ایک نظم

آنس معین

ایک نظم

آنس معین

MORE BYآنس معین

    دانشور کہلانے والو

    تم کیا سمجھو

    مبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں

    تھل کے ریگستان میں رہنے والے لوگو

    تم کیا جانو

    ساون کیا ہے

    اپنے بدن کو

    رات میں اندھی تاریکی سے

    دن میں خود اپنے ہاتھوں سے

    ڈھانپنے والو

    عریاں لوگو

    تم کیا جانو

    چولی کیا ہے دامن کیا ہے

    شہر بدر ہو جانے والو

    فٹ پاتھوں پر سونے والو

    تم کیا سمجھو

    چھت کیا ہے دیواریں کیا ہیں

    آنگن کیا ہے

    اک لڑکی کا خزاں رسیدہ بازو تھامے

    نبض کے اوپر ہاتھ جمائے

    ایک صدا پر کان لگائے

    دھڑکن سانسیں گننے والو

    تم کیا جانو

    مبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں

    دھڑکن کیا ہے جیون کیا ہے

    سترہ نمبر کے بستر پر

    اپنی قید کا لمحہ لمحہ گننے والی

    یہ لڑکی جو

    برسوں کی بیمار نظر آتی ہے تم کو

    سولہ سال کی اک بیوہ ہے

    ہنستے ہنستے رو پڑتی ہے

    اندر تک سے بھیگ چکی ہے

    جان چکی ہے

    ساون کیا ہے

    اس سے پوچھو

    کانچ کا برتن کیا ہوتا ہے

    اس سے پوچھو

    مبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں

    سونا آنگن تنہا جیون کیا ہوتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Muallim-e-urdu(Lucknow) (Pg. 35)
    • Author : Izhar Ahmad
    • مطبع : Published by Izhar ahmad Editor,and publisher at the Shagufta printers Lucknow & Distributed simmam Publication 499/129 Hasanganj lucknow-226020 ( February-1992)
    • اشاعت :  February-1992

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY