممالک غیر میں بھی آج اس کو سب سمجھتے ہیںوطن والوں میں ایک تصویر صد اقوام ہے اردوکسی فرقے کا لیڈر ہو وہ لیڈر بن نہیں سکتانہ سمجھے جب تلک جنتا میں کتنی عام ہے اردوسفارت ہو سنیما ہو کہ ٹی وی ریڈیو سب میںسروں کا نشہ ہے فکر و نظر کا جام ہے اردواسی کو بولنے میں روح کو اب ہے سکوں حاصلزمانے کی زبانوں کے لئے پیغام ہے اردومسلسل ارتقائے آدمیت اس سے مظہر ہےبہ قید نطق ماجدؔ رہبر اقوام ہے اردو
زندگیاتنی سادہ بھی نہیں کہ ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سیٹاس کے رنگوں کا احاطہ کر سکےمگر رنگین سیٹ بھی تو شاعرانہ مبالغے سے کام لیتے ہیںہو سکتا ہے پیکٹ بھر حیات میں سات پیکٹ رنگانڈیلنے والوں کی حقیقی زندگی یہی ہوروح اور ضمیر کی عمر بھر کی کمائی سیاہ رنگ کی پڑیا ہےکسی فاحشہ کے بدن سے اڑتے ہوئے لمحے کادھنک بھر معاوضہ تو نہیںماہرین گرانی اور گناہ میں تناسب معکوس نہیں مانتےتو آؤ زندگی کو انہی نگیٹیوز میں دیکھیں
چاندی کی انگوٹھی پہ جو سونے کا چڑھا جھولاوچھی تھی لگی بولنے اترا کے بڑا بولاے دیکھنے والو تمہی انصاف سے کہناچاندی کی انگوٹھی بھی ہے کچھ گہنوں میں گہناچاندی کی انگوٹھی کے نہ میں ساتھ رہوں گیوہ اور ہے میں اور یہ ذلت نہ سہوں گیمیں قوم کی اونچی ہوں بڑا میرا گھراناوہ ذات کی گھٹیا ہے نہیں اس کا ٹھکانامیری سی کہاں چاشنی میرا سا کہاں رنگوہ مول میں اور تول میں میرے نہیں پاسنگمیری سی چمک اس میں نہ میری سی دمک ہےچاندی ہے کہ ہے رانگ مجھے اس میں بھی شک ہےیہ سنتے ہی چاندی کی انگوٹھی بھی گئی جلاللہ رے ملمع کی انگوٹھی تیرے چھل بلسونے کی ملمع پہ نہ اترا میری پیاریدو دن میں بھڑک اس کی اتر جائے گی ساریکچھ دیر حقیقت کو چھپایا بھی تو پھر کیاجھوٹوں نے جو سچوں کو چڑھایا بھی تو پھر کیامت بھول کبھی اصل تو اپنی اری احمقجب تاؤ دیا جائے گا ہو جائے گا منہ فقسچے کی تو عزت ہی بڑھے گی جو کریں جانچمشہور مثل ہے کہ نہیں سانچ کو کچھ آنچکھونے کو کھرا بن کے نکھرنا نہیں اچھاچھوٹے کو بڑا بن کے ابھرنا نہیں اچھا
نوکر اور نمک اور مذہب۔۔۔ ان تاویلوں سے باز آؤمردوں کی ایسی نیکی پر آ جاتا ہے مجھ کو تاؤعورت کے ہونٹوں پر ٹھپہ اب مقبول عام نہیں
میری ہر خواہش پہ تو کہتی ہے ہو کر خشمگیںاچھے شوہر اس طرح کی ضد کیا کرتے نہیںتو جو ٹی وی مجھ کو لا دیتی مری روشن جبیںمیں کوئی پاگل ہوں پھر بھی شام کو جاؤں کہیںمجھ کو ہر پھندا گوارا ہے یہ دانہ بھی تو ہوگھر میں رہنے کے لئے کوئی بہانہ بھی تو ہو
شوہر کی موت کے بعدگھر میں وہاکیلی رہ گئی تھی!وقت کاٹے نہ کٹتا تھاچھوٹا سا گھربہت بڑا لگتا تھا!گزرا ہوااچھا سمے یاد آتا تھاتنہائی کا احساساندر ہی اندرکھائے جاتا تھا!گھبرا کے اس نےٹی وی پال لیاہنستے گاتے ٹی وی نےاسے سنبھال لیا!!
امی کہتیں کھیل نہ کھیلو گھر کے کام میں ہاتھ بٹاؤابو کہتے پڑھنے بیٹھو ٹی وی میں مت وقت گنواؤ
ٹی وی پہ آدمی ہمیں نغمے سنائے ہےڈسکو کرے ہے آدمی اور تھرتھرائے ہےاور کوئی باتھ روم ہی میں گنگنائے ہےجو گیت گا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیجو سر ہلا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
منی بولی پیاری آشاکتنی بھولی میری گڑیااچھا ہے تیرا بھی گڈاہو جائے دونوں کا رشتہآشا بولی گنجائش ہےلیکن میری فرمائش ہےہاتھی لوں گی گھوڑے لوں گیمیں کپڑے سو جوڑے لوں گیٹی وی کولر اور اک موٹرسونے اور چاندی کے زیوردینے ہوں گے موٹے پیسےملتے ہیں سیٹھوں کو جیسےمہمانوں کی خاطر اچھیمانو جب یہ بات ہے پکیمنی کا تو جی گھبرایاآنسو ٹپکے سر چکرایاپھر وہ بولی جاؤ جاؤڈوبے گی کاغذ کی ناؤلالچ کا پھل جس نے کھایارویا آخر وہ پچھتایاآشا بولی تم ہو پاگلناحق ہی ہوتی ہو بے کلباتیں ہیں یہ بہکی بہکیمیرے دل میں لالچ چھی چھیمیں نے تم کو یوں ہی چھیڑاکیوں ڈوبے الفت کا بیڑاتیری گڑیا میری گڑیامیرا گڈا تیرا گڈاپیسے کی کیسی بربادیشادی ہوگی سیدھی سادیلاؤ جلدی شربت لاؤجاؤ اچھلو ناچو گاؤ
راستے اجنبی منزلیں اجنبیحاضرین اجنبی محفلیں اجنبیزندگی کچھ نہیں زندگی اجنبیاور پھر میرے دل موت بھی اجنبییار بھی اجنبی اور اغیار بھیریڈیو ٹی وی سارے یہ اخبار بھیہے زمیں اجنبی آسماں اجنبیاور تو اور کون و مکاں اجنبی
میری کہانی رستے میںجانے کہاں پہ کھو گئی جیدل میں بہت شرمندہ ہوںبھول یہ مجھ سے ہو گئی جیمیں جب اپنے گھر سے چلیسڑک سڑک اور گلی گلیکہیں مٹھائی رکھی تھیوہیں بڑی سی مکھی تھیمکھی بولی بھن بھن بھنجاؤ نہ تم ٹی وی مجھ بنناچوں گی اور گاؤں گیاپنے ہنر دکھلاؤں گیمیں نے کہا کیا گاؤ گیبیماری پھیلاؤ گیمکھی اڑ گئی جلدی سےمیں بھی مڑ گئی جلدی سےموڑ پہ چڑیا بیٹھی تھیمیرا رستہ تکتی تھیکہنے لگی وہ چوں چوں چوںمیں بھی تمہارے ساتھ چلوںناچوں گی اور گاؤں گیاپنے ہنر دکھلاؤں گیپاس ہی چیں چیں ہونے لگیبے بی چڑیا رونے لگیمیں نے کہا اس کو بہلاؤدال کا دانہ لے کے جاؤاڑ گئی کہہ کے جاؤں جاؤںبلی بولی میاؤں میاؤںناچوں گی اور گاؤں گیاپنے ہنر دکھلاؤں گیمیں اس سے کترانے لگیبس یوں ہی سمجھانے لگیچوہے اگر سن پائیں گےکیسا مذاق اڑائیں گےبلی کو چوہے یاد آئےاس نے پنجے لہرائےپنجے میں الجھا غبارہسامنے تھا اک فوارہفوارے کے پاس وہاںمنو کے بھائی چنو میاںگود میں جو تھے آیا کیکیا جانیں وہ چالاکیآج ہمیں بھی لے کے چلوٹیلی ویژن اسٹیشن کومیں نے ان کو ٹافی دیانہوں نے مجھ کو معافی دیپھر میں آئی آپ کے پاسنہیں کہانی میرے پاسمیری کہانی رستے میںجانے کہاں پہ کھو گئی جیدل میں بہت شرمندہ ہوںبھول یہ مجھ سے ہو گئی جی
خوشا کہ بزم میں حاضر تھے ریڈیو ٹی وینظام گردش دوراں ترا جواب نہیں
ٹیلی ویژن عہد حاضر کا اک افلاطون ہےلگ گیا ہے جو ہمارے منہ کو یہ وہ خون ہےاس طرح ٹیلی ویژن کا ہر ڈراما ہو گیاجیسے لازم شیروانی پر پجامہ ہو گیااشتہار اس طرح لازم ہے خبر نامے کے بعدجیسے فل اسٹاپ کی موجودگی کامے کے بعداک ڈرامہ نشر ہوتا ہے جو آدھی رات میںوہ بہت مقبول ہے اس عہد کے جنات میںجس جگہ ٹائم بچا تھوڑا سا گانا دے دیارات کے بارہ بجے قومی ترانہ دے دیامحفل شعری کو آدھی رات میں بھگتا دیابھیرویں کا راگ پونے نو بجے چپکا دیاآج پھر فنی خرابی ہو گئی دو چار بارانتظار و انتظار و انتظار و انتظارٹیلی ویژن ہو گیا سنگین بیوی کی طرحاور بیوی ہو گئی رنگین ٹی وی کی طرح
میں خود سے مایوس نہیں ہوںانساں سے مایوس ہوں تھوڑادھرتی پر آنے سے پہلےوہ اور میں ساتھ رہا کرتے تھےجنت میںلیکن اس کو صدیاں بیتیںاب اس سے میرا کیا رشتہویسے وہ بھی مجھ جیسا ہےمیری طرح کھاتا پیتا چلتا پھرتا ہےہم دونوں ہم شکل ہیں اتنےکچھ بھی کرے وہچاند پہ جائے دھرتی پرجنگ کرے اور خون بہائےآنچ مرے دامن پر آئےہم دونوں ہم شکل ہیں لیکنکیا میں اپنی ماں بہنوں کوچوراہے پر ننگا کر سکتا ہوںوہ کرتا ہےوہ پستانیں جن سے میں نے دودھ پیابلوان بنا ہوںجن پر میں نے شعر کہےتصویریں بنائیںکیا میں ان کو کاٹ کےکتوں کو کھلوا سکتا ہوںکہتے ہیں کھلوایا اس نےکیا میں نسوانی پیکر کوجو میرا موضوع سخن ہےپھول سے کوملچاند سے شیتلکی بوتلجو میری بیوی کا بدن ہے اس کوٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہوںاس نے کیا ہےکیا میں اپنی بیٹی سے منہ کالا کر کےاپنے بھائی بندوں ہم جنسوں کوبڈھوں جوانوں معصوموں کوزندہ جلا کرپھانسی کے تختے پہ چڑھا کران کے لہو کا تلک لگا کرمونچھ پہ تاؤ دے سکتا ہوںاس نے دیا ہےمیں خود سے مایوس نہیں ہوںانساں سے مایوس ہوں تھوڑاآج ہی سارے اخباروں میں خبر چھپی ہےاس دھرتی کے اک حصے گجرات میں اس نےمیرے منہ پر تھوک دیا ہے
اے موٹے آلو یہ تو بتاؤکیا ہے تمہارا منڈی میں بھاؤکتنے کے کتنے ملتے ہو یعنیپیمانہ اپنا ہم کو بتاؤگن گن کے لیتے ہیں لوگ تم کویا سینٹی میٹر میں ناپے جاؤیا کہ لیٹر میں لگتی ہے قیمتیا بیچے جاؤ تم پاؤ پاؤمجھ پہ مصیبت باجی نے ڈالیمنو کے بچے آلو تو لاؤتم ہی بتاؤ کیسے خریدوںاے موٹے آلو جلدی بتاؤاے موٹے منو گولو مٹولوجاؤ سڑک پر سیٹی بجاؤلالا للا لا لالا للا لالالا للا لا بس گائے جاؤپتھر اچھالو ڈنڈے سنبھالوکتوں کے لشکر فرفر بھگاؤکچھ الٹے سیدھے کرتب دکھا کرکچھ اونگی بونگی باتیں بناؤپڑھنا نہ آئے لکھنا نہ آئےکرنے چلے ہو تم بھاؤ تاؤاے موٹے منو پیمانے سیکھومجھ سے نہ الجھو بس جاؤ جاؤ
فریج کا ٹھنڈا پانی پیناگھی والی روٹی کھانااجلے بستر پہ سو رہناٹی وی سے جی بہلانااللہ میرے گھر آنامیرے گھر میں چھپ جانا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books