aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aka.Dnaa"
دھوپ میں کتنا پسیجنا ہےٹھنڈ میں کتنا اکڑنا ہے
میں نے جڑ سے اکھاڑنا چاہااس شجر کو جسے محبت سے
تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نے
توڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھے
پھر اگلی رت کی فکر کروجب پھر اک بار اجڑنا ہے
یوں اچانک ترے عارض کا خیال آتا ہےجیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے
شہر میں خود وارداتیشہر میں خود مست آزادانہ پھرتا ہوں
یوں اچانک تری آواز کہیں سے آئیجیسے پربت کا جگر چیر کے جھرنا پھوٹے
اچانک ایک سمندر بن گیا ہےسمندر ناؤ سے لڑنے لگا ہے
بس اک دن دل کی لوح منتظر پراچانک
زمین کے لحاظ سے نقاداپنے کمروں سے اکھڑنے کے لیے تیار نہیں
ان اندھیروں نے جب پیس ڈالا مجھےپھر اچانک کنویں نے اچھالا مجھے
جس کے بازو کی صلابت پر نزاکت کا مدارجس کے کس بل پر اکڑتا ہے غرور شہریار
پاؤں اقبال کے اکھڑنے لگےملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگے
جیسے روتے روتے اچانکہنس دے کوئی ملول
دھیرے دھیرے دھوپ چڑھی تھیاور اچانک دل میں یہ خواہش ابھری تھی
راس آئے گا کسے دشت بلا میرے بعدکون مانگے گا اجڑنے کی دعا میرے بعد
پھر اچانک کسی لمحے میں جو چٹخے پتےہم وہی شوق کے مارے ہوئے دوڑے آئے
ان کوسوں لمبی دوری میںکہیں اچانک
انہی ٹیلوں کے دامن میں وہ آزادانہ رہتی تھییہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books