aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "afsar"
محبت ایک پسپائی ہے پر احوال حالت کیمحبت اپنی یک طوری میں دشمن ہے محبت کیسخن مال محبت کی دکان آرائی کرتا ہےسخن سو طرح سے اک رمز کی رسوائی کرتا ہےسخن بکواس ہے بکواس جو ٹھہرا ہے فن میراوہ ہے تعبیر کا افلاس جو ٹھہرا ہے فن میراسخن یعنی لبوں کا فن سخن ور یعنی اک پر فنسخن ور ایزد اچھا تھا کہ آدم یا پھر اہریمنمزید آں کہ سخن میں وقت ہے وقت اب سے اب یعنی
کسی کا حکم ہے ساری ہوائیںہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیںکہ ان کی سمت کیا ہےکدھر جا رہی ہیںہواؤں کو بتانا یہ بھی ہوگاچلیں گی اب تو کیا رفتار ہوگیہواؤں کو یہ اجازت نہیں ہےکہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہےہماری ریت کی سب یہ فصیلیںیہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیںحفاظت ان کی کرنا ہے ضروریاور آندھی ہے پرانی ان کی دشمنیہ سبھی جنتے ہیںکسی کا حکم ہے دریا کی لہریںذرا یہ سرکشی کم کر لیں اپنی حد میں ٹھہریںابھرنا پھر بکھرنا اور بکھر کر پھر ابھرناغلط ہے یہ ان کا ہنگامہ کرنایہ سب ہے صرف وحشت کی علامتبغاوت کی علامتبغاوت تو نہیں برداشت ہوگییہ وحشت تو نہیں برداشت ہوگیاگر لہروں کو ہے دریا میں رہناتو ان کو ہوگا اب چپ چاپ بہناکسی کا حکم ہےاس گلستاں میں بس اک رنگ کے ہی پھول ہوں گےکچھ افسر ہوں گے جو یہ طے کریں گےگلستاں کس طرح بننا ہے کل کایقیناً پھول تو یک رنگیں ہوں گےمگر یہ رنگ ہوگا کتنا گہرا کتنا ہلکایہ افسر طے کریں گےکسی کو یہ کوئی کیسے بتائےگلستاں میں کہیں بھی پھول یک رنگیں نہیں ہوتےکبھی ہو ہی نہیں سکتےکہ ہر اک رنگ میں چھپ کر بہت سے رنگ رہتے ہیںجنھوں نے باغ یک رنگیں بنانا چاہے تھےان کو ذرا دیکھوکہ جب اک رنگ میں سو رنگ ظاہر ہو گئے ہیں توکتنے پریشاں ہیں کتنے تنگ رہتے ہیںکسی کو یہ کوئی کیسے بتائےہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیںہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں ہتھکڑی میںقید خانوں میں نہیں رکتیںیہ لہریں روکی جاتی ہیںتو دریا کتنا بھی ہو پر سکوں بیتاب ہوتا ہےاور اس بیتابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے
جب آدھا دن ڈھل جاتا ہے تو گھر سے افسر آتا ہےاور اپنے کمرے میں مجھ کو چپراسی سے بلواتا ہےیوں کہتا ہے ووں کہتا ہے لیکن بے کار ہی رہتا ہےمیں اس کی ایسی باتوں سے تھک جاتا ہوں تھک جاتا ہوںپل بھر کے لیے اپنے کمرے کو فائل لینے آتا ہوںاور دل میں آگ سلگتی ہے میں بھی جو کوئی افسر ہوتااس شہر کی دھول اور گلیوں سے کچھ دور مرا پھر گھر ہوتااور تو ہوتیلیکن میں تو اک منشی ہوں تو اونچے گھر کی رانی ہےیہ میری پریم کہانی ہے اور دھرتی سے بھی پرانی ہے
اماں باجی کہتی ہیںچاند میں پریاں رہتی ہیںرات کو پر پھیلاتی ہیںاور اتر کر آتی ہیںسب بچوں کو سلاتی ہیںاور پھر خواب دکھاتی ہیںاماں باجی کہتی ہیںچاند میں پریاں رہتی ہیںمیں تو آج نہ سوؤں گارات گئے تک جاگوں گاباہر باغ میں بیٹھوں گاچاند کی پریاں دیکھوں گااماں باجی کہتی ہیںچاند میں پریاں رہتی ہیں
بیٹا کہتا تھا کہ میں سرکاری افسر ہوں جنابروزہ رکھوں گا تو مجھ سے مانگا جائے گا جواب
افسر بنے ہیں اس دم میرے ہی ہم جماعتان سے حیا کے مارے پڑتا ہے منہ چھپانا
اک بچہ چھوٹا سا بچہایک ہاتھ میں اس کے تختی تھیایک ہاتھ میں اس کے بستہ تھااور پاؤں کے نیچے دور تلکاسکول کو جاتا رستہ تھاوہ افسر بننا چاہتا تھاوہ سچ مچ پڑھنا چاہتا تھاکچھ خواب تھے اس کی آنکھوں میںجو رفتہ رفتہ ٹوٹ گئےغربت نے اسے مجبور کیایوں پڑھنے سے وہ دور ہواپھر پاؤں سے رستے روٹھ گئےاور ہاتھ سے بستے چھوٹ گئے
اب بزم سخن صحبت لب سوختگاں ہےاب حلقۂ مے طائفۂ بے طلباں ہےگھر رہیے تو ویرانئ دل کھانے کو آوےرہ چلیے تو ہر گام پہ غوغائے سگاں ہےپیوند رہ کوچۂ زر چشم غزالاںپابوس ہوس افسر شمشاد قداں ہےیاں اہل جنوں یک بہ دگر دست و گریباںواں جیش ہوس تیغ بکف درپئے جاں ہےاب صاحب انصاف ہے خود طالب انصافمہر اس کی ہے میزان بدست دگراں ہےہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکناب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
بھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہےہر رت ہر اک موسم اس کا کیسا پیارا پیارا ہےکیسا سہانا کیسا سندر پیارا دیس ہمارا ہےدکھ میں سکھ میں ہر حالت میں بھارت دل کا سہارا ہےبھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے
دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقادبحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتارصرف ادب کے غم میں غلطاں چلنے پھرنے سے لاچارچہروں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے برسوں کے بیماراردو ادب میں ڈھائی ہیں شاعر میرؔ و غالبؔ آدھا جوشؔیا اک آدھ کسی کا مصرعہ یا اقبالؔ کے چند اشعاریا پھر نظم ہے اک چوہے پر حامد مدنیؔ کا شہکارکوئی نہیں ہے اچھا شاعر کوئی نہیں افسانہ نگارمنٹوؔ کرشنؔ ندیمؔ اور بیدیؔ ان میں جان تو ہے لیکنعیب یہ ہے ان کے ہاتھوں میں کند زباں کی ہے تلوارعالؔی افسر انشاؔ بابو ناصرؔ میرؔ کے بر خوردارفیضؔ نے جو اب تک لکھا ہے کیا لکھا ہے سب بیکاران کو ادب کی صحت کا غم مجھ کو ان کی صحت کایہ بے چارے دکھ کے مارے جینے سے ہیں کیوں بے زارحسن سے وحشت عشق سے نفرت اپنی ہی صورت سے پیارخندۂ گل پر ایک تبسم گریۂ شبنم سے انکار
ملا تھا پوسٹ پہ کسٹم کا اک بڑا افسرذرا سی گھاس جو ڈالی تو دم ہلانے لگا
ہوتا ہے 'مے ڈے' کا اور 'مے پول' کا جب انتظامناچتے ہیں بانس کے گرد آ کے یوروپی عواملیکن اب ناچے گا وہ ظالم کہ جو ہے بد لگامبانس کے بل پر دکھائے جیسے بندر اپنا کاموہ جو پہلے تھا کبھی بندر مداری بن گیایعنی مزدور افسر سرمایہ کاری بن گیا
شنکر ڈمرو کا متبادل تلاش کر چکاگوپیاں اب کسی اودھو کی محتاج نہیںٹرنک کالان کی سمسیاؤں کا حل ہےعزرائیل!ایٹم اور ہیلیم کے حق میںدست بردار ہونے کی فکر میں ہےاسرافیل کی جمالیاتی حس کو جلا مل گئیاب وہ کسی میوزک اسکول میں داخلہ لے لے گافوڈ کارپوریشن کا مطالبہ:'میکائیل کا رٹائرمنٹ' مان لیا گیا ہےوائرلس ٹیلی گراف کا محکمہافسر اعلی کے عہدہ کے لیےجبرئیل کی درخواست پر غور کر رہا ہے'خدا کی جگہ خالی ہے'متمنی حضرات فوراً سے پیشتر درخواست دیں!
ہر دم علم سکھاتی ہےعقل کے راز بتاتی ہےپیارا نام کتاب ہے اس کامعلومات بڑھاتی ہےکوئی بچہ ہو یا بوڑھاسب کو یکساں بھاتی ہےدادا ابا مول اگر لیںپوتے کے کام آتی ہےگھر بیٹھے ہی دنیا بھر کیہم کو سیر کراتی ہےاگلے وقتوں کے لوگوں کاسارا حال سناتی ہےاس کی دانائی تو دیکھوجو پوچھو سمجھاتی ہےجاہل سے جاہل کو آخرقابل شخص بناتی ہےہر دفتر کے ہر افسر کویہ پروان چڑھاتی ہےدل کی آنکھیں روشن کرکےحق کی راہ دکھاتی ہےپڑھنے والے خوش ہوتے ہیںان کا رنج مٹاتی ہےتنہائی میں ہمدم بن کرفیضؔ ہمیں پہنچاتی ہے
ہم جو اک جاں کے سفر پر ہیں رواں برسوں سےہم کو معلوم نہیں کب اور کہاں ختم ہو یہہم تو بس تشنہ دہن لب بہ دعا کشتۂ غماپنے ہونے ہی میں گم پڑھ نہ سکے ہیں اب تکوقت کے باب ندامت میں نہاں تحریریںان کو پڑھ لیتے تو شاید نہ یوں حیراں ہوتےاک تماشے کی طرح وقت پہ عریاں ہوتےاپنی خواہش کو سر بزم نہ رسوا کرتےاپنے لمحوں کو کسی طور نہ زنداں کرتے
ابھی ہم لوگ بچے ہیں مگر اک دن جواں ہوں گےہمیں اک دن وقار مادر ہندوستاں ہوں گےہمیں گوتم ہمیں گاندھیؔ ہمیں ذاکرؔ ہمیں نہروؔہمیں چشتیؔ ہمیں نانک ہمیں حیدر ہمیں ٹیپوہمیں اپنے وطن کی سرحدوں کے پاسباں ہوں گےابھی ہم لوگ بچے ہیں مگر اک دن جواں ہوں گےہمیں میں کوئی ٹیچر اور کوئی ڈاکٹر ہوگاکوئی تعلیم کا افسر کوئی انجینئر ہوگاہمیں ہر چیز کے محرم ہمیں سائنسداں ہوں گےابھی ہم لوگ بچے ہیں مگر اک دن جواں ہوں گےہمیں روشن کریں گے چاند کا ہر راز پوشیدہہمیں ظاہر کریں گے حق کی ہر آواز پوشیدہہمیں قدرت کے ہر راز نہاں کے رازداں ہوں گےابھی ہم لوگ بچے ہیں مگر اک دن جواں ہوں گےہمیں ہیں سورؔ و تلسیؔ غالبؔ و ٹیگورؔ بھی ہوں گےہمیں کیا کیفؔ ہم لوگوں سے بہتر اور بھی ہوں گےکہ جو دنیا کے گلشن میں بہار جاوداں ہوں گےابھی ہم لوگ بچے ہیں مگر اک دن جواں ہوں گےہمیں اک دن وقار مادر ہندوستاں ہوں گے
تم ندی پر جا کر دیکھوجب ندی میں نہائے چاندکیسی لگائی ڈبکی اس نےڈر ہے ڈوب نہ جائے چاندکرنوں کی اک سیڑھی لے کرچھم چھم اترا جائے چاندجب تم اسے پکڑنے جاؤپانی میں چھپ جائے چانداب پانی میں چپ بیٹھا ہےکیا کیا روپ دکھائے چاندچاہے جدھر کو جاؤ افسرؔساتھ ہمارے جائے چاند
درد جس دل میں ہو اس دل کی دوا بن جاؤںکوئی بیمار اگر ہو تو شفا بن جاؤںدکھ میں ہلتے ہوئے لب کی میں دعا بن جاؤںاف وہ آنکھیں کہ ہیں بینائی سے محروم کہیںروشنی جن میں نہیں نور جن آنکھوں میں نہیںمیں ان آنکھوں کے لیے نور ضیا بن جاؤںہائے وہ دل جو تڑپتا ہوا گھر سے نکلےاف وہ آنسو جو کسی دیدۂ تر سے نکلےمیں اس آنسو کے سکھانے کو ہوا بن جاؤںدور منزل سے اگر راہ میں تھک جائے کوئیجب مسافر کہیں رستے سے بھٹک جائے کوئیخضر کا کام کروں راہنما بن جاؤںعمر کے بوجھ سے جو لوگ دبے جاتے ہیںناتوانی سے جو ہر روز جھکے جاتے ہیںان ضعیفوں کے سہارے کو عصا بن جاؤںخدمت خلق کا ہر سمت میں چرچا کر دوںمادر ہند کو جنت کا نمونہ کر دوںگھر کرے دل میں جو افسرؔ وہ صدا بن جاؤں
میں لاپتا ہو گیا ہوںکئی ہفتے ہوئےپولیس کو رپورٹ لکھوائےتب سے روز تھانے جاتا ہوںحوالدار سے پوچھتا ہوںمیرا کچھ پتا چلاہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہےپھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہےابھی تک تمہارا کچھ سراغ نہیں ملاپھر وہ تسلی دیتا ہےکسی نہ کسی دنتم مل ہی جاؤ گےبے ہوشکسی سڑک کے کنارےیا بری طرح زخمیکسی اسپتال میںیا لاش کی صورتکسی ندی میںمیری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیںمیں بازار چلا جاتا ہوںاپنا استقبال کرنے کے لیےگل فروش سے پھول خریدتا ہوںاپنے زخموں کے لیےکیمسٹ سےمرہم پٹی کا سامانتھوڑی روئیاور درد کشا گولیاںاپنی آخری رسومات کے لیےمسجد کی دکان سے ایک کفناور اپنی یاد منانے کے لیےکئی موم بتیاںکچھ لوگ کہتے ہیںکسی کے مرنے پرموم بتی نہیں جلانی چاہیےلیکن وہ یہ نہیں بتاتےکہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہو جائےتو روشنی کہاں سے لائیںگھر کا چراغ بجھ جائےتو پھر کیا جلائیں
باغوں نے پہناپھولوں کا گہنانہروں کا بہناوارفتہ رہنادنیا میں جنت میرا وطن ہےبھوری گھٹائیںلائیں ہوائیںباغوں میں جائیںکلیاں کھلائیںدنیا میں جنت میرا وطن ہےاک جھونپڑی ہےسب کچھ یہی ہےکیا سادگی ہےکیا زندگی ہےدنیا میں جنت میرا وطن ہےکرشنؔ کنہیارادھا کا رسیابچوں کے افسرؔتھا اس زمیں کاروشن ستارادنیا میں جنت میرا وطن ہےوہ ترک آئےبھارت پہ چھائےجھنڈے اڑائےقرآن لائےدنیا میں جنت میرا وطن ہےچشتی نے بخشادل کو سہاراہمدرد ایساکس کو ملا تھادنیا میں جنت میرا وطن ہےگوتم کا گھر ہےجنت کا در ہےافسرؔ کدھر ہےکیا بے خبر ہےدنیا میں جنت میرا وطن ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books