دستور

حبیب جالب

دستور

حبیب جالب

MORE BY حبیب جالب

    دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

    چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

    وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

    ایسے دستور کو صبح بے نور کو

    میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

    میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے

    میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے

    کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے

    ظلم کی بات کو جہل کی رات کو

    میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

    پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو

    جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو

    چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو

    اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو

    میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

    تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں

    اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں

    چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں

    تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر

    میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    حبیب جالب

    حبیب جالب

    RECITATIONS

    حبیب جالب

    حبیب جالب

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    حبیب جالب

    دستور حبیب جالب

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY