aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".ula"
ہدف ہوں گے تمہارا کون تم کس کے ہدف ہوگےنہ جانے وقت کی پیکار میں تم کس طرف ہوگےہے رن یہ زندگی اک رن جو برپا لمحہ لمحہ ہےہمیں اس رن میں کچھ بھی ہو کسی جانب تو ہونا ہےسو ہم بھی اس نفس تک ہیں سپاہی ایک لشکر کےہزاروں سال سے جیتے چلے آئے ہیں مر مر کےشہود اک فن ہے اور میری عداوت بے فنوں سے ہےمری پیکار ازل سےیہ خسروؔ میرؔ غالبؔ کا خرابہ بیچتا کیا ہےہمارا غالبؔ اعظم تھا چور آقائے بیدلؔ کاسو رزق فخر اب ہم کھا رہے ہیں میرؔ بسمل کاسدھارت بھی تھا شرمندہ کہ دو آبے کا باسی تھاتمہیں معلوم ہے اردو جو ہے پالی سے نکلی ہےوہ گویا اس کی ہی اک پر نمو ڈالی سے نکلی ہے
ہوتا ہے مہ وشوں کا وہ عالم ترے حضورجیسے چراغ مردہ سر بزم شمع طورآ کر تری جناب میں اے کار ساز نورپلکوں میں منہ چھپاتے ہیں جھینپے ہوئے غرورآتی ہے ایک لہر سی چہروں پر آہ کیآنکھوں میں چھوٹ جاتی ہیں نبضیں نگاہ کی
کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معریپھل پھول پہ کرتا تھا ہمیشہ گزر اوقاتاک دوست نے بھونا ہوا تیتر اسے بھیجاشاید کہ وہ شاطر اسی ترکیب سے ہو ماتیہ خوان تر و تازہ معری نے جو دیکھاکہنے لگا وہ صاحب غفران و لزوماتاے مرغک بیچارہ ذرا یہ تو بتا توتیرا وہ گنہ کیا تھا یہ ہے جس کی مکافات؟افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تودیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات!تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سےہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!
توند والوں کی تو ہو آئینہ داری واہ وااور ہم بھوکوں کے سر پر چاند ماری واہ واان کی خاطر صبح ہوتے ہی نہاری واہ وااور ہم چاٹا کریں ایمان داری واہ وا
مجھ کو کیا علم تھا اخلاص کسے کہتے ہیںکیا ہے دریا کا سکوں پیاس کسے کہتے ہیںمجھ سے یہ پوچھتے بنواس کسے کہتے ہیںرائیگاں ہونے کا احساس کسے کہتے ہیں
میں اس چھوٹے سے کمرے میںآزاد بھی ہوں اور قید بھی ہوںاس کمرے میں اک کھڑکی ہےجو چھت کے برابر اونچی ہےجب سورج ڈوبنے لگتا ہےکمرے کی چھت سے گزرتا ہےمٹھی بھر کرنوں کے ذرےکھڑکی سے اندر آتے ہیںمیں اس رستے پر چلتی ہوںاور اپنے گھر ہو آتی ہوںمرا باپ ابھی تک میرے لیےجب شہر سے واپس آتا ہےچادر کنگھی کاجل چوڑیجانے کیا کیا لے آتا ہے
یہ دور نو مبارک فرخندہ اختری کاجمہوریت کا آغاز انجام قیصری کاکیا جاں فزا ہے جلوہ خورشید خاوری کاہر اک شعاع رقصاں مصرع ہے انوری کاروز سعید آیا چھبیس جنوری کادور جدید لایا بھارت کی برتری کا
کوئی مجھ کو دور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دوکوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستئ رائیگاں سےکہ غیروں کی تہذیب کی استواری کی خاطرعبث بن رہا ہے ہمارا لہو مومیائیمیں اس قوم کا فرد ہوں جس کے حصے میں محنت ہی محنت ہے نان شبینہ نہیں ہےاور اس پر بھی یہ قوم دل شاد ہے شوکت باستاں سےاور اب بھی ہے امید فردا کسی ساحر بے نشاں سےمری جاں شب و روز کی اس مشقت سے تنگ آ گیا ہوںمیں اس خشت کوبی سے اکتا گیا ہوںکہاں ہیں وہ دنیا کی تزئین کی آرزوئیںجنہوں نے تجھے مجھ سے وابستہ تر کر دیا تھاتری چھاتیوں کی جوئے شیر کیوں زہر کا اک سمندر نہ بن جائےجسے پی کے سو جائے ننھی سی جاںجو اک چھپکلی بن کے چمٹی ہوئی ہے تیرے سینۂ مہرباں سےجو واقف نہیں تیرے درد نہاں سےاسے بھی تو ذلت کی پابندگی کے لیے آلۂ کار بننا پڑے گابہت ہے کہ ہم اپنے آبا کی آسودہ کوشی کی پاداش میںآج بے دست و پا ہیںاس آئندہ نسلوں کی زنجیر پا کو تو ہم توڑ ڈالیںمگر اے مری تیرہ راتوں کی ساتھییہ شہنائیاں سن رہی ہویہ شاید کسی نے مسرت کی پہلی کرن دیکھ پائینہیں اس دریچے کے باہر تو جھانکوخدا کا جنازہ لیے جا رہے ہیں فرشتےاسی ساحر بے نشاں کاجو مغرب کا آقا تھا مشرق کا آقا نہیں تھایہ انسان کی برتری کے نئے دور کے شادیانے ہیں سن لویہی ہے نئے دور کا پرتو اولیں بھیاٹھو اور ہم بھی زمانے کی تازہ ولادت کے اس جشن میںمل کے دھومیں مچائیںشعاعوں کے طوفان میں بے محابا نہائیں
ایک کچھوے کے آ گئی جی میںکیجئے سیر و گشت خشکی کیجا رہا تھا چلا ہوا خاموشاس سے ناحق الجھ پڑا خرگوشمیاں کچھوے! تمہاری چال ہے یہیا کوئی شامت اور وبال ہے یہیوں قدم پھونک پھونک دھرتے ہوگویا اتو زمیں پہ دھرتے ہوکیوں ہوئے چل کے مفت میں بد نامبے چلے کیا اٹک رہا تھا کامتم کو یہ حوصلہ نہ کرنا تھاچلو پانی میں ڈوب مرنا تھایہ تن و توش اور یہ رفتارایسی رفتار پر خدا کی ماربولا کچھوا کہ ہوں خفا نہ حضورمیں تو ہوں آپ معترف بہ قصوراگر آہستگی ہے جرم و گناہتو میں خود اپنے جرم کا ہوں گواہمجھ کو جو سخت سست فرمایاآپ نے سب درست فرمایامجھ کو غافل مگر نہ جانئے گابندہ پرور برا نہ مانئے گایوں زبانی جواب تو کیا دوںشرط بد کر چلو تو دکھلا دوںتم تو ہو آفتاب میں ذرہپر مٹا دوں گا آپ کا غرہسن کے خرگوش نے یہ تلخ جوابکہا کچھوے سے یوں زروئے عتابتو کرے میری ہم سری کا خیالتیری یہ تاب یہ سکت یہ مجالچیونٹی کے جو پر نکل آئےتو یقیں ہے کہ اب اجل آئےارے بے باک! بد زباں منہ پھٹتو نے دیکھی کہاں ہے دوڑ جھپٹجب میں تیزی سے جست کرتا ہوںشہسواروں کو پست کرتا ہوںگرد کو میری باد پا نہ لگےلاکھ دوڑے مرا پتہ نہ لگےریل ہوں برق ہوں چھلاوا ہوںمیں چھلاوے کا بلکہ باوا ہوںتیری میری نبھے گی صحبت کیاآسماں کو زمیں سے نسبت کیاجس نے بھگتے ہوں ترکی و تازیایسے مریل سے کیا بدے بازیبات کو اب زیادہ کیا دوں طولخیر کرتا ہوں تیری شرط قبولہے مناسب کہ امتحاں ہو جائےتاکہ عیب و ہنر عیاں ہو جائےالغرض اک مقام ٹھہرا کرہوئے دونوں حریف گرم سفربسکہ زوروں پہ تھا چڑھا خرگوشتیزی پھرتی سے یوں بڑھا خرگوشجس طرح جائے توپ کا گولایا گرے آسمان سے اولاایک دو کھیت چوکڑی بھر کےاپنی چستی پہ آفریں کر کےکسی گوشہ میں سو گیا جا کرفکر ''کیا ہے چلیں گے سستا کر''اور کچھوا غریب آہستہچلا سینہ کو خاک پر گھستاسوئی گھنٹے کی جیسے چلتی ہےیا بہ تدریج چھاؤں ڈھلتی ہےیوں ہی چلتا رہا بہ استقلالنہ کیا کچھ ادھر ادھر کا خیالکام کرتا رہا جو پے در پےکر گیا رفتہ رفتہ منزل طےحیف خرگوش رہ گیا سوتاثمرہ غفلت کا اور کیا ہوتاجب کھلی آنکھ تو سویرا تھاسخت شرمندگی نے گھیرا تھاصبر و محبت میں ہے سرافرازیسست کچھوے نے جیت لی بازینہیں قصہ یہ دل لگی کے لیےبلکہ عبرت ہے آدمی کے لیےہے سخن اس حجاب میں روپوشورنہ کچھوا کہاں کہاں خرگوش
شنکر ڈمرو کا متبادل تلاش کر چکاگوپیاں اب کسی اودھو کی محتاج نہیںٹرنک کالان کی سمسیاؤں کا حل ہےعزرائیل!ایٹم اور ہیلیم کے حق میںدست بردار ہونے کی فکر میں ہےاسرافیل کی جمالیاتی حس کو جلا مل گئیاب وہ کسی میوزک اسکول میں داخلہ لے لے گافوڈ کارپوریشن کا مطالبہ:'میکائیل کا رٹائرمنٹ' مان لیا گیا ہےوائرلس ٹیلی گراف کا محکمہافسر اعلی کے عہدہ کے لیےجبرئیل کی درخواست پر غور کر رہا ہے'خدا کی جگہ خالی ہے'متمنی حضرات فوراً سے پیشتر درخواست دیں!
انجینئرلکھ پڑھ کے میں تو اک دناہل ہنر بنوں گاچاہا اگر خدا نےانجینئر بنوں گاہوگی مرے ہنر سے تعمیر اس وطن کیجاگے گی میرے فن سے تقدیر اس وطن کیچلتی رہیں مشینیں صنعت تمام چمکےجس طرح صبح چمکے ویسے ہی شام چمکےاہل ہنر بنوں گاانجینئر بنوں گاڈاکٹرجسے تکلیف میں پاؤںاسے آرام پہنچاؤںجہاں غم کا اندھیرا ہوخوشی کی روشنی لاؤںجہاں آنسو برستے ہوںہنسی اس گھر میں بکھراؤںدعا ہے ڈاکٹر بن کردکھی لوگوں کے کام آؤںوطن کا سپاہیوطن کا بہادر سپاہی بنوںشجاعت کی دنیا کا راہی بنوںلیفٹ رائٹ لیفٹلیفٹ رائٹ لیفٹوطن میں جہاں ہو ضرورت مریوہیں کام آئے شجاعت مریدلیری کا میں سب کو پیغام دوںجو مشکل ہو وہ کام انجام دوںہمیشہ ترقی کی راہوں میں ہمچلیں ساتھیوں سے ملا کے قدملیفٹ رائٹ لیفٹلیفٹ رائٹ لیفٹٹیچرنا چاندی نا سونا چاہوںمیں تو ٹیچر ہونا چاہوںحاصل جو تعلیم کروں میںسب میں اسے تقسیم کروں میںننھے منے بچے آئیںعلم کی دولت لیتے جائیںکم نہ ہو یہ تقسیم کئے سےجلتا ہو جیسے دیا دئے سےپائلٹبلندی پہ جا کے سفر کرنے والاہوا باز اونچا ہوا باز اعلیٰوہ رن وے پہ آیا جو ٹیک آف کرنےتو سورج نے پہنائی کرنوں کی مالاپسنجر ہیں سیٹوں پہ بے فکر بیٹھےاڑائے لیے جا رہا ہے جیالاہماری امنگوں سے کیا کہہ رہا ہےفضاؤں میں اڑتا ہوا یہ اجالاوکیلانصاف کی شان دکھاؤںانصاف کا رنگ جماؤںمظلوم سے ہو ہمدردیظالم کو سزا دلواؤںمجرم کے کالے دل میںقانون کی شمع جلاؤںہر بات میں سب سے آگےانصاف کی بات بڑھاؤںانصاف کی شان دکھاؤںانصاف کا رنگ جماؤںہاریسوچا ہے میں نےہاری بنوں گاکھیتوں میں جھوموںگندم اگا کےدھرتی کو چوموںفصلیں سجا کےسارے وطن کوخوش حال کر دوںخوشیوں سے سب کےدامن کو بھر دوںہاری بنوں گا
رشک فردوس ہے تیرا رنگیں چمنتجھ پہ گلباش کرتے ہیں کوہ و دمنتیرے ماتھے کی ریکھا ہیں گنگ و جمنتیری مٹی میں خوابیدہ ہیں فکر و فنفخر یونان تھی تیری بزم کہنمیرے ہندستاں میرے پیارے وطندیوتاؤں کی رشیوں کی یہ سرزمیںذرہ ذرہ تری خاک کا ہے حسیںچومتا ہے قمر روز تیری جبیںتیرے جلوے نہ ہوں کس لیے دل نشیںتیرے ذرے میں خورشید کی ہے کرنمیرے ہندستاں میرے پیارے وطنتیرے قدموں کی زینت ہے گوداوریہے ہمالہ کا پربت ترا سنتریہے حقیقت میں کشمیر جنت تریذرے ذرے میں تیرے ہے اک زندگیدیش کی شان ہے تاج کا بانکپنمیرے ہندستاں میرے پیارے وطنکس بلا کی کشش تیرے خاروں میں ہےاوج فردوس پنہاں بہاروں میں ہےاک نیا بانکپن کوہساروں میں ہےدل کشی کس قدر چاند تاروں میں ہےہے زمانہ سے اعلیٰ تری انجمنمیرے ہندستاں میرے پیارے وطنمیرا مندر ہے تو میرا کعبہ ہے تومیرا ملجا ہے تو میرا ماویٰ ہے تومیری عقبیٰ ہے تو میری دنیا ہے تومیرا ہے ساز دل میرا نغمہ ہے تومیری ہر سانس تیرے لیے نغمہ زنمیرے ہندستاں میرے پیارے وطنسب کو الفت کے مرکز پہ لاؤں گا میںایکتا کا دیا پھر جلاؤں گا میںاپنے ہاتھوں وطن کو سجاؤں گا میںپریم کے گیت ہر وقت گاؤں گا میںاس طرح کا بناؤں گا میں سنگٹھنمیرے ہندستاں میرے پیارے وطنخون سے اپنے دوں گا تجھے زندگیتیرے پھولوں کو دوں گا نرالی خوشیذرے ذرے کو بخشوں گا میں روشنیسب کو ایسی سناؤں گا میں راگنیشانتی کی بہاؤں گا گنگ و جمنمیرے ہندستاں میرے پیارے وطن
ماں کی نظروں میں جوانی آئے گیاور وہ تعلیم اعلیٰ پائے گی
خطیب اعظم عرب کا نغمہ عجم کی لے میں سنا رہا ہےسر چمن چہچہا رہا ہے سر وغا مسکرا رہا ہےحدیث سرو و سمن نچھاور زبان شمشیر اس پہ قرباںمسیلمہ ایسے جعل سازوں کی بیخ و بنیاد ڈھا رہا ہےقرون اولی کی رزم گاہوں سے مرتضیٰ کا جلال لے کردبیز نیندیں جھنجھوڑتا ہے مجاہدوں کو جگا رہا ہےہیں اس کی للکار سے ہراساں محمد مصطفی کے باغیوفا کے جھنڈے گڑے ہوئے ہیں غنیم پر دندنا رہا ہےمیں اس کے چہرے کی مسکراہٹ سے ایسا محسوس کر رہا ہوںکہ جیسے کوثر پہ شام ہوتے کوئی دیا جھلملا رہا ہےوہ مرد درویش جس کو حق نے دئیے ہیں انداز خسروانہاسی کی صورت کو تک رہا ہے سفر سے لوٹا ہوا زمانہ
مینو سواد تجھ سے ہیں وادیاں ہماریاور کشت آرزو ہے رشک جناں ہماریوہ دن بھی ہوگا ہوں گے جب ہم غریق رحمتاور تیری نذر ہوں گی یہ ہڈیاں ہماریگنگا میں پھینک آنا بعد فنا اٹھا کربرباد ہو نہ مٹی او آسماں ہمارییا رب نہ دفن کر کے احباب بھول جائیںلے کر ہمارے خوش خوش گنگا کو پھول جائیں
مچی ایک ہلچل سی اعلان سےکہ جیتے ہیں بدھو بڑی شان سے
زمین ہند کی رتبہ میں عرش اعلیٰ ہےیہ ہوم رول کی امید کا اجالا ہے
سسکی اور قہقہہمیں اپنے پاؤں تلے سے جنت نکال کربڑی خوشی سے تمہیں سونپنے کے لئے تیار ہوںمیں اپنے پاؤں میں بندھی گرہستی کی بیڑیوں کوبس تھوڑا سا ڈھیلا کر رہی ہوںزیادہ دور نہیں جاؤں گیایک قہقہہ لگا کر ایک سسکی بھر کریا ایک نظم لکھ کر لوٹ آؤں گیمیں آزاد عورت ہوں لیکناگر میرے بچوں کے بالوں میں لیکھیں پڑ جائیںان کی گردن پر پسینہ ملی مٹی نظر آئےمیرے کھانوں میں مصالحوں کی ترتیب گڑبڑ ہو جائےبچوں کے ہوم ورک کی کاپی پرناٹ ڈن لکھا ہوا آ جائےگھر آئے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئےایک کپ چائے بھی نہ پلا سکوںآفس سے لوٹتے ہوئے تھکے ہوئے شوہر سےحال احوال بھی نہ پوچھوںتو میری سانسیں گھٹی ہوئیاور قہقہہ پھٹی پھٹی آنکھیںاور نظم ادھورا خواب لگتی ہےخدا نے نبوت عطا کرتے ہوئے امام بناتے ہوئےپوری قلندری عطا کرتے ہوئےمجھ پر اعتبار نہیں کیا تھاپوری قوم کو اعلیٰ نسل دینے کی ذمہ داریفقط میری ہےاس عالی منصب پر کام کرتے کرتےمیں تھک بھی تو سکتی ہوںمیری اتفاقی رخصت منظور ہو چکی ہےمیں جا رہی ہوں ایک سسکی بھرنے ایک قہقہہ لگانےاور ایک نظم لکھنے کے لیےچھٹی اخلاقی طور پر منظور ہونے کے باوجودگھر کی ہر چیز کو مجھ سے شکایتکیوں ہےبچوں کے چہرے پر غصہ دیکھ کر سوچتی ہوںقہقہہ عیاشی اور سسکی یا آس ہےاور نظم پاؤں میں چبھا ہوا کانچ کا ٹکڑا ہےمیری ماں کہتی ہےتم مجھ سے اچھی ماں نہیں ہوتم عجب ہو گھر شوہر اور بچوں کے علاوہاور بھی کچھ چاہتی ہومیری بیٹی میرے ہاتھ سے قلم چھین کرکہتی ہے فرنچ فرائی بنا کر دومیں سوچتی ہوںمیری بیٹی کو بھی جبایک قہقہے نظم یا تصویر کے لئےاپنی زندگی کی تجوری سےکچھ پل درکار ہوں گےتو میں اسے کیا مشورہ دوں گیقہقہہ بچپن کی بچھڑی ہوئی سکھیسسکی ہاتھوں سے اڑتا ہوا پنچھیاور نظم گناہ ہے
لرز رہا تھا وطن جس خیال کے ڈر سےوہ آج خون رلاتا ہے دیدۂ تر سےصدا یہ آتی ہے پھل پھول اور پتھر سےزمیں پہ تاج گرا قوم ہند کے سر سےحبیب قوم کا دنیا سے یوں روانہ ہوازمیں الٹ گئی کیا منقلب زمانہ ہوا
علم اک ایسی دولت ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books