Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زہد اور رندی

علامہ اقبال

زہد اور رندی

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    دلچسپ معلومات

    حصہ اول : 1905 تک ( بانگ درا)

    اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی

    تیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانی

    شہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا

    کرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانی

    کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعت

    جس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانی

    لبریز مئ زہد سے تھی دل کی صراحی

    تھی تہہ میں کہیں درد خیال ہمہ دانی

    کرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنی

    منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی

    مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرے

    تھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانی

    حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھا

    اقبالؔ کہ ہے قمرئ شمشاد معانی

    پابندئ احکام شریعت میں ہے کیسا

    گو شعر میں ہے رشک کلیم ہمدانی

    سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا

    ہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانی

    ہے اس کی طبیعت میں تشیع بھی ذرا سا

    تفضیل علی ہم نے سنی اس کی زبانی

    سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخل

    مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی

    کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہیں ہے

    عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی

    گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت

    اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی

    لیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نے

    بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی

    مجموعۂ اضداد ہے اقبالؔ نہیں ہے

    دل دفتر حکمت ہے طبیعت خفقانی

    رندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقف

    پوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانی

    اس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتی

    ہوگا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی

    القصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے

    تا دیر رہی آپ کی یہ نغز بیانی

    اس شہر میں جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب میں

    میں نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانی

    اک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہد

    پھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانی

    فرمایا شکایت وہ محبت کے سبب تھی

    تھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانی

    میں نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہیں ہے

    یہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانی

    خم ہے سر تسلیم مرا آپ کے آگے

    پیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی

    گر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقت

    پیدا نہیں کچھ اس سے قصور ہمہ دانی

    میں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا

    گہرا ہے مرے بحر خیالات کا پانی

    مجھ کو بھی تمنا ہے کہ اقبالؔ کو دیکھوں

    کی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانی

    اقبالؔ بھی اقبالؔ سے آگاہ نہیں ہے

    کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    زہد اور رندی نعمان شوق

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے