کہانی جو کھو گئی

رئیس فروغ

کہانی جو کھو گئی

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    میری کہانی رستے میں

    جانے کہاں پہ کھو گئی جی

    دل میں بہت شرمندہ ہوں

    بھول یہ مجھ سے ہو گئی جی

    میں جب اپنے گھر سے چلی

    سڑک سڑک اور گلی گلی

    کہیں مٹھائی رکھی تھی

    وہیں بڑی سی مکھی تھی

    مکھی بولی بھن بھن بھن

    جاؤ نہ تم ٹی وی مجھ بن

    ناچوں گی اور گاؤں گی

    اپنے ہنر دکھلاؤں گی

    میں نے کہا کیا گاؤ گی

    بیماری پھیلاؤ گی

    مکھی اڑ گئی جلدی سے

    میں بھی مڑ گئی جلدی سے

    موڑ پہ چڑیا بیٹھی تھی

    میرا رستہ تکتی تھی

    کہنے لگی وہ چوں چوں چوں

    میں بھی تمہارے ساتھ چلوں

    ناچوں گی اور گاؤں گی

    اپنے ہنر دکھلاؤں گی

    پاس ہی چیں چیں ہونے لگی

    بے بی چڑیا رونے لگی

    میں نے کہا اس کو بہلاؤ

    دال کا دانہ لے کے جاؤ

    اڑ گئی کہہ کے جاؤں جاؤں

    بلی بولی میاؤں میاؤں

    ناچوں گی اور گاؤں گی

    اپنے ہنر دکھلاؤں گی

    میں اس سے کترانے لگی

    بس یوں ہی سمجھانے لگی

    چوہے اگر سن پائیں گے

    کیسا مذاق اڑائیں گے

    بلی کو چوہے یاد آئے

    اس نے پنجے لہرائے

    پنجے میں الجھا غبارہ

    سامنے تھا اک فوارہ

    فوارے کے پاس وہاں

    منو کے بھائی چنو میاں

    گود میں جو تھے آیا کی

    کیا جانیں وہ چالاکی

    آج ہمیں بھی لے کے چلو

    ٹیلی ویژن اسٹیشن کو

    میں نے ان کو ٹافی دی

    انہوں نے مجھ کو معافی دی

    پھر میں آئی آپ کے پاس

    نہیں کہانی میرے پاس

    میری کہانی رستے میں

    جانے کہاں پہ کھو گئی جی

    دل میں بہت شرمندہ ہوں

    بھول یہ مجھ سے ہو گئی جی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY