aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "KHalal"
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
قدر اے دل وطن میں رہنے کیپوچھے پردیسیوں کے جی سے کوئیجب ملا رام چندر کو بن باساور نکلا وطن سے ہو کے اداسباپ کا حکم رکھ لیا سر پرپر چلا ساتھ لے کے داغ جگرپاؤں اٹھتا تھا اس کا بن کی طرفاور کھنچتا تھا دل وطن کی طرفگزرے غربت میں اس قدر مہ و سالپر نہ بھولا ایودھیا کا خیالدیس کو بن میں جی بھٹکتا رہادل میں کانٹا سا اک کھٹکتا رہاتیر اک دل میں آ کے لگتا تھاآتی تھی جب ایودھیا کی ہواکٹنے چودہ برس ہوئے تھے محالگویا ایک ایک جگ تھا ایک اک سال
اگر میں چیخوںمیں اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چیخوںتو کائناتی نظام میں کیا خلل پڑے گایہی کہاندھے کنویں سے اک بازگشت ہوگیکہے گی کیوں تم کو کیا ہوا ہے؟تمہی بڑے آئے ہو کہیں کےیہ آسمان و زمیںیہ سورج یہ چاند تارےتمام ماں باپ سارے اجدادشہر کے سب شریف زادےانہیں بھی دیکھویہ سب مصیبت زدہ، متانت سےبردباری میں سہہ رہے ہیںتمہی میں برداشت کی کمی ہےاگر میں چیخوں تومیری آواز بھی ملامت کرے گی مجھ کووہ سب کہیں گےکہ کون یہ شور کر رہا ہےہماری نیندیں اچاٹ کر دیںاگر میں چیخوںتو سارا امن و سکوننظم اور نسقمجھ کو خلاف قانون، دشمن خلق کہہ کرصلیب دے گامگر یہ چیخوں بھرا ہوا دلکسی بھی لمحےمجھے کہیں خوفناک راہوں پہ ڈال دے گاصلاح دے گاکہ زور سے چیخوکہ جسم کے ساتھروح بھی سرد ہو گئی پھرتو کیا کرو گے
یہ شعر حافظ شیراز، اے صبا! کہناملے جو تجھ سے کہیں وہ حبیب عنبر دست''خلل پذیر بود ہر بنا کہ مے بینیبجز بنائے محبت کہ خالی از خلل است''
عجب ایک الجھن ہےآنکھیں بناؤں یا رہنے ہی دوںتیرے خاکے میں میں تیرے چہرے کے عضلات کو کھینچ کروہ ترا اک تبسم بنانے کی کوشش کو پورا اگر کر بھی لوںپر جو تجھ میں زمانوں کی تہذیب کی اک کہانی بنی ہےترے لا شعوری رویوں میں اربوں برس کے حسیں ارتقا کاوہ جو اک فسانہڈی این اے کی بیسز میں ترتیب پا کرتجھے تو بناتا ہے وہ اک فسانہوہ خاکوں میں آخر کو کیسے سناؤںاے وجہ سخنجان و رنگ غزلکائناتی محبت کا رد عملاے اداسی کے ہونے میں واحد خللتجھ سے نادم ہوں میںمیرے وہم و گماں میں قلم میں مرے اور قرطاس میںتیرا ہونا مسلسل نہیں ہو رہامیری باونویں کوشش میں بھی اب تلکتیرا خاکہ مکمل نہیں ہو رہا
راحت بندۂ بے دام کہاں ہے آ جاپیکر حسن سر بام کہاں ہے آ جارونق بزم ہے او جام کہاں ہے آ جازینت جلوہ گہ عام کہاں ہے آ جااے امید دل نا کام کہاں ہے آ جاتیری فرقت خلل انداز سکون پیہمتیری فرقت دل مایوس پہ اک طرفہ ستمتیری فرقت سبب کاوش و بیداریٔ غمتو نہیں ہے تو پھر آرام کہاں ہے آ جاشاہد دور سیہ بخت و شب تار ہوں میںخوگر نالۂ لذت کش آواز ہوں میںدام طوفان حوادث میں گرفتار ہوں میںروز و شب منتظر دید رخ یار ہوں میںدل ہے وقف غم آلام کہاں ہے آ جاشعلۂ بر کف گل داغ جگر تیرے بغیرخار بردوش ہے دامان نظر تیرے بغیرخوں فشاں ہے شب غم دیدۂ تر تیرے بغیرچلن آتا ہی نہیں شام و سحر تیرے بغیرمنتظر ہوں سحر و شام کہاں ہے آ جادور تاریکیٔ غم سے شب تنہائی سےدم بدم جوش جنوں کی ستم آرائی سےکعبہ و دیر و کلیسا کی جبیں سائی سےخوف مجبوری و ناکامی و رسوائی سےعشق ہے لرزہ بر اندام کہاں ہے آ جامنتشر ہونے لگی انجمن ناز حیاتبن گیا خواب ہر اک منظر آغاز حیاتدم شکستہ سا نظر آنے لگا ساز حیاتاب کوئی دم میں ہوا جاتا ہے وا راز حیاتآ گیا نزع کا ہنگام کہاں ہے آ جا
قبر میں اترتے ہیمیں آرام سے دراز ہو گیااور سوچایہاں مجھےکوئی خلل نہیں پہنچائے گایہ دو گز زمینمیریاور صرف میری ملکیت ہےاور میں مزے سےمٹی میں گھلتا ملتا رہاوقت کا احساسیہاں آ کر ختم ہو گیامیں مطمئن تھالیکن بہت جلدیہ اطمینان بھی مجھ سے چھین لیا گیاہوا یوںکہ ابھی میںپوری طرح مٹی بھی نہ ہوا تھاکہ ایک اور شخصمیری قبر میں گھس آیااور ابمیری قبر پرکسی اور کاکتبہ نصب ہے!!
اگر میں کہتا ہوں جینا ہے قید تنہائیتو زندگانی کی قیمت پہ حرف کیوں آئےاگر نہ آیا مجھے سازگار وصل حبیبتو اعتماد محبت پہ حرف کیوں آئےاگر ملے مجھے ورثے میں کچھ شکستہ کھنڈرتو کائنات کی وسعت پہ حرف کیوں آئےاگر دکھائی دئے مجھ کو آدمی آسیبتو عصر نو کی بصیرت پہ حرف کیوں آئےاگر نہ راہ یقیں پا سکی مری تشکیکتو فکر و فن کی شرافت پہ حرف کیوں آئےاگر خزاں ہی ملی مجھ کو آنکھ کھلنے پرتو فصل گل کی امانت پہ حرف کیوں آئےاگر مرے غم بے نام ہمیں ملی وحشتتو بزم جشن مسرت پہ حرف کیوں آئےمیں اپنے عہد کا ہوں نوحہ خواں نہ دیجے دادقصیدہ خواں کی روایت پہ حرف کیوں آئےاگر ہنر ہے مرا جنس کم عیار تو ہوضمیر و دل کی تجارت پہ حرف کیوں آئےمیں اپنے خوابوں کا بھٹکا ہوا مسافر ہوںاگر مجھے نہ ملی منزل نجات تو کیامیں اپنی روح کی تنہائیوں کا شعلہ ہوںہوائے دہر میں حاصل نہیں ثبات تو کیامیں اپنی طرفگی طبع کا تو پی لوں زہرجو دسترس میں نہیں چشمۂ حیات تو کیامیں اپنی ذات کی خلوت کا حیرتی ہی سہیجو مجھ پہ کھل نہ سکا راز کائنات تو کیامیں اپنے خوں کے چراغوں کو روشنی دے دوںسحر نصیب نہ ہو پائے میری رات تو کیامیں آپ سے نہ کہوں گا کہ ہے زیاں جاں کاخیال شیشۂ دل سنگ آزما نہ کرےمیں آپ سے نہیں چاہوں گا داد جاں بازیدعا ہے آپ کو غم درد آشنا نہ کرےمیں آپ سے نہیں مانگوں گا خوں بہائے وفاکوئی تو ترک رہ و رسم عاشقانہ کرےمیں آپ کو نہ دکھاؤں گا اپنے زخمی خوابخلل ہو آپ کے آرام میں خدا نہ کرے
اپنی بھونڈی خرد کو بہلائیںخوب صابن سے اس کو نہلائیںپیار سے اس کی پیٹھ سہلائیںاور ساحل پہ اس کو ٹہلائیںسر بسر عقل کا خلل ہیں ہمہاں میاں انٹلکچول ہیں ہم
دق تجھ سے کتابیں ہیں بہت کرم کتابیتو دشمن دزدیدہ ہے خاکی ہو کہ آبیالفاظ کی کھیتی ہے فقط تیری چراگاہمعنی کی زمیں تیرے سب سایوں نے دابیہونے کو تری اصل ہے صیاد مکیں گاہکہنے کو فقط تیری حقیقت ہے سرابیتو نے تو ہر اک سمت لگائی ہیں سرنگیںپارینہ ہو فرمان کتابیں ہوں نصابیبادامی ہو کاغذ تو مزا اور ہی کچھ ہےلقمہ ہوا تحریر کا ہر مغز شتابیگھن ساتھ ہی گیہوں کے ہے پستہ ہوا دیکھابرگشتہ ورق لا نہ سکا تجھ پہ خرابیکیا خوب ہے یہ مجلس اوراق کہن بھیویران کتب خانوں کی دیمک تری لابیفردوسی و خلدوں کی کتابیں ہیں ہراساںوہ قلعہ معنی تیرا حملہ ہے جوابیپردہ ہے خموشی تری آہنگ فنا کیبھونرا ہے فقط کنج گلستاں کا ربابیتو چاٹ گیا دانش کہنہ کی فصیلیںبنیاد عمارت کو ہے ڈھانا تری ہابیاعداد کے قالب میں ہے تو صفر کی طاقتصفحات کے سوراخ کا بے نام حسابیتاریخ کے اس سیل میں انسان نے پائیایک آدھ کوئی موج نفس وہ بھی حبابیبکتے سر بازار ہیں مانند زغال آججو تازہ نفس خواب تغیر تھے شہابیکھا جاتی ہے اک دن اسے سب گرد زمانہمٹی کی وہ صحنک ہو کہ چینی کی رکابیبدلی ہوئی دنیا میں تغیر کا عمل ہےتو کرم کتابی نہیں اک کرم خلل ہے
اور ایسے میںانہوں نے اسے بھیج دیا ہےجان بوجھ کرمیری تنہائی میں خلل ڈالنے کے لیےتاکہ مل جائے مجھے پھر کوئینفرت کرنے کے لیے
حوض میںبے حرکتپانی کی سطح پرایک مینڈکپاؤں لمبائےآرام سےاونگھ رہا ہے!ابھی کوئیوضو کرنے آئے گااورپانی میںہلچل مچائے گا!!
تھا حسن اتفاق کہ ٹی کورنر میں کلقسمت سے میری مل گئے اک انٹلکچوئلبیٹھے ہوئے تھے زاویۂ قائمہ بنےجیسے محاذ پر ہو کوئی فیلڈ مارشلرکھا تھا پورٹ فولیو بیگ ایک میز پراور اس سے متصل تھیں کتابیں ڈبل ڈبلموٹی سی میگزین بھی تھی اک دھری ہوئیجس کے سر ورق پہ تھے سر جون مائیکلیوں عالم خیال میں ڈوبے ہوئے تھے آپجیسے دماغ میں ہو کسی مسئلے کا حلالجھے ہوئے تھے بال حجامت بھی تھی بڑھیچہرے پہ ادعائے متانت جبین پہ بلمیں نے بصد خلوص و ادب چائے پیش کیاور اس کے بعد آیا رخ گفتگو نکلموسم کے تذکرے سے چلی بات ادب کی سمتاپنی جگہ پر آپ کا ہر قول تھا اٹلہر بات میں کہیں کا حوالہ ضرور تھااس سے غرض نہ تھی کہ حوالہ ہو بر محلاردو کے ارتقا کی طرف بات جب مڑیکہنے لگے کہ تیز ہے رفتار آج کلمیں نے کہا کہ ذہن ابھی تک غلام ہیںجاتا نہیں دماغ سے تقلید کا خللافکار مستعار ہیں تخئیل مستعارہر نکتہ بے مقام ہے ہر لفظ بے محلتنقید چھیڑ چھاڑ ہے تحقیق کھود کھادچلتے ہیں یوں قلم کہ چلے جس طرح سے ہلافسانوں کے مزاج میں افسانہ پن نہیںاس شتر بے مہار کی سیدھی ہے کون کلپریوں کے بدلے اس میں مشینوں کا ناچ ہےاک جوٹ مل بنا ہے پری خانۂ غزلپہلے تھا فارسی کے تتبع پر افتخاراب مغربی ادب کی غلامی ہے بے خللبولے فضول آپ نہ بکواس کیجیےاب کاروان فکر کی راہیں گئیں بدلمیں نے کہا کہ چند ادیبوں کا نام لیںاپنی ڈگر بنا کے جو چلتے ہیں آج کلبولے کہ ایک موسیو ژاں پال سارترجس نے بنا دیا ہے ہمیں انٹلکچوئلاور دوسرا ہے جیمس جوائس ادیب عصرپرزے دل و دماغ کے دیتا ہے جو بدلمیں نے کہا حضور یہ اردو کا تھا سوالبولے کہ آپ بحث کریں مجھ سے یہ مجال
وہ اک شخص تھاجو اکیلا تھا اس کا کوئی بھی نہ تھااک اکائی تھا وہاور اک دن خود اپنی اکائی میں ضم ہو گیااس نے مرتے ہوئے اک وصیت لکھیجس میں لکھا تھا!اے آدمی!اے وہ اک شخصجو مرے مرنے کی پہلی خبر سن کے دوڑےاور آواز دے بھائیو آؤ اس کا جنازہ اٹھاؤاور اس آواز پہ کوئی آواز اس تک نہ پہنچےاور پھر مجھ سے بیکس اکیلے کو کاندھوں پہ اپنے دھرےاور اکیلی سی اک قبر میں مجھ کو پہنچا کے محفوظ کر دےمیرا وہ دوست اتنا سا احسان مجھ پر کرےوہ مری قبر پر ایک سادہ سا کتبہ لگائےاور اس پر مرا نام لکھ دےسچ کہوں اس سے میں اپنی شہرت نہیں چاہتاکیا مرا نام اور کیوں وہ باقی رہےمیں اس واسطے چاہتا ہوں کہ جبشہر کے لوگ یہ سن کے دوڑیںکہ دیکھو یہ مشہور ہے، لوگ کہتے ہیں وہ شخص تو مر گیاسوچتے ہیں یہ اسی کی شرارت نہ ہوتاکہ ہم لوگ اب اس سے غافل رہیںاس کے فتنے سے اپنے کو محفوظ سمجھیںبس یہی چاہتا ہوںکہ ایسا کوئی شخص ڈھونڈھے مجھےتو سہولت ہو اس کو یہ تصدیق کرنے کییہ شخص سچ مچ نہیں ہےوہ اب مر چکا ہےمیں تو اب دشمنوں کے بھی آرام کے حق میں ہوںکیوں کسی کو کسی سے خلل ہو؟کیوں کسی کو نام سے ایک دہشت ہو؟سارے انسان دنیا میں آرام سے سوئیں اور خوش رہیں
ہم تمہیں قتل ہی کر دیں گے مگر آج کی راتمت کہو بیٹی بہو اور بہنتم تو ہو ایک حسیں مشغلۂ عیش و نشاطآج تک دیکھی نہ تھی جس کی جھلکگورا گورا سا بھرا جسم گدازجس نے ارمانوں میں اک آگ لگا رکھی ہےسسکیاں بند کرو اور بلکنا چھوڑواپنے واویلا سے اب اور منغص نہ کروچھوڑ دو اپنے عزیزوں کا خیالجن میں ناموس پہ کٹ مرنے کی ہمت ہی نہ تھیبھاگ نکلے ہیں جو جینے کی تمنا لے کربھول جاؤ کہ کبھی ان سے بھی نسبت تھی تمہیںسورماؤں سے ملو ان کی یہ عظمت سمجھومحفل عیش کو ہاں اور منغض نہ کرویہ نوازش نہیں کچھ کم کہ چنا ہے ہم نےتمہیں اس محفل عشرت کو سجانے کے لئےدو گھڑی رنگ جمانے کے لئےپونچھ لو آنسو پھرا لو آنکھیںلاش بچے کی نہیں یہ تو ہے ذلت کا نشاںکیسے انسانوں سے نسبت تھی تمہیںہم نے تو رحم سے خاموش کیا ہے اس کوورنہ ہم یہ بھی تو کر سکتے تھےہاتھ اور پیر قلم کر کے اسے تڑپاتےایک اک بوٹی اڑاتے تمہیں دکھ پہنچاتےتم تو خوش بخت ہو آیا نہیں یوں طیش ہمیںیہ تو منظور تھا خلل عیش ہمیں
دریدہ پیرہن پھرتا ہوا انساناپنی آخری خواہش پہ چوکیدار نافذ کر رہا ہےاب اس کو کون سمجھائےخلا کے اس طرف کچھ بھی نہیں پنہاںیہ دنیا خواہشوں کی قید میںالجھے ہوئے انساں کا پنجرہ ہےجو اپنی خواہشوں کی تال پرکچھ یوں تھرکتا ہے سمجھتا ہے کہسب کچھ مل گیا شایدمگر یہ سب خلل ہے واہمہ ہےیہ دماغی ایٹموں کی کوکھ میں پنہاں خلا ہےجو کبھی بھرتا نہیں ہے
جب تک ادب برائے ادب کا رہا خیالادبار و مفلسی سے رہے ہم شکستہ حالسائے کی طرح ساتھ نحوست لگی رہیاک روگ بن کے جان سے عسرت لگی رہیگو شاعری کا رنگ نکھرتا چلا گیاشیرازۂ معاش بکھرتا چلا گیالیکن خدا بھلا کرے اک مہربان کاجن کو ادب برائے شکم کا ہے تجربہموصوف نے بتائی ہمیں وہ پتے کی باتاب دن ہے روز عید تو شب ہے شب براتآل انڈیا مشاعرہ مجلس کے نام سےکھولا ہے اک ادارۂ نو دھوم دھام سےکرتے ہیں شاعری کے عوض اب مشاعرہاس روزگار سے ہے ہمیں خوب فائدہہر تین چار ماہ کے وقفے پہ بے خللاپنے پروگرام پہ کرتے ہیں ہم عملیعنی مشاعرے کا چلاتے ہیں کاروبارچھپوا کے روز ناموں میں جھوٹا یہ اشتہارجوشؔ و فراقؔ و ساحرؔ او پرویزؔ شاہدیفیضؔ و خلیلؔ و جذبیؔ او مخدومؔ و جعفریؔکرسی و عرش و لوح و قلم سب ہی آئیں گےتازہ کلام اپنی زباں سے سنائیں گےاس اشتہار میں وہ کشش ہے کہ اہل ذوقلیتے ہیں داخلے کا ٹکٹ دوڑ کر بہ شوقسرکس میں جس طرح سے ہو خلقت کا اژدہامیوں ہی مشاعرے میں پہنچتے ہیں خاص و عامسب لوگ بیٹھ جاتے ہیں فرش زمیں پہ جبمائک پہ جا کے کرتے ہیں اعلان ہم یہ تبافسوس ہے کہ آ نہ سکے جوشؔ اور فراقؔیہ ماسکو روانہ ہوئے وہ گئے عراقجذبیؔ کو اختلاج ہے پرویزؔ ہیں علیلگاڑی ذرا سی چوک سے مس کر گئے خلیلؔبھیجی ہے فیضؔ و ساحرؔ و مخدومؔ نے خبرسیٹ ان کو مل سکی نہ ہوائی جہاز پرگو یہ خبر دلوں کو گزرتی ہے ناگوارہونا ہے جلسہ گاہ میں تھوڑا سا انتشارلے کر مگر ذہانت فطری سے کام ہمدم بھر میں سامعین کو کرتے ہیں رام ہمڈائس پہ تک فروشوں کا رہتا ہے اک ہجومفلمی دھنوں میں گانے کی جن کے بڑی ہے دھومجو خود ٹکٹ خرید کے آتے ہیں بزم میںہم ان سے اپنا کام چلاتے ہیں بزم میںلے لے کے گٹکری جو سناتے ہیں وہ کلاماڑتے ہیں واہ واہ کے نعروں سے سقف و بامبزم نشاط بنتا ہے سارا مشاعرہہوتا ہے کامیاب ہمارا مشاعرہخوش خوش گھروں کو جاتے ہیں حضار اک طرفنوٹوں کا ہم لگاتے ہیں انبار اک طرفیہ خدمت ادب کا طریقہ ہے لا جوابپیشہ یہ وہ ہے جس میں منافع ہے بے حساب
مجھے تنہا ہی رہنے دومجھے تنہا ہی رہنے دومیں اب تنہائی میں آسودہ رہتا ہوںمجھے اب محفلوں کے شور سے وحشت سی ہوتی ہےمجھے اب اپنی خالی جھونپڑی کی خامشی میں چین پڑتا ہےیہاں کوئی بھی میری اور میرے دل کی باتوں میں خلل پیدا نہیں کرتایہاں میں جذب کی حالت میں گھنٹوں کھویا رہتا ہوںمگر کوئی مرا ٹھٹھا نہیں کرتامیں اس ماحول میں اپنی رضا سے جیتا مرتا ہوںیہاں جو کام بھی کرنا ہو میں جی بھر کے کرتا ہوںکبھی تا دیر ہنستا ہوںکبھی تا دیر روتا ہوںیہاں میری ہنسی سے یا مری آنکھوں کے نم سے کوئی افسانہ نہیں بنتایہاں میں حاسدوں کی بد نظراور دشمنوں کے مکر سے محفوظ رہتا ہوںیہاں اغیار کے دشنام اور احباب کے طعنوں کا مجھ کو ڈر نہیں ہوتاسو میرے دوستو تم سے گزارش ہےمجھے تنہائی میں آباد رہنے دواگر تم محفل آرائی سے خوش ہوخوش رہولیکنمجھے بھی شاد رہنے دومجھے تنہا ہی رہنے دومجھے تنہا ہی رہنے دو
کالی بلی نے یہ بھی نہیں سوچا کہ میں کسی نیند میں خلل ہو رہی ہوںاس کو تو چوہوں سے مطلب ہےاور یہ کم بخت اپنی بلوں میں چھپے کیوں نہیں رہتےازل سے یہی ہو رہا ہےگھڑی نے شاید بارہ بجا دیے ہیںیہ خدا کے آرام کا وقت ہےاور وہ شب بے دار اسے سونے نہیں دیتےاپنے برتے پر گناہ کرتے تو دعاؤں کی نوبت ہی کیوں آتیلیکن یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئے گیباتوں کے پھیر نے ہی ہم کو جنم دیا ہےورنہ زمیں کے کوکھ کہاں تھیپھر ہم نے جنت بنائی اور اسے جہنم میں جھونک دیااب یہ پہچاننا بڑا مشکل ہے کہ کون کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کون کہاں ختم ہوتی ہےپہلے دائروں سے زاویے نکلتے تھےاب زاویے دائرے بناتے ہیںمختصر یہ کہ دلیلوں نے اپنا کام چھوڑ دیا ہے
آہ فوارے ترے دل میں ہے کتنا اضطرابہر گھڑی ہے زندگی تیری رہین انقلابکس قدر ہے دل میں تیرے التہاب و انشقاقکیا تجھے بھی ہے کسی سے شکوۂ رنج فراقہے تری ہستی بھی کیا اندوہ کی سرمایہ دارکیا ترا دل بھی وفور رنج سے ہے بے قرارکیا تجھے بھی انتظار آمد محبوب ہےکیوں پریشاں اس قدر ہے کیا تجھے مطلوب ہےاف ترے موتی سے آنسو جا رہے ہیں رائیگاںہاں مگر تجھ کو محبت میں خیال اس کا کہاںہاں مگر پنہاں ہے ان اشکوں میں اک راز حیاتدے رہا ہے قرب کے پودوں کو تو اپنے ثباتکاش لیتے تجھ سے یہ انسان بھی درس عملپھر دماغوں میں نہ رہتا اس قدر ان کے خلل
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books