aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bajat"
تاجر اس نظام کو کیسے بدلے گا؟وہ تو بجٹ کی تمام مراعات سمیٹ کر
لیکن بھلا ہو بچوں اس سال کے بجٹ کاجس نے ہمارے اوپر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا
مایۂ رشک یاں بضاعت مورہیچ واں شوکت سلیمانی
مگر نفی بذات خود ہونے کی دلیل ہےمن گھڑت دیوتاؤں کے ہاں عورت ذلیل ہے
ستارے جھڑ رہے تھے آسمان سےخلا بذات خود سیاہ ہول تھا بنا ہوا
ہر سال بجٹ یہ آتا ہےہر سال بجٹ یہ آئے گا
جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسمخاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
بھلے دنوں کی بات ہےبھلی سی ایک شکل تھی
اپنی متاع ناز لٹا کر مرے لیےبازار التفات میں نادار ہی رہو
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشتشاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سےظلم کی بات کو جہل کی رات کو
آج بازار میں پا بہ جولاں چلودست افشاں چلو مست و رقصاں چلو
تمہیں اک بات کہنی تھیاجازت ہو تو کہہ دوں میں
گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گےیہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
جوانی بھٹکتی ہے بد کار بن کرجواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخرخود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگا
لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books