aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".twf"
وہ بچھڑا ہے تو یاد آیاوہ اکثر مجھ سے کہتا تھامحبت وہ نہیں ہے جو یہ نسل نو سمجھتی ہےیہ پہروں فون پر باتیںیہ آئے دن ملاقاتیںاگر یہ سب محبت ہےتو تف ایسی محبت پرمحبت تو محبت ہےوصال و وصل کی خواہش سے بالاترکہا کرتامحبت قرب کی خواہش پہ آئے تو سمجھ لیناہوس نے سر اٹھایا ہےہوس کیا ہےفقط جسموں کی پامالی فقط تذلیل روحوں کیکہا کرتا محبت اور ہوتی ہےہوس کچھ اور ہوتی ہےسو جب بھی قرب کی خواہش پہ آ جائے محبت توسنو پھر دیر مت کرنا وہیں رستہ بدل لیناوہ بچھڑا ہے تو یاد آیا
فکر سے جھک جائے وہ گردن تف اے لیل و نہارجس میں ہونا چاہیئے پھولوں کا اک ہلکا سا ہار
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
شدت افلاس سے جب زندگی تھی تجھ پہ تنگاشتہا کے ساتھ تھی جب غیرت و عصمت کی جنگگھات میں تیری رہا یہ خود غرض سرمایہ دارکھیلتا ہے جو برابر نوع انساں کا شکاررفتہ رفتہ لوٹ لی تیری متاع آبروخوب چوسا تیری رگ رگ سے جوانی کا لہوکھیلتے ہیں آج بھی تجھ سے یہی سرمایہ داریہ تمدن کے خدا تہذیب کے پروردگارسامنے دنیا کے تف کرتے ہیں تیرے نام پرخلوتوں میں جو ترے قدموں پہ رکھ دیتے ہیں سرراستے میں دن کو لے سکتے نہیں تیرا سلامرات کو جو تیرے ہاتھوں سے چڑھا جاتے ہیں جامتیرے کوچہ سے جنہیں ہو کر گزرنا ہے گناہگرم ان کی سانس سے رہتی ہے تیری خواب گاہمحفلوں میں تجھ سے کر سکتے نہیں جو گفتگوتیرے آنچل میں بندھی ہے ان کی جھوٹی آبرو
ہمالہ کے نوکیلے بدن سے پھسلتی ہوئی چنچل بوندیںاس کے قدموں پہ جا گریںوہ ہمالہ کے پیروں کو چومتی رہیں اور المیہ گیت گاتی رہیںمیرے محبوب ہم کہ بس تیری داسیاں بن کرترے قدموں کو ہمیشہ چومتے رہنا چاہتی ہیں،یہ ڈھلوان ہمیں جنوب کی اور جتنا بھی آگے بہا لے جائےلیکن ایک دنہم سمندر سے اٹھنے والی ہواؤں کی رتھ پر سوار ہو کرپھر سے تیری جانب لوٹ آئیں گےیہ گیت دہراتے ہوئےتمام داسیاں اپنے محبوب کو آخری بوسہ دے کرایک لمبے سفر کے لئے نکل جاتیں ہیںجھرنا،ندی،دریا،سمندر۔۔۔ہمالہ کی ہیبت سے برف ہو جانے والا سورججب ہمالہ سے لپٹی سرد ہواؤں سے نہ جیت سکاتواپنی ہار کا بدلہ لینےہمالہ کی داسیوں کے تعاقب میں نکل پڑتا ہےجوں جوں داسیاں ہمالہ سے دور ہوتی جا رہی ہیںاس (سورج) کا قہر آگ بن کر ان (داسیوں) پر برستا چلا جاتاوہ ایک ایک کر کے تمام داسیوں کو نگلنا چاہتا ہےاور وہ ایسا ہی کرتا ہے اور کرتا ہی چلا جاتا ہےیہاں تک کہہر داسی کے گیلے بدن سے اس کی روح بھاپ بن کر اڑ جاتیلا زوال قربانی خدا قبول کرتا ہےموت اندھی ہو جاتی ہے۔۔۔۔اور زندگی پانی بن کر ان (داسیوں) کی رگوں میں دوڑنے لگتی ہےجنوب سے اٹھنے والی ہواان داسیوں کی پاک روحوں کواپنے کاندھے پر لادے شمال کی جانب واپسی کا سفر کرتیں ہیںدنہفتےمہینے۔۔۔۔داسیوں کو اپنا دیوتا پھر نظر آنے لگاوہ ہوا کو کچھ اور تیز چلنے کو کہتیوہ سب بے چین ہیںبے قرار ہیںوہ اپنے نرم ہونٹوں سےہمالہ کے خاکستری لبوں کو چومنا چاہتی تھیںوہ اپنے محبوب کو یہ بتانا چاہتی ہیں کہتیری محبت میں موت نے ہم سے ہمارا بدن چھین لیا ہےہر بدلی کے دل میں یہ خواہش تھیکہ ہمالہ انہیں اپنی بانہوں میں سمیٹےاورہمیشہ سے سر اٹھائے کھڑے رہنے والے ہمالہ کیچوڑی چھاتی سے ٹکرا کر برس جاناہر بدلی کا خواب ہے،داسیاں ہوا سے کچھ اور تیز چلنے پر اصرار کرتیں ہیںلیکن اب ہوا کو یہ سب دیکھنا برداشت نہیںوہ،ان بدلیوں سے چلا چلا کر کہتی۔۔۔۔۔۔اے بدلیوتم سب احسان فراموش ہوکہ جب تمہیں سورج نے جلا کر بھاپ بنا دیاتو تمہاری سوکھی لاشوں کو میں نے کاندھا دیاوہ میں ہی تھی کہ جس نے تمہیں اپنی آغوش میں بھرااور آسمان تک لے آئیلیکن آج تم اس ہمالہ پرپھر سے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو!تم آج پھر اس ہمالہ سے ٹکرا کر برسنا چاہتی ہو۔۔۔۔تف ہے تمہاری دیوانگی پر!ہوا طیش میں آ کر کچھ اور تیز چلنے لگتیوہ ایک ایک کر کے ہر بدلی کو ہمالہ کی چوڑی چھاتی سے ٹکرا دیتیاور بدلی اپنے محبوب کا لمس محسوس کرتے ہیایک بار پھر بوندوں میں بکھر جاتی ہےاور ہمالہ کے قدموں پہ گرتی ہر بونددوبارہ وہی پرانا گیت دہراتی ہیں۔۔۔۔اے میرے محبوب ہم کہ بس تیری داسیاں بن کرترے قدموں کو ہمیشہ چومتے رہنا چاہتی ہیں،یہ ڈھلوان ہمیں جنوب کی اور جتنا بھی آگے بہا لے جائےلیکن ایک دنہم سمندر سے اٹھنے والی ہواؤں کی رتھ پر سوار ہو کرپھر سے تیری جانب لوٹ آئیں گے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books