aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bartan"
یہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے یہ کھیپ میاں مت گن اپنیاب کوئی گھڑی پل ساعت میں یہ کھیپ بدن کی ہے کفنیکیا تھال کٹوری چاندی کی کیا پیتل کی ڈبیا ڈھکنیکیا برتن سونے چاندی کے کیا مٹی کی ہنڈیا چینیسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
دانشور کہلانے والوتم کیا سمجھومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںتھل کے ریگستان میں رہنے والے لوگوتم کیا جانوساون کیا ہےاپنے بدن کورات میں اندھی تاریکی سےدن میں خود اپنے ہاتھوں سےڈھانپنے والوعریاں لوگوتم کیا جانوچولی کیا ہے دامن کیا ہےشہر بدر ہو جانے والوفٹ پاتھوں پر سونے والوتم کیا سمجھوچھت کیا ہے دیواریں کیا ہیںآنگن کیا ہےاک لڑکی کا خزاں رسیدہ بازو تھامےنبض کے اوپر ہاتھ جمائےایک صدا پر کان لگائےدھڑکن سانسیں گننے والوتم کیا جانومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںدھڑکن کیا ہے جیون کیا ہےسترہ نمبر کے بستر پراپنی قید کا لمحہ لمحہ گننے والییہ لڑکی جوبرسوں کی بیمار نظر آتی ہے تم کوسولہ سال کی اک بیوہ ہےہنستے ہنستے رو پڑتی ہےاندر تک سے بھیگ چکی ہےجان چکی ہےساون کیا ہےاس سے پوچھوکانچ کا برتن کیا ہوتا ہےاس سے پوچھومبہم چیزیں کیا ہوتی ہیںسونا آنگن تنہا جیون کیا ہوتا ہے
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
مزدور ہیں ہم، مزدور ہیں ہم، مجبور تھے ہم، مجبور ہیں ہمانسانیت کے سینے میں رستا ہوا اک ناسور ہیں ہمدولت کی آنکھوں کا سرمہ بنتا ہے ہماری ہڈی سےمندر کے دیئے بھی جلتے ہیں مزدور کی پگھلی چربی سےہم سے بازار کی رونق ہے، ہم سے چہروں کی لالی ہےجلتا ہے ہمارے دل کا دیا دنیا کی سبھا اجیالی ہےدولت کی سیوا کرتے ہیں ٹھکرائے ہوئے ہم دولت کےمزدور ہیں ہم، مزدور ہیں ہم سوتیلے بیٹے قسمت کےسونے کی چٹائی تک بھی نہیں، ہم ذات کے اتنے ہیٹے ہیںیہ سیجوں پر سونے والے شاید بھگوان کے بیٹے ہیںہم میں نہیں کوئی تبدیلی جاڑے کی پالی راتوں میںبیساکھ کے تپتے موسم میں، ساون کی بھری برساتوں میںکپڑے کی ضرورت ہی کیا ہے مزدوروں کو، حیوانوں کوکیا بحث ہے، سردی گرمی سے لوہے کے بنے انسانوں کوہونے دو چراغاں محلوں میں، کیا ہم کو اگر دیوالی ہےمزدور ہیں ہم، مزدور ہیں ہم، مزدور کی دنیا کالی ہےمزدور کے بچے تکتے ہیں جب حسرت سے دوکانوں کومزدور کا دل دیتا ہے دعا دیوتاؤں کو، بھگوانوں کوکھایا مٹی کے برتن میں، سوئے تو بچھونے کو ترسےمختاروں پر تنقیدیں ہیں، بیچارگیاں مجبوروں کیسوکھا چہرہ دہقانوں کا، زخمی پیٹھیں مزدوروں کیوہ بھوکوں کے ان داتا ہیں، حق ان کا ہے بیداد کریںہم کس دروازے پر جائیں کس سے جا کر فریاد کریںبازار تمدن بھی ان کا دنیائے سیاست بھی ان کیمذہب کا ارادہ بھی ان کا، دنیائے سیاست بھی ان کیپابند ہمیں کرنے کے لیے سو راہیں نکالی جاتی ہیںقانون بنائے جاتے ہیں، زنجیریں ڈھالی جاتی ہیںپھر بھی آغاز کی شوخی میں انجام دکھائی دیتا ہےہم چپ ہیں لیکن فطرت کا انصاف دہائی دیتا ہے
ایک پتھر کی ادھوری مورتچند تانبے کے پرانے سکےکالی چاندی کے عجب سے زیوراور کئی کانسے کے ٹوٹے برتنایک صحرا ملےزیر زمیںلوگ کہتے ہیں کہ صدیوں پہلےآج صحرا ہے جہاںوہیں اک شہر ہوا کرتا تھااور مجھ کو یہ خیال آتا ہےکسی تقریبکسی محفل میںسامنا تجھ سے مرا آج بھی ہو جاتا ہےایک لمحے کوبس اک پل کے لئےجسم کی آنچاچٹتی سی نظرسرخ بندیا کی دمکسرسراہٹ تری ملبوس کیبالوں کی مہکبے خیالی میں کبھیلمس کا ننھا سا پھولاور پھر دور تک وہی صحراوہی صحرا کہ جہاںکبھی اک شہر ہوا کرتا تھا
یہی مہمانوں میں ہے گفتگوکہ دولہن ہے بے شک بڑی خوبروسلیقے کے سسرال والے بھی ہیںدکھاوا نہیں مال والے بھی ہیںیہ سردی کی صبح اور سردی کی شاممگر قابل داد ہر انتظامیہ برتن یہ کپڑے یہ کرسی یہ میزملا ہے بہت خوب صورت جہیزصدا پھر وہ انوؔ کی آنے لگیفضاؤں میں مستی لٹانے لگینئی زندگانی مبارک رہےمبارک یہ شادی مبارک رہے
تم نے دیکھی ہے کبھی ایک زن خانہ بدوشجس کے خیمے سے پرے رات کی تاریکی میںگرسنہ بھیڑیے غراتے ہیںدور سے آتی ہے جب اس کی لہو کی خوشبوسنسناتی ہیں درندوں کی ہنسیاور دانتوں میں کسک ہوتی ہےکہ کریں اس کا بدن صد پارہاپنے خیمے میں سمٹ کر عورترات آنکھوں میں بتا دیتی ہےکبھی کرتی ہے الاؤ روشنبھیڑیے دور بھگانے کے لیےکبھی کرتی ہے خیالتیز نکیلا جو اوزار کہیں مل جائےتو بنا لے ہتھیاراس کے خیمے میں بھلا کیا ہوگاٹوٹے پھوٹے ہوئے برتن دو چاردل کے بہلانے کو شاید یہ خیال آتے ہیںاس کو معلوم ہے شاید نہ سحر ہو پائےسوتے بچوں پہ جمائے نظریںکان آہٹ پہ دھرے بیٹھی ہےہاں دھیان اس کا جو بٹ جائے کبھیگنگناتی ہے کوئی بسرا گیتکسی بنجارے کا
قہقہے جیسے خالی برتن لڑھک لڑھک کر ٹوٹیںبحثیں جیسے ہونٹوں میں سے خون کے چھینٹے چھوٹیںحسن کا ذکر کریں یوں جیسے آندھی پھول کھلائےفن کی بات کریں یوں جیسے بنیا شعر سنائے
قصوں کے چوکے میںباتوں کے کچھ برتناوندھے ہیں شرمیلے سےتو کچھ سیدھے مسکراتے ہوئے
صبح دم جو دیکھا تھاکیا ہرا بھرا گھر تھاڈانٹتی ہوئی بیویبھاگتے ہوئے بچےرسیوں کی بانہوں میںجھولتے ہوئے کپڑےبولتے ہوئے برتنجاگتے ہوئے چولھےاک طرف کو گڑیا کاادھ بنا گھروندا تھادور ایک کونے میںسائیکل کا پہیا تھامرغیوں کے ڈربے تھےکابکیں تھیں، پنجرا تھاتیس گز کے آنگن میںسب ہی کچھ تو رکھا تھا
اے کوزہ گر!مری مٹی لےمرا پانی لےمجھے گوندھ ذرامجھے چاک چڑھامجھے رنگ برنگے برتن دے
چائے کھانا برتن بھانڈےصاف کرنا جو ہیں گندےبس یہی میرا کام ہےاور جانتے ہو چھوٹو میرا نام ہےگھر کا اکیلا لڑکا ہوں باقی سب لڑکی ہیںچار بچوں سنگ بن ماں کے اس گھر میں کڑکی ہےماں کے پیٹ میں ہی میرا سودا کیا تھابابا نے میرے دم پر قرض چکتا کیا تھابنایا مجھ کو بندھوا مزدورکام کرنے کو کیا مجبورسکھ تو دیکھو کوسوں دورکہاں سے آئے چہرے پر نورپڑھنا لکھنا تو چھوڑو یہاں کھانے کے لالے ہیںایسے نہ گھبراؤ کے ان ننھے ہاتھوں پر چھالے ہیںچھوٹو ہو کر بھی اس گھر کو بس ہم ہی پالے ہیںایسے ہی دوسرے ہاتھوں میں کھلونوں نے کو دیکھا ہےپر دیکھو ہم پر قسمت نے کیسا پتھر پھینکا ہےکیا لگتا ہے تم کو ہم نے بہت کھیلا ہےسب ان ہاتھوں نے بس کام کا بوجھ جھیلا ہےاس زندگی کا پہیہ تو یہی پر ہی جام ہےمیری زندگی میں بس ایک یہی کام ہےاور جانتے ہو چھوٹو میرا نام ہے
دیواریں دروازے دریچے گم سم ہیںباتیں کرتے بولتے کمرے گم سم ہیںہنستی شور مچاتی گلیاں چپ چپ ہیںروز چہکنے والی چڑیاں چپ چپ ہیںپاس پڑوسی ملنے آنا بھول گئےبرتن آپس میں ٹکرانا بھول گئےالماری نے آہیں بھرنا چھوڑ دیاصندوقوں نے شکوہ کرنا چھوڑ دیامٹھو ''بی بی روٹی دو'' کہتا ہی نہیںسونی سیج پہ دل بس میں رہتا ہی نہیںسنگر کی آواز کو کان ترستے ہیںگھر میں جیسے سب گونگے ہیں بستے ہیںتم کیا بچھڑے سمے سہانے بیت گئےلوٹ آؤ میں ہارا لو تم جیت گئے!
آئی دوالی آئی دوالی گیت خوشی کے گاؤاندھیارے کو دور کرو تم گھر گھر دیپ جلاؤسیتا رام کی راہوں کو اب پھولوں سے مہکاؤچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نامبازاروں میں لگا ہوا ہے دیوالی کا میلہکوئی خریدے برتن بھانڈے کوئی شال دوشالاکوئی خریدے آتش بازی کوئی گلوں کی مالاچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نامدلہن کی مانند سجے ہیں مندر اور شوالےپوجا کا سامان سجائے آئے ہیں متوالےدیا دھرم کا دان کریں گے آج یہاں دل والےچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نامہر مذہب ہر دھرم کے بندے گلے ملن کو آئیںذات پات کے مت بھیدوں کو دل سے آج مٹائیںایک ہیں سارے بھارت واسی دنیا کو دکھلائیںچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نام
بین کرتی عورتوں سےہم پوچھ رہے ہیں میرؔ کے شعر کا مطلببے گھر بھونروں سے کہہ رہے ہیںشکنتلا کو رجھانے کے لیےلو بھری دوپہر میںکوکنے کا تقاضہ کر رہے ہیں کوئل سےاس مشکل وقت میںکچھ لوگ کہہ رہے ہیں ہم سےاپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیےایک ٹوٹے ہوئے برتن کوچاک سے وفاداری ثابت کرنے کے لیےکچھ لوگ تالیاں بجا رہے ہیںکچھ حیران ہو کر دیکھ رہے ہیںان کی اور ہماری شکلیہ معصوم ہیںانہیں معاف کر دینا میرے خدااور ممکن ہو تو ہمیں بھیکہ ہم جی رہے ہیںاس مشکل وقت میں بھی
ندی کی لہریںسوتے سوتےجیسے ایک دم جاگ پڑیںاور جھپٹ پڑیںان گیلے گیلےمٹی بالو کنکرپتھر اور سیمنٹ کےپشتوں پرجن سے ان کو باندھ کےسب نے رکھ چھوڑا تھالہک لہک کرناچ ناچ کرشور مچاتیچاروں اورگلی گلی کوچے کوچے میںگھروں میں صحنوں میں کمروں باغوں میںکونے کونے میں وہجھٹ پٹگھس آئیںچڑھ دوڑیںکوئی چیز نہ چھوٹی ان سےبرتن، باسن،زیور، کپڑےکرسی، میز،کتابیںبھولے بسرےخط پترتصویریںدستاویزیںتحریریںبے کار پڑی چیزیںوہ جن کے ہونے کا بھی پتہ نہ تھالہروں نے ان کو گھیر لیادامن میں اپنےبھینچ لیاکیچڑ مٹی میں لت پت کر ڈالااور سب کچھ لے کر ڈوب گئیں!پھر جیسے اک دم آئی تھیں،ویسے ہی ہر ہر کرتیبل کھاتی، اٹھلاتی،نکل گئیں2اے کاش، دلوں میں روحوں میںایسی اک چنچل باڑھ آئےبے کار ڈروں کے ڈھیروں پرہمت کی لہریں بکھرا دےخود غرضی کے صندوقوں کواک جھٹکا دے کر الٹا دےپھاڑے لالچ کی پوٹوں کوجالوں کو جہل و شقاوت کےاور ظلم کی گندی مکڑی کوچکنی کالکھ کو تعصب کینابود کرے ناپید کرےیوں نم کر دے دل کی کھیتیامیدیں سب لہرا اٹھیںگل نار شگوفے الفت کےسوکھی جانوں سے پھوٹ پڑیں
بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹےمیرے بھاگوں برتن جھوٹے
اچھی نظم کی خواہش بالکل بارش جیسی ہوتی ہےگھن گھن بادل گرجے برسے دھوپ بھلے چمکیلی ہواچھی نظم کی خواہش بالکل آنسو جیسی ہوتی ہےگرم گرم عارض پر بکھرے چاہے شب برفیلی ہواچھی نظم کی خواہش بالکل بچپن جیسی ہوتی ہےچھوٹے چھوٹے برتن ہوں گڑیا ہو اور سہیلی ہواچھی نظم کی خواہش بالکل الجھن جیسی ہوتی ہےجیسے خود میں راز چھپا ہو جیسے کوئی پہیلی ہواچھی نظم کی خواہش ایک سفر کے جیسی ہوتی ہےریل میں میری ماں ہو اور دونوں کی آس بریلی ہوکوئی نظم نہ کہنا جب تک تم پر یہ سب نا اترےنظم کا کوئی اپنا رتبہ اپنا منصب نا اترے
ہجر و وصال کے بیچ بھی اک موسم ہوتا ہےجیسے تمہاری گم صم آنکھیںجیسے مری ادھوری نظمیںجیسے چھاچھ کا خالی پیالہجیسے چاک پہ آدھا برتنجیسے کسی سیارے پر چھ ماہ کی رات
تو آفاق سے قطرہ قطرہ گرتی ہےسناٹے کے زینے سےاس دھرتی کے سینے میںتو تاریخ کے ایوانوں میں در آتی ہےاور بہا لے جاتی ہےجذبوں اور ایمانوں کومیلے دسترخوانوں کوتو جب بنجر دھرتی کے ماتھے کو بوسہ دیتی ہےکتنی سوئی آنکھیں کروٹ لیتی ہیںتو آتی ہےاور تری آمد کے نم سےپیاسے برتن بھر جاتے ہیںتیرے ہاتھ بڑھے آتے ہیںگدلی نیندیں لے جاتے ہیںتیری لمبی پوروں سےدلوں میں گرہیں کھل جاتی ہیںکالی راتیں دھل جاتی ہیںتو آتی ہےپاگل آوازوں کا کیچڑسڑکوں پر اڑنے لگتا ہےتو آتی ہےاور اڑا لے جاتی ہےخاموشی کے خیموں کواور ہونٹوں کی شاخوں پرموتی ڈولنے لگتے ہیںپنچھی بولنے لگتے ہیںتو جب بند کواڑوں میں اور دلوں پر دستک دیتی ہےساری باتیں کہہ جانے کو جی کرتا ہےتیرے ساتھ ہیبہہ جانے کو جی کرتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books