aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bargad"
یہی جگہ تھی یہی دن تھا اور یہی لمحاتسروں پہ چھائی تھی صدیوں سے اک جو کالی راتاسی جگہ اسی دن تو ملی تھی اس کو ماتاسی جگہ اسی دن تو ہوا تھا یہ اعلاناندھیرے ہار گئے زندہ باد ہندوستانیہیں تو ہم نے کہا تھا یہ کر دکھانا ہےجو زخم تن پہ ہے بھارت کے اس کو بھرنا ہےجو داغ ماتھے پہ بھارت کے ہے مٹانا ہےیہیں تو کھائی تھی ہم سب نے یہ قسم اس دنیہیں سے نکلے تھے اپنے سفر پہ ہم اس دنیہیں تھا گونج اٹھا وندے ماترم اس دنہے جرأتوں کا سفر وقت کی ہے راہ گزرنظر کے سامنے ہے ساٹھ میل کا پتھرکوئی جو پوچھے کیا کیا ہے کچھ کیا ہے اگرتو اس سے کہہ دو کہ وہ آئے دیکھ لے آ کرلگایا ہم نے تھا جمہوریت کا جو پودھاوہ آج ایک گھنیرا سا اونچا برگد ہےاور اس کے سائے میں کیا بدلا کتنا بدلا ہےکب انتہا ہے کوئی اس کی کب کوئی حد ہے
میرے رستے میں اک موڑ تھااور اس موڑ پرپیڑ تھا ایک برگد کااونچاگھناجس کے سائے میں میرا بہت وقت بیتا ہےلیکن ہمیشہ یہی میں نے سوچاکہ رستے میں یہ موڑ ہی اس لیے ہےکہ یہ پیڑ ہےعمر کی آندھیوں میںوہ پیڑ ایک دن گر گیا ہےموڑ لیکن ہے اب تک وہیں کا وہیں
اک پرندہ کسی اک پیڑ کی ٹہنی پہ چہکتا ہے کہیںایک گاتا ہوا یوں جاتا ہے دھرتی سے فلک کی جانبپوری قوت سے کوئی گیند اچھالے جیسےاک پھدکتا ہے سر شاخ پہ جس طرح کوئیآمد فصل بہاری کی خوشی میں ناچےگوندنی بوجھ سے اپنے ہی جھکی پڑتی ہےنازنیں جیسے ہے کوئی یہ بھری محفل میںاور کل ہاتھ ہوئے ہیں پیلےکوئلیں کوکتی ہیںجامنیں پکی ہیں، آموں پہ بہار آئی ہےارغنوں بجتا ہے یکجائی کانیم کے پیڑوں میں جھولے ہیں جدھر دیکھو ادھرساونی گاتی ہیں سب لڑکیاں آواز ملا کر ہر سواور اس آواز سے گونج اٹھی ہے بستی ساریمیں کبھی ایک کبھی دوسرے جھولے کے قریں جاتا ہوںایک ہی کم ہے، وہی چہرہ نہیںآخرش پوچھ ہی لیتا ہوں کسی سے بڑھ کرکیوں حبیبہ نہیں آئی اب تک؟کھلکھلا پڑتی ہیں سب لڑکیاں سن کر یہ ناملو یہ سپنے میں ہیں، اک کہتی ہےباؤلی سپنا نہیں، شہر سے آئے ہیں ابھیدوسری ٹوکتی ہےبات سے بات نکل چلتی ہےٹھاٹ کی آئی تھی بارات، چنبیلی نے کہابینڈ باجا بھی تھا، دیپا بولیاور دلہن پہ ہوا کتنا بکھیرکچھ نہ کچھ کہتی رہیں سب ہی مگر میں نے صرفاتنا پوچھا وہ ندی بہتی ہے اب بھی، کہ نہیںجس سے وابستہ ہیں ہم اور یہ بستی ساری؟کیوں نہیں بہتی، چنبیلی نے کہااور وہ برگد کا گھنا پیڑ کنارے اس کے؟وہ بھی قائم ہے ابھی تک یونہیوعدہ کر کے جو حبیبہؔ نہیں آتی تھی کبھیآنکھیں دھوتا تھا ندی میں جاکراور برگد کی گھنی چھاؤں میں سو جاتا تھا
۱یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہکیہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤںوہ کچھ سلگتے ہوئے کچھ سلگنے والے الاؤسیاہیوں کا دبے پاؤں آسماں سے نزوللٹوں کو کھول دے جس طرح شام کی دیویپرانے وقت کے برگد کی یہ اداس جٹائیںقریب و دور یہ گو دھول کی ابھرتی گھٹائیںیہ کائنات کا ٹھہراؤ یہ اتھاہ سکوتیہ نیم تیرہ فضا روز گرم کا تابوتدھواں دھواں سی زمیں ہے گھلا گھلا سا فلک۲یہ چاندنی یہ ہوائیں یہ شاخ گل کی لچکیہ دور بادہ یہ ساز خموش فطرت کےسنائی دینے لگی جگمگاتے سینوں میںدلوں کے نازک و شفاف آبگینوں میںترے خیال کی پڑتی ہوئی کرن کی کھنک۳یہ رات چھنتی ہواؤں کی سوندھی سوندھی مہکیہ کھیت کرتی ہوئی چاندنی کی نرم دمکسگندھ رات کی رانی کی جب مچلتی ہےفضا میں روح طرب کروٹیں بدلتی ہےیہ روپ سر سے قدم تک حسین جیسے گناہیہ عارضوں کی دمک یہ فسون چشم سیاہیہ دھج نہ دے جو اجنتا کی صنعتوں کو پناہیہ سینہ پڑ ہی گئی دیو لوک کی بھی نگاہیہ سر زمین سے آکاش کی پرستش گاہاتارتے ہیں تری آرتی ستارہ و ماہسجل بدن کی بیاں کس طرح ہو کیفیتسرسوتی کے بجاتے ہوئے ستار کی گتجمال یار ترے گلستاں کی رہ رہ کےجبین ناز تری کہکشاں کی رہ رہ کےدلوں میں آئینہ در آئینہ سہانی جھلک۴یہ چھب یہ روپ یہ جوبن یہ سج یہ دھج یہ لہکچمکتے تاروں کی کرنوں کی نرم نرم پھواریہ رسمساتے بدن کا اٹھان اور یہ ابھارفضا کے آئینہ میں جیسے لہلہائے بہاریہ بے قرار یہ بے اختیار جوش نمودکہ جیسے نور کا فوارہ ہو شفق آلودیہ جلوے پیکر شب-تاب کے یہ بزم شہودیہ مستیاں کہ مئے صاف و درد سب بے بودخجل ہو لعل یمن عضو عضو کی وہ ڈلک۵بس اک ستارۂ شنگرف کی جبیں پہ جھمکوہ چال جس سے لبالب گلابیاں چھلکیںسکوں نما خم ابرو یہ ادھ کھلیں پلکیںہر اک نگاہ سے ایمن کی بجلیاں لپکیںیہ آنکھ جس میں کئی آسماں دکھائی پڑیںاڑا دیں ہوش وہ کانوں کی سادہ سادہ لویںگھٹائیں وجد میں آئیں یہ گیسوؤں کی لٹک۶یہ کیف و رنگ نظارہ یہ بجلیوں کی لپککہ جیسے کرشن سے رادھا کی آنکھ اشارے کرےوہ شوخ اشارے کہ ربانیت بھی جائے جھپکجمال سر سے قدم تک تمام شعلہ ہےسکون جنبش و رم تک تمام شعلہ ہےمگر وہ شعلہ کہ آنکھوں میں ڈال دے ٹھنڈک۷یہ رات نیند میں ڈوبے ہوئے سے ہیں دیپکفضا میں بجھ گئے اڑ اڑ کے جگنوؤں کے شرارکچھ اور تاروں کی آنکھوں کا بڑھ چلا ہے خمارفسردہ چھٹکی ہوئی چاندنی کا دھندلا غباریہ بھیگی بھیگی اداہٹ یہ بھیگا بھیگا نورکہ جیسے چشمۂ ظلمات میں جلے کافوریہ ڈھلتی رات ستاروں کے قلب کا یہ گدازخنک فضا میں ترا شبنمی تبسم نازجھلک جمال کی تعبیر خواب آئینہ سازجہاں سے جسم کو دیکھیں تمام ناز و نیازجہاں نگاہ ٹھہر جائے راز اندر رازسکوت نیم شبی لہلہے بدن کا نکھارکہ جیسے نیند کی وادی میں جاگتا سنسارہے بزم ماہ کہ پرچھائیوں کی بستی ہےفضا کی اوٹ سے وہ خامشی برستی ہےکہ بوند بوند سے پیدا ہو گوش و دل میں کھنک۸کسی خیال میں ہے غرق چاندنی کی چمکہوائیں نیند کے کھیتوں سے جیسے آتی ہوںحیات و موت میں سرگوشیاں سی ہوتی ہیںکروڑوں سال کے جاگے ستارے نم دیدہسیاہ گیسوؤں کے سانپ نیم خوابیدہیہ پچھلی رات یہ رگ رگ میں نرم نرم کسک
دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملولجس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچےماضی و حال گنہ گار نمازی کی طرحاپنے اعمال پہ رو لیتے ہیں چپکے چپکے
برگد کے نیچے بیٹھو یا سولی چڑھ جاؤبھینسے لڑنے سے باز نہیں آئیں گےموت سے ہم نے ایک تعاون کر رکھا ہےسڑکوں پر سے ہر لمحہ اک میت جاتی ہےپس منظر میں کیا ہوتا ہے نظر کہاں جاتی ہےسامنے جو کچھ ہے رنگوں آوازوں چہروں کا میلا ہے!
میری ایک دوستہم دم اور ہم رازاس کی گہری اداس آنکھیںسرود کے سروں جیسیبرگد کی چھالوں جیسے بالہونٹوں پر ان کہا پیارلمس میں جاں گداز نرمیاس کی خاموشی میںآخری دم تکمیری ہم سفری کا وعدہ ہےیاس نام ہے اس کا
سڑک مسافت کی عجلتوں میںگھرے ہوئے سب مسافروں کوبہ غور فرصت سے دیکھتی ہےکسی کے چہرے پہ سرخ وحشت چمک رہی ہےکسی کے چہرے سے زرد حیرت چھلک رہی ہےکسی کی آنکھیں ہری بھری ہیںکبیر حد سے ابھر رہا ہےصغیر قد سے گزر رہا ہےکسی کا ٹائر کسی کے پہیے کو کھا رہا ہےکسی کا جوتا کسی کی چپل چبا رہا ہےکسی کے پیروں میں آ رہا ہے کسی کا بچہکسی کا بچہ کسی کے شانے پہ جا رہا ہےکوئی ٹھکانے پہ کوئی کھانے پہ جا رہا ہےحبیب دست رقیب تھامےغریب خانے پہ جا رہا ہےامیر پنجرہ بنا رہا ہےغلام کرتب دکھا رہا ہےاور اپنے بیٹے کے ساتھ چھت پرامین کنڈا لگا رہا ہےنظام ٹانگہ چلا رہا ہےکسی کلائی پہ جگمگاتی ہوئی گھڑی ہےمگر ابھی وہ رکی ہوئی ہےکسی کے چہرے پہ بارہ بجنے میں پانچ سیکنڈ رہ گئے ہیںکسی کی ہاتھی نما پراڈوسڑک سے ایسے گزر رہی ہےسوائے اس کے کہیں بھی جیسے کوئی نہیں ہوکسی کی مونچھیں جھکی ہوئی ہیںکسی کی بانچھیں کھلی ہوئی ہیںکسی کی ٹیکسی کسی کی فوکسی ملی ہوئی ہیںکسی کے لب اور کسی کی آنکھیں سلی ہوئی ہیںکسی کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیںکسی کی پگڑی چمک رہی ہےکسی کی رنگت کسی کی ٹوپی اڑی ہوئی ہےشریف نظریں اٹھا اٹھا کرکمان جسموں پہ اپنی وحشت کے تیر کب سے چلا رہا ہےنظیر نظریں چرا رہا ہےنفیس اپنے کلف کی شکنوں کو رو رہا ہےحکیم اپنے مطب کے شیشوں کو دھو رہا ہےکسی کی آنکھوں کے دھندلے شیشوں میں اس کے ماضی کی جھلکیاں ہیںکسی کی آنکھوں میں آنے والے حسین لمحوں کی مستیاں ہیںکسی کی آنکھوں میں رت جگوں کی کچھ ارغوانی سی ڈوریاں ہیںکسی کے کاندھے پہ اس کے خوابوں کی بوریاں ہیںکباڑ خانے پہ باسی ٹکڑوں کی اور کتابوں کی بوریاں ہیںبزرگ برگد کے نیچے بوڑھا کھڑا ہوا ہےاور اس کے ہاتھوں میں ٹیپ لپٹی ہوئی چھڑی ہےپولیس کی گاڑی پکٹ لگا کرسڑک پہ ترچھی کھڑی ہوئی ہےاور ایک مزدور اپنا دامن اٹھائے بے بس کھڑا ہوا ہےاور اک سپاہی کہ اس کے نیفے میں انگلیوں کو گھما رہا ہےوہیں پہ شاہد سیاہ چشمہ لگا کے خود کو چھپا رہا ہےنیوز چینل کی چھوٹی گاڑی بڑی خبر کی تلاش میں ہےدو سبزی والے بھی اپنی پھیری لگا رہے ہیںتو پھول والے کے سر پہ پھولوں کی ٹوکری ہےکسی کی آنکھوں میں نوکری ہےکسی کی آنکھوں میں چھوکری ہےوقار سر کو جھکا رہا ہےفراز کھائی میں جا رہا ہےتو گیلی سگریٹ کے کش لگا کرنواب رکشا چلا رہا ہےسلیم کنی گھما رہا ہےوکیل وردی میں جا رہا ہےضمیر بغلیں بجا رہا ہےاور ایک واعظ بتا رہا ہےخدا کو ناراض کرنے والے جہنمی ہیںخدا کو راضی کرو خداراخدا کو راضی کرو خدارااور اس کے آگے نصیر اکمل کمال شاداب غلام سارےنظر جھکائے کھڑے ہوئے ہیںکہ چشم بینا اگر کہیں ہےتو سمجھو پاتال تک گڑھی ہےکسی کو اے سی خریدنا ہےکسی کو پی سی خریدنا ہےکسی کی بس اور کسی کی بی سی نکل رہی ہےعقیلہ خالہ کے دونوں ہاتھوں میں آٹھ تھیلے لٹک رہے ہیںاور آتے جاتے سبھی مسافرانہیں مسلسل کھٹک رہے ہیںضیا اندھیرے میں جا رہا ہےگلاب کچرا جلا رہا ہےعظیم مکھی اڑا رہا ہےکلیم گٹکا چبا رہا ہےتو گھنٹہ پیکج پہ جانے کب سےفہیم گپیں لڑا رہا ہےسبق مساوات کا سکھانےوزیر گاڑی میں جا رہا ہےثنا ندا کو نئے لطیفے سنا رہی ہےحنا ہتھیلی کو تکتے تکتے پرانے رستے سے آ رہی ہےاور اپنی بھاوج کا ہاتھ تھامےزبیدہ چیک اپ کو جا رہی ہےوہ اپنی نظریں کبھی ادھر کو کبھی ادھر کو گھما رہی ہےمگر کوئی شے اسے مسلسل بلا رہی رہی ہےعجیب عجلت عجیب وحشت عجیب غفلت کا ماجرا ہےکہوں میں کس سے مرے خدایا یہ کیسی خلقت کا ماجرا ہےکہ اپنی مستی میں مست ہو کریہ سب مسافر گزر رہےنئے مسافر ابھر رہے ہیںسڑک جہاں تھی وہیں کھڑی ہےمگر حقیقت بہت بڑی ہےسڑک پہ بلی مری پڑی ہے
ہزاروں صدیاں گزر چکی ہیںکسی سمے میں وہ تھی ست ونتیکہیں ساوتریکہیں تھی میراہر ایک یگ میںعقیدتوں کی لہر میں بھیگیتپسیا کے سحر میں گم سمروایتوں کے نشے میں ڈوبیتمہارے قدموں کی گرد کو وہ تلک بناتیدئے جلاتی تھی نقش پا پرجنم جنم کا اٹوٹ رشتہنباہے جاتیہزاروں صدیوں سفر کیا ہےنظر جمائےتمہارے پیچھےتمہارے دکھ پر دکھی ہوئی ہےتمہارے سکھ پر سکھی ہوئی ہےمگر بتاؤہزاروں صدیوں کے درمیاں کوئی ایسا لمحہجو تم نے اس کے لیے جیا ہوسوائے آنسو کے کوئی جگنوکبھی جو آنچل میں جڑ دیا ہوپرانے برگد پہ ایک دھاگاکہیں تو اس کے بھی نام کا ہواندھیری طاقوں پہ اس کی خاطررکھا ہوا بھی تو اک دیا ہونہیں ہے کچھ بھیکہیں نہیں ہےوہ اپنی تاریخ میں تمہارالکھے بھی گر نامکس طرح سے
ہم پیدا کرتے ہیںہم گیلی مٹی کو مٹھی میں بھینچا کرتے ہیںتو شکلیں بنتی ہیںہم ان کی چونچیں کھول کے سانسیں پھونکا کرتے ہیںجو مٹی تھے وہ چھو لینے سے طائر ہوتے ہیںہم شاعر ہوتے ہیںکنعان میں رہتے ہیںجب جلوہ کرتے ہیںتو ششدر انگشتوں کو پوریں نشتر دیتی ہیںپھر خون ٹپکتا ہے جو سرد نہیں ہوتااک سہما سا سکتہ ہوتا ہے درد نہیں ہوتایونان کے ڈاکو ہیںہم دیوتاؤں کے محل میں نقب لگایا کرتے ہیںہم آسمان کا نیلا شہ دروازہ توڑتے ہیںہم آگ چراتے ہیںتو اس دنیا کی یخ چوٹی سے برف پگھلتی ہےپھر جمے ہوئے سینے ملتے ہیںسانس ہمکتی ہےاور شریانوں کے منہ کھلتے ہیںخون دھڑکتا ہےجیون راماین میںجب راون استبدادی کاروبار چلاتا ہےہم سیتا لکھتے ہیںجب رتھ کے پہیے جسموں کے پوشاک کچلتے ہیںتو گیتا لکھتے ہیںجب ہونٹوں کے سہمے کپڑوں پر بخیہ ہوتا ہےہم بولا کرتے ہیںجب منڈی سے ایک ایک ترازو غائب ہوتا ہےتو جیون کو میزان پہ رکھ کر تولا کرتے ہیںمزدوری کرتے ہیںہم لفظوں کے جنگل سے لکڑی کاٹا کرتے ہیںہم ارکشی کے ماہر ہیں انبار لگاتے ہیںپھر رندہ پھیرتے ہیں پھر برما دیتے ہیںپھر بدھ ملاتے ہیں پھر چول بٹھاتے ہیںہم تھوڑے تھوڑے ہوتے ہیںاس بھری بھرائی دنیا میں ہم کم کم ہوتے ہیںجب شہر میں جنگل در آئے اور اس کا چلن جنگلائےتو ہم غار سے آتے ہیںجب جنگل شہر کی زد میں ہو اور اس کا سکوں شہرائےتو برگد سے نکلتے ہیںہم تھوڑے تھوڑے ہوتے ہیںہم کم کم ہوتے ہیںہم شاعر ہوتے ہیں
ہم دونوں اک بستی کے دو برگد تھےہم دونوں پہ بچے جھولا کرتے تھےہم دونوں کو مائیں کوسا کرتی تھیںپھر ہم میں سے ایک نے چلنا سیکھ لیا
میرے باپ نے مرتے دم بھیمجھ سے بس یہ بات کہی تھیگردن بھی اڑ جائے میریسچ بولوں میں جھوٹ نہ بولوںاس دن سے میں آج کے دن تکپگ پگ جھوٹ سے ٹکر لیتاسچ کو ریزہ ریزہ کرتااپنے دل کو ان ریزوں سے چھلنی کرتاخون میں لت پت گھوم رہا ہوںاور مرا دامن ہے خالیلیکن اب میں تھک سا گیا ہوںبرگد کی چھایا میں بیٹھا کتنی دیر سے سوچ رہا ہوںکیوں نہ جھوٹ سے ہاتھ ملا لوںاور چپکے سے قبر پہ اپنے باپ کی جا کر اتنا کہہ دوںتم جھوٹے تھے
شفق جب پھول کر رنگ حنا تھیاور ہوا کے لب سلے تھےایک بوڑھا پیڑ برگد کاکھڑا گنگا کنارےدل گرفتہخود سے محو گفتگو تھا''وہ مری اک شاخ کا پتہمرے ہی جسم کا حصہگراگر کر ستارا ہو گیاپانی کا پیارا ہو گیامجھ سے کنارہ ہو گیا''وہیں سرگوشیوں میںاک پتنگاگنگنایا کان میں اس کے''نراشا تم میں کیوں جاگیمرے بابا؟تمہارے انگ کے کتنے ہی پتےاب بھی گن گاتے تمہارا ہیںسہارا تم بنو ان کاتمہارا وہ سہارا ہیںنہ اک پتے کو رو بابا!''
ہم کہ واماندگی شوق کا لمحہ لے کرآ گئے ہیں ترے پیکر کے اجالوں کے قریبکتنی صدیوں کی مسافت لے کرایک درماندہ تہی دست مسافر کی طرحآ کے ٹھہرے ہیں ترے پیار کے برگد نیچےہم کہ مسحور طلسمات کدے ہیں تیرےتیری آنکھوں تیرے ہونٹوں تیری زلفوں کے اسیرتیری تمنا کے فقیرمنتظر ہیں کہ ترے جسم کا پرتو ابھرےاور روشن ہوں تخیل کی وہ راہیں جن پرکب سے پھیلی ہوئی گمنام سی تاریکی ہےیوں سمٹ جائے مرے بخت پہ اتری ہوئی راتنور چھن کر ترے پیکر کی تنک تابی سےمیری بے نور سی دنیا کو منور کر دےمیرے خوابوں کو حقیقت کر دےاے رخ یار ادھر دیکھ ذرامیرے دل دار ادھر دیکھ ذراجس کا اک عمر تمنائی رہااپنے گل رنگ سے جلووں کے طفیلمجھ کو وہ کیف وہ رعنائی دےایک بے نام سے رشتے کو پذیرائی دےاب تو اک لمس مسیحائی دےہم کو اے جان جہاں اتنی اجازت دے دےجس گھڑی شام ڈھلےتیری گیسو کی طرح شب کی حسیں زلف کھلےتیرے آنچل کا کنارہ لے کرایک بے نام سہارا لے کراپنی بیتاب تمناؤں کی گرہیں کھولیںتیرے زانو پہ یہ سر رکھ کےدو آنسو رو لیں
نئی نئی دنیا لگتی تھی نئے نئے سے لوگکھلتی کلیاں صبح سویرے کیسے مدھم مدھمحیرت ہوتی پھول پہ کیسے جم جاتی ہے شبنمچڑیوں کی آواز سناتی گھنگرو جیسی چھم چھمبارش کی بوندیں گرتیں پیڑوں پہ رم جھم رم جھمبرگد کی داڑھی کو پکڑے بچے پینگ بڑھاتےکوے مینا کوئل چڑیاں مل کر شور مچاتےماں کے ہاتھوں کی اک خوشبو بستی تھی روٹی میںبنا شکر لگتا تھا میٹھا ٹھنڈا ٹھنڈا پانیتھا کتنا معصوم سا بچپن بات نہ ہم نے جانیوہ پنچھی میٹھی آوازیں نور سی اجلی بھورپھسل گئی کیوں ہاتھ سے اپنے وہ سپنوں کی ڈور
جا نیا نانی کے گاؤںٹھنڈی ہے برگد کی چھاؤں
شاعریتو پرندوں کی چونچوں پہ اگتی ہوئی نغمگیتو درختوں کی چھاؤں میں پلتی ہوئی سادگیتو بہاروں کے دامن میں بکھری ہوئی بے خودیتو سلگتے سوالوں کے باطن میں بہکی ہوئی آرزوتو ہے معصوم بچے کی آنکھوں میں حیرت کدہکون سمجھے تجھےتیرگی روشنی زندگی بے بسی آدمیاور اک کامنیکون تیری زباں سے ہوا آشناکون سمجھا تجھےپانیوں کی لڑائی میں موجوں نے تیری کوئیبات مانی ہے کیاسرحدوں پر بھڑکتی ہوئی آگ نےتیرے قدموں پہ بوسا دیا ہے کبھیشاعریآ ذرا دیکھ لےمیرے پہلو میں برگد کے پالے ہوئے وسوسےاپنے ماتھے سے چپ کی لکیریں مٹا اور بتااستعاروں سے برگد کی شاخیں بھی کٹتی ہیں کیاشاعریتجھ سے توکامنی کا کوئی ایک جذبہ بھی مہکا نہیںتجھ سے دنیا میں کیا انقلاب آئے گاشاعریدیکھ میرے سرہانے تمنائیں کتنی ہیں زنجیر پاکتنے خوابوں کے ٹوٹے ہوئےپر ہیں بکھرے ہوئےآ کہ مل کر اجل کے کسیگوشہ نم میں جانے کو رخت سفر باندھ لیںکون سمجھا تجھے کون سمجھے تجھے
کس کے قدموں کی آہٹ ہےدروازے پر کون آیا ہےآدھی رات کے سناٹے میں آہیں بھرنےاس سے کہہ دویہ گھر صدیوں سے خالی ہےالو چیخابرگد بولاسرد ہوا کا تنہا جھونکادیوار دل سے سر ٹکرا کرلوٹ گیا ہے
شیشم ساگی گوندا سیملستکٹ برگد آم اور پیپل
تھکنبوجھل منوں بوجھل بدن اپنااٹھا کر چل پڑیچلتی رہیپھر ایک دنبھاری پپوٹوں کو اٹھا کراس نے دیکھاراستے کے بیچایک برگد پراناسمادھی اوڑھ کر بیٹھا ہوا تھاتھکنکبڑے عصا کو ٹیکتیبرگد کے سائے میں چلی آئیمعاً ٹھٹکی ٹھٹھک کر رک گئیبولیچلو ہم بھی یہاں رک کرسمادھی اوڑھ لیتے ہیںچلو ہم بھی اترتے ہیںخود اپنی تہہ کے اندراور خود کو ڈھونڈتے ہیںابد تکنیند کے دریا میں ہم بھی اونگھتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books