aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bani"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہوفرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو
جو زندگی کے نئے سفر میںتجھے کسی وقت یاد آئیںتو ایک اک حرف جی اٹھے گاپہن کے انفاس کی قبائیںاداس تنہائیوں کے لمحوںمیں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیںمجھے ترے درد کے علاوہ بھیاور دکھ تھے یہ مانتا ہوںہزار غم تھے جو زندگی کیتلاش میں تھے یہ جانتا ہوںمجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میںدرد کی ریت چھانتا ہوںمگر ہر اک بار تجھ کو چھو کریہ ریت رنگ حنا بنی ہےیہ زخم گلزار بن گئے ہیںیہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہےیہ درد موج صبا ہوا ہےیہ آگ دل کی صدا بنی ہےاور اب یہ ساری متاع ہستییہ پھول یہ زخم سب ترے ہیںیہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمےجو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیںجو تیری قربت تری جدائیمیں کٹ گئے روز و شب ترے ہیںوہ تیرا شاعر ترا مغنیوہ جس کی باتیں عجیب سی تھیںوہ جس کے انداز خسروانہ تھےاور ادائیں غریب سی تھیںوہ جس کے جینے کی خواہشیں بھیخود اس کے اپنے نصیب سی تھیںنہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہبہت دنوں کا اجڑ چکا ہےوہ کوہ کن تو نہیں تھا لیکنکڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہےوہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہاسی کے سینے میں گڑ چکا ہے
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
خاموش زمیں کے سینے میں خیموں کی طنابیں گڑنے لگیںمکھن سی ملائم راہوں پر بوٹوں کی خراشیں پڑنے لگیںفوجوں کے بھیانک بینڈ تلے چرخوں کی صدائیں ڈوب گئیں
میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کرمیں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کرمیں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہجو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماںبچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹےیہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تموہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاریکچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپاپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہووہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کیوہ دونوںدوست تھیں میریوہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھاوہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑیاک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھیوہ اک گلدانننھا سابہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھادریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹاور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشیکتابیںطاق میں اور شیلف پرسنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کیمیں ان سے کچھ پوچھوںسرہانےنیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گروہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کےچھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میںنہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پراور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریںمجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیںانہیں شک بھی نہیں تھاایک دنمیں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گاکہ پھر واپس نہ آؤں گا
کچھ باتیں ان کہی رہنے دوکچھ باتیں ان سنی رہنے دوسب باتیں دل کی کہہ دیں اگرپھر باقی کیا رہ جائے گاسب باتیں اس کی سن لیں اگرپھر باقی کیا رہ جائے گااک اوجھل بے کلی رہنے دواک رنگیں ان بنی دنیا پراک کھڑکی ان کھلی رہنے دو
گلاب چہرے پہ مسکراہٹچمکتی آنکھوں میں شوخ جذبےوہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سےسہیلیوں کو لیے اترتیتو ایسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہوکچھ اس تیقن سے بات کرتی تھی جیسے دنیااسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہووہ اپنے رستے میں دل بچھاتی ہوئی نگاہوں سے ہنس کے کہتیتمہارے جیسے بہت سے لڑکوں سے میں یہ باتیںبہت سے برسوں سے سن رہی ہوںمیں ساحلوں کی ہوا ہوں نیلے سمندروں کے لیے بنی ہوںوہ ساحلوں کی ہوا سی لڑکیجو راہ چلتی تو ایسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہووہ کل ملی تو اسی طرح تھیچمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے گلاب چہرے پہ مسکراہٹکہ جیسے چاندی پگھل رہی ہومگر جو بولی تو اس کے لہجے میں وہ تھکن تھیکہ جیسے صدیوں سے دشت ظلمت میں چل رہی ہو
ایسی یخ بستہ تعبیروں کے ہر دن سے اچھی ہیں اور سچی بھی ہیںجس میں دھندلا چکر کھاتا چمکیلا پن چھ اطراف کا روگ بنا ہے
سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نامبکھر گیا جو کبھی رنگ پیرہن سر بامنکھر گئی ہے کبھی صبح دوپہر کبھی شامکہیں جو قامت زیبا پہ سج گئی ہے قباچمن میں سرو و صنوبر سنور گئے ہیں تمامبنی بساط غزل جب ڈبو لیے دل نےتمہارے سایۂ رخسار و لب میں ساغر و جامسلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نامتمہارے ہاتھ پہ ہے تابش حنا جب تکجہاں میں باقی ہے دلدارئ عروس سخنتمہارا حسن جواں ہے تو مہرباں ہے فلکتمہارا دم ہے تو دم ساز ہے ہوائے وطناگرچہ تنگ ہیں اوقات سخت ہیں آلامتمہاری یاد سے شیریں ہے تلخئ ایامسلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام
اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانیتیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانیشہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کاکرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانیکہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعتجس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانیلبریز مئ زہد سے تھی دل کی صراحیتھی تہہ میں کہیں درد خیال ہمہ دانیکرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنیمنظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانیمدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرےتھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانیحضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھااقبالؔ کہ ہے قمرئ شمشاد معانیپابندئ احکام شریعت میں ہے کیساگو شعر میں ہے رشک کلیم ہمدانیسنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتاہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانیہے اس کی طبیعت میں تشیع بھی ذرا ساتفضیل علی ہم نے سنی اس کی زبانیسمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخلمقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانیکچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہیں ہےعادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانیگانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوتاس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانیلیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نےبے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانیمجموعۂ اضداد ہے اقبالؔ نہیں ہےدل دفتر حکمت ہے طبیعت خفقانیرندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقفپوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانیاس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتیہوگا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانیالقصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنےتا دیر رہی آپ کی یہ نغز بیانیاس شہر میں جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب میںمیں نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانیاک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہدپھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانیفرمایا شکایت وہ محبت کے سبب تھیتھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانیمیں نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہیں ہےیہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانیخم ہے سر تسلیم مرا آپ کے آگےپیری ہے تواضع کے سبب میری جوانیگر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقتپیدا نہیں کچھ اس سے قصور ہمہ دانیمیں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناساگہرا ہے مرے بحر خیالات کا پانیمجھ کو بھی تمنا ہے کہ اقبالؔ کو دیکھوںکی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانیاقبالؔ بھی اقبالؔ سے آگاہ نہیں ہےکچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
اس نے اتنی کتابیں چاٹ ڈالیںکہ اس کی عورت کے پیر کاغذ کی طرح ہو گئےوہ روز کاغذ پہ اپنا چہرہ لکھتا اور گندہ ہوتااس کی عورت جو خاموشی کاڑھے بیٹھی تھیکاغذوں کے بھونکنے پر سارتر کے پاس گئیتم راںؔ بو اور فرائڈؔ سے بھی مل آئے ہو کیاسیفوؔ میری سیفوؔ میرابائیؔ کی طرح مت بولومیں سمجھ گئی اب اس کی آنکھیںکیٹسؔ کی آنکھیں ہوئی جاتی ہیںمیں جو سوہنی کا گھڑا اٹھائے ہوئے تھیاپنا نام لیلیٰ بتا چکی تھیمیں نے کہالیلیٰ مجمع کی باتیں میرے سامنے مت دہرایا کروتنہائی بھی کوئی چیز ہوتی ہےشیکسپئیر کے ڈراموں سے چن چن کر اس نے ٹھمکے لگائےمجھے تنہا دیکھ کرسارتر فرائڈؔ کے کمرے میں چلا گیاوہ اپنی تھیوری سے گر گر پڑتامیں سمجھ گئی اس کی کتاب کتنی ہےلیکن بہر حال سارتر تھااور کل کو مجمع میں بھی ملنا تھامیں نے بھیڑ کی طرف اشارہ کیا تو بولااتنے سارے سارتروں سے مل کر تمہیں کیا کرنا ہےاگر زیادہ ضد کرتی ہو تو اپنے وارث شاہؔہیر سیال کے کمروں میں چلے چلتے ہیںسارتر سے استعارہ ملتے ہیمیں نے ایک تنقیدی نشست رکھیمیں نے آدھا کمرہ بھی بڑی مشکل سے حاصل کیا تھاسو پہلے آدھے فرائڈؔ کو بلایاپھر آدھے راںؔ بو کو بلایاآدھی آدھی بات پوچھنی شروع کیجان ڈنؔ کیا کر رہا ہےسیکنڈ ہینڈ شاعروں سے نجات چاہتا ہےچوروں سے سخت نالاں ہےدانتےؔ اس وقت کہاں ہےوہ جہنم سے بھی فرار ہو چکا ہےاس کو شبہ تھاوہ خواجہ سراؤں سے زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر سکتااپنے پس منظر میںایک کتا مسلسل بھونکنے کے لیے چھوڑ گیا ہےاس کتے کی خصلت کیا ہےبیاترؔچے کی یاد میں بھونک رہا ہےتمہارا تصور کیا کہتا ہےسارتروں کی تصور کے لحاظ سےاب اس کا رخ گوئٹےؔ کے گھر کی طرف ہو گیا ہے
رکی رکی سی صفیں ملگجی گھٹاؤں کیاتار پر ہے سر صحن رقص پیپل کاوہ کچھ نہیں ہے اب اک جنبش خفی کے سواخود اپنی کیفیت نیلگوں میں ہر لحظہیہ شام ڈوبتی جاتی ہے چھپتی جاتی ہےحجاب وقت سرے سے ہے بے حس و حرکترکی رکی دل فطرت کی دھڑکنیں یک لختیہ رنگ شام کہ گردش ہی آسماں میں نہیںبس ایک وقفۂ تاریک، لمحۂ شہلاسما میں جنبش مبہم سی کچھ ہوئی فوراًتلی گھٹا کے تلے بھیگے بھیگے پتوں سےہری ہری کئی چنگاریاں سی پھوٹ پڑیںکہ جیسے کھلتی جھپکتی ہوں بے شمار آنکھیںعجب یہ آنکھ مچولی تھی نور و ظلمت کیسہانی نرم لویں دیتے ان گنت جگنوگھنی سیاہ خنک پتیوں کے جھرمٹ سےمثال چادر شب تاب جگمگانے لگےکہ تھرتھراتے ہوئے آنسوؤں سے ساغر شامچھلک چھلک پڑے جیسے بغیر سان گمانبطون شام میں ان زندہ قمقموں کی دمککسی کی سوئی ہوئی یاد کو جگاتی تھیوہ بے پناہ گھٹا وہ بھری بھری برساتوہ سین دیکھ کے آنکھیں مری بھر آتی تھیںمری حیات نے دیکھی ہیں بیس برساتیںمرے جنم ہی کے دن مر گئی تھی ماں میریوہ ماں کہ شکل بھی جس ماں کی میں نہ دیکھ سکاجو آنکھ بھر کے مجھے دیکھ بھی سکی نہ وہ ماںمیں وہ پسر ہوں جو سمجھا نہیں کہ ماں کیا ہےمجھے کھلائیوں اور دائیوں نے پالا تھاوہ مجھ سے کہتی تھیں جب گھر کے آتی تھی برساتجب آسمان میں ہر سو گھٹائیں چھاتی تھیںبوقت شام جب اڑتے تھے ہر طرف جگنودیئے دکھاتے ہیں یہ بھولی بھٹکی روحوں کومزہ بھی آتا تھا مجھ کو کچھ ان کی باتوں میںمیں ان کی باتوں میں رہ رہ کے کھو بھی جاتا تھاپر اس کے ساتھ ہی دل میں کسک سی ہوتی تھیکبھی کبھی یہ کسک ہوک بن کے اٹھتی تھییتیم دل کو مرے یہ خیال ہوتا تھا!یہ شام مجھ کو بنا دیتی کاش اک جگنوتو ماں کی بھٹکی ہوئی روح کو دکھاتا راہکہاں کہاں وہ بچاری بھٹک رہی ہوگیکہاں کہاں مری خاطر بھٹک رہی ہوگییہ سوچ کر مری حالت عجیب ہو جاتیپلک کی اوٹ میں جگنو چمکنے لگتے تھےکبھی کبھی تو مری ہچکیاں سی بندھ جاتیںکہ ماں کے پاس کسی طرح میں پہنچ جاؤںاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں اپنے کھلونے دکھاؤں اپنی کتابکہوں کہ پڑھ کے سنا تو مری کتاب مجھےپھر اس کے بعد دکھاؤں اسے میں وہ کاپیکہ ٹیڑھی میڑھی لکیریں بنی تھیں کچھ جس میںیہ حرف تھے جنہیں میں نے لکھا تھا پہلے پہلاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں پھر اسے آنگن میں وہ گلاب کی بیلسنا ہے جس کو اسی نے کبھی لگایا تھایہ جب کہ بات ہے جب میری عمر ہی کیا تھینظر سے گزری تھیں کل چار پانچ برساتیں
خوش نما شہروں کا بانی راز فطرت کا سراغخاندان تیغ جوہر دار کا چشم و چراغدھار پر جس کی چمن پرور شگوفوں کا نظامشام زیر ارض کو صبح درخشاں کا پیام
جب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سےقطع تعلق ہو کے انگلش میں غصہ کرتی ہےمیں تو ڈر جاتا ہوں لیکنکمرے کی دیواریں ہنسنے لگتی ہیںوہ اک ایسی آگ ہے جس کو صرف دہکنے سے مطلب ہےوہ اک ایسا پھول ہے جس پر اپنی خوشبو بوجھ بنی ہےوہ اک ایسا خواب ہے جس کو دیکھنے والا خود مشکل میں پڑ سکتا ہےاس کو چھونے کی خواہش تو ٹھیک ہے لیکنپانی کون پکڑ سکتا ہےوہ رنگوں سے واقف ہےبلکہ ہر اک رنگ کے شجرے تک سے واقف ہےاس کو علم ہے کن خوابوں سے آنکھیں نیلی پڑ جاتی ہیںہم نے جن کو نفرت سے منسوب کیاوہ ان پیلے پھولوں کی عزت کرتی ہےکبھی کبھی وہ اپنے ہاتھ میں پنسل لے کر ایسی سطریں کھینچتی ہےسب کچھ سیدھا ہو جاتا ہےوہ چاہے تو ہر اک چیز کو اس کے اصل میں لا سکتی ہےصرف اسی کے ہاتھوں سے دنیا ترتیب میں آ سکتی ہےہر پتھر اس پاؤں سے ٹکرانے کی خواہش میں زندہ ہےلیکن یہ تو اسی ادھورے پن کا جہاں ہےہر پنجرے میں ایسے قیدی کب ہوتے ہیںہر کپڑے کی قسمت میں وہ جسم کہاں ہےمیری بے مقصد باتوں سے تنگ بھی آ جاتی ہے تومحسوس نہیں ہونے دیتیلیکن اپنے ہونے سے اکتا جاتی ہےاس کو وقت کی پابندی سے کیا مطلب ہےوہ تو بند گھڑی بھی ہاتھ میں باندھ کے کالج آ جاتی ہے
بننے کی تمنا رکھتے ہیںمٹنے کا کلیجہ رکھتے ہیںسرکش ہیں سر اونچا رکھتے ہیںمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماںتجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاںتو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاںایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیےامتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندستاں ہے تومطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے توسوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے توبرف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سرخندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پرتیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہنوادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زنچوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخنتو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطنچشمۂ دامن ترا آئینۂ سیال ہےدامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہےابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطےتازیانہ دے دیا برق سر کوہسار نےاے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی جسےدست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیےہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابرفیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابرجنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنیجھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی کلییوں زباں برگ سے گویا ہے اس کی خامشیدست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھیکہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مراکنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مراآتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئیکوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئیآئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئیسنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئیچھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کواے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کولیلئ شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسادامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صداوہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فداوہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہواکانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کوہسار پرخوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پراے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنامسکن آبائے انساں جب بنا دامن تراکچھ بتا اس سیدھی سادھی زندگی کا ماجراداغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھاہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تودوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
پہلے وہ رنگ تھیپھر روپ بنیروپ سے جسم میں تبدیل ہوئیاور پھر جسم سے بستر بن کرگھر کے کونے میں لگی رہتی ہےجس کوکمرے میں گھٹا سناٹاوقت بے وقت اٹھا لیتا ہےکھول لیتا ہے ،بچھا لیتا ہے
سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراںسبا ویراں، سبا آسیب کا مسکنسبا آلام کا انبار بے پایاں!گیاہ و سبزہ و گل سے جہاں خالیہوائیں تشنۂ باراں،طیور اس دشت کے منقار زیر پرتو سرمہ ور گلو انساںسلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں!سلیماں سر بہ زانو ترش رو، غمگیں، پریشاں موجہانگیری، جہانبانی، فقط طرارۂ آہو،محبت شعلۂ پراں، ہوس بوئے گل بے بوز راز دہر کمتر گو!سبا ویراں کہ اب تک اس زمیں پر ہیںکسی عیار کے غارت گروں کے نقش پا باقیسبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی!سلیماں سر بہ زانواب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books