aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "HoWJ"
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں
بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنواٹھو اہل وطن کے دوست بنومرد ہو تم کسی کے کام آؤورنہ کھاؤ پیو چلے جاؤجب کوئی زندگی کا لطف اٹھاؤدل کو دکھ بھائیوں کے یاد دلاؤپہنو جب کوئی عمدہ تم پوشاککرو دامن سے تا گریباں چاککھانا کھاؤ تو جی میں تم شرماؤٹھنڈا پانی پیو تو اشک بہاؤکتنے بھائی تمہارے ہیں نادارزندگی سے ہے جن کا دل بیزارنوکروں کی تمہارے جو ہے غذاان کو وہ خواب میں نہیں ملتاجس پہ تم جوتیوں سے پھرتے ہوواں میسر نہیں وہ اوڑھنے کوکھاؤ تو پہلے لو خبر ان کیجن پہ بپتا ہے نیستی کی پڑیپہنو تو پہلے بھائیوں کو پہناؤکہ ہے اترن تمہاری جن کا بناؤایک ڈالی کے سب ہیں برگ و ثمرہے کوئی ان میں خشک اور کوئی ترسب کو ہے ایک اصل سے پیوندکوئی آزردہ ہے کوئی خورسندمقبلو! مدبروں کو یاد کروخوش دلو غم زدوں کو شاد کروجاگنے والے غافلوں کو جگاؤتیرنے والو ڈوبتوں کو تراؤہیں ملے تم کو چشم و گوش اگرلو جو لی جائے کور و کر کی خبرتم اگر ہاتھ پاؤں رکھتے ہولنگڑے لولوں کو کچھ سہارا دوتندرستی کا شکر کیا ہے بتاؤرنج بیمار بھائیوں کا ہٹاؤتم اگر چاہتے ہو ملک کی خیرنہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیرہو مسلمان اس میں یا ہندوبودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہموجعفری ہووے یا کہ ہو حنفیجین مت ہووے یا ہو ویشنویسب کو میٹھی نگاہ سے دیکھوسمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کوملک ہیں اتفاق سے آزادشہر ہیں اتفاق سے آبادہند میں اتفاق ہوتا اگرکھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیوں کرقوم جب اتفاق کھو بیٹھیاپنی پونجی سے ہات دھو بیٹھیایک کا ایک ہو گیا بد خواہلگی غیروں کی پڑنے تم پہ نگاہپھر گئے بھائیوں سے جب بھائیجو نہ آنی تھی وہ بلا آئیپاؤں اقبال کے اکھڑنے لگےملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگےکبھی تورانیوں نے گھر لوٹاکبھی درانیوں نے زر لوٹاکبھی نادر نے قتل عام کیاکبھی محمود نے غلام کیاسب سے آخر کو لے گئی بازیایک شائستہ قوم مغرب کییہ بھی تم پر خدا کا تھا انعامکہ پڑا تم کو ایسی قوم سے کامورنہ دم مارنے نہ پاتے تمپڑتی جو سر پہ وہ اٹھاتے تمملک روندے گئے ہیں پیروں سےچین کس کو ملا ہے غیروں سے
حب قومی کا زباں پر ان دنوں افسانہ ہےبادۂ الفت سے پر دل کا مرے پیمانہ ہےجس جگہ دیکھو محبت کا وہاں افسانہ ہےعشق میں اپنے وطن کے ہر بشر دیوانہ ہےجب کہ یہ آغاز ہے انجام کا کیا پوچھنابادۂ الفت کا یہ تو پہلا ہی پیمانہ ہےہے جو روشن بزم میں قومی ترقی کا چراغدل فدا ہر اک کا اس پر صورت پروانہ ہےمجھ سے اس ہمدردی و الفت کا کیا ہووے بیاںجو ہے وہ قومی ترقی کے لیے دیوانہ ہےلطف یکتائی میں جو ہے وہ دوئی میں ہے کہاںبر خلاف اس کے جو ہو سمجھو کہ وہ دیوانہ ہےنخل الفت جن کی کوشش سے اگا ہے قوم میںقابل تعریف ان کی ہمت مردانہ ہےہے گل مقصود سے پر گلشن کشمیر آجدشمنی نااتفاقی سبزۂ بیگانہ ہےدر فشاں ہے ہر زباں حب وطن کے وصف میںجوش زن ہر سمت بحر ہمت مردانہ ہےیہ محبت کی فضا قائم ہوئی ہے آپ سےآپ کا لازم تہ دل سے ہمیں شکرانہ ہےہر بشر کو ہے بھروسا آپ کی امداد پرآپ کی ہمدردیوں کا دور دور افسانہ ہےجمع ہیں قومی ترقی کے لیے ارباب قومرشک فردوس ان کے قدموں سے یہ شادی خانہ ہے
نظیرؔ ہولی تو ہے ہر نگر میں اچھی خوبولیک ختم ہوا آگرے پہ یہ اسلوبکہاں ہیں ایسے صنم اور کہاں ہیں یہ محبوبجنہوں کے دیکھے سے عاشق کا ہووے تازہ قلوبتری نرالی ہے یاں چال ڈھال ہولی میں
اور کبھی اس نام کے سنتے ہی اندر سے کوئی پوچھے ہےکس کا نام لو ہواور تب احساس ہووے ہے کہ اس کا ہو کہ اپنا ہووہی اک نام تو ہےاور تب احساس ہووے ہے وہ ہم میں ہے کہ اس کا نامہم ہیںاور تب احساس ہووے ہے کہ یوسف سے زلیخا شام سےرادھا کے ہجے ہی جدا ہیں ورنہ چاروںکا تماشہ ایک سا ہے
ٹوانکل ٹوانکل لٹل اسٹارہاؤ آئی ونڈر وہاٹ یو آرٹوانکل ٹوانکل لٹل اسٹارننھے منے راج کمارتیری باتوں کی جھنکارمیری خوشیوں کا سنسارچندا کھیلے میرے دوارجگ مگ جگ مگ در دیواریوں مہکا ہے سب گھر یارجیسے پھولوں کا بازارمیں ہوں نیا تو پتوارتیرے ابو کھیون ہارتجھ پر یوں برساؤں پیارجیسے برکھا رت کی پھوارٹوانکل ٹوانکل لٹل اسٹارمیرے اچھے راج کماراور میں امی کیا کیا ہوںچڑیا طوطا مینا ہوںمیری اچھی امی جیمجھ کو پڑھنے بھیجوگیجب میں پڑھ کر آؤں گامیں بھی لکھ کر لاؤں گاپڑھیے امی پھر اک بارٹوانکل ٹوانکل لٹل اسٹارہاؤ آئی ونڈر وہاٹ یو آر
آؤ پیارے بھاگ چلیں آکاش کے پلے پارنگری ہے یہ پاپ کی پیارے پاپ کا ہر سو آگآشا کی گر چاہت ہووے دکھ نہ اس سے لاگجانے بوجھے لاگ جو رکھے پھوٹے اس کا بھاگڈھنگ یہاں کے نیارے ہیں اور نیارا ہے سنسارپیارے نیارا ہے سنسار
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books