aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "be-matlab"
کچھ لفظ بہت بے معنی سےکچھ لفظ بہت ہی بے مطلبجب ذہن میں بے معنی آ کررک جاتے ہیں بے مطلب ہیتو ایسا لگتا ہے مجھ کویہ دنیا یہ جینا مرنایہ پیار محبت یہ رشتےیہ رنج و غم یہ درد و المیہ خوشیاں یہ گہما گہمییہ سب کچھ ہی بے معنی ہےیہ سب کچھ ہی بے مطلب ہے
وہ حرف جو صرف حرف ہی تھےجڑ کر کس ڈور سےپر اثر اشعار بن گئےچند بکھرے ہوئے بے مطلب لفظسمٹ کر اک دائرے میں کیسےنظم و غزل بن گئے
تھے ديار نو زمین و آسماں میرے لیےوسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لئےتھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لئےحرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیےدرد طفلي میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھےشورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے
طلسم خامشی میں جذب ہو کرشور کے ہیجان سے آزاد ہو جانازمانے بھر کیبے مطلب صداؤں میںسرود خامشی کا نور بھر دینایہی آواز کی معراج ہے شایدیہی آواز کی معراج ہے شایدابھی کوہ ندا پر شور پھیلا ہےکسے آواز دیںکس کو پکاریں ہم
سڑکوں پہ نالیاںکمروں میں مکڑی کے جالےبے معنی شامیںبے مطلب سحر کے اجالےروشنی پھیلیکھڑکیاں کھلیںگنگناہٹیں جاگیںسڑکوں پر جی اٹھاپھر ایک شہربند ہو گئیں سرسراہٹیںجھیلیں گے سبسر ہے آسمان کے حوالےفرش پر گرے گھونسلےبکھر گیا تنکوں کا میلالاکھوں خبروں کی بھیڑ میںایک خبر ہےاکیلیآؤ سبھی کچھ مٹا دیں
ہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبتعلیم نہ ہوگی جس میں کبھی سب آزادی سے گھومیں گےاستاد پڑھیں گے درجوں میں ہم لوگ خوشی سے گھومیں گےاسکول نہ جا کر باغوں میں تفریح کریں گے بے مطلبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبپڑھنے کے لیے بچوں کو جہاں مرغا نہ بنایا جائے گاچانٹے نہ جمائے جائیں گے ڈنڈوں سے نہ پیٹا جائے گااستاد کے مولیٰ بخش جہاں دکھلا نہ سکیں گے کچھ کرتبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبجو یاد کرے گا خوب سبق تا عمر نہ ہوگا پاس وہیجو کھیل میں لے گا دلچسپی پڑھنے میں نہ ہوگا فیل کبھیدراصل ہمارے مکتب کا ہوگا ہر اک دستور عجبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبجس دن بھی پڑا بیمار کوئی اسکول میں ہوگا ہالی ڈےدو بوند بھی پانی برسا تو ہو جائے گا فوراً رینی ڈےہفتے میں تو کم سے کم چھ دن اتوار منائیں گے ہم سبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبکھلیں گے کبھی جب ہم کرکٹ تو خوب اڑائیں گے چھکےہاکی میں دکھائیں گے وہ ہنر رہ جائیں گے سب ہکے بکےہر ٹیم سے میچیں جیتے گا ہم لوگوں کا فٹ بال کلبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتب
بولتی ہے کیا ٹر ٹر باتونی بٹوچپ نہیں رہتی لحظہ بھر باتونی بٹورک نہیں سکتی ایک ہی سانس میں بولتی جائےالٹا سیدھا بے مطلب جو منہ میں آئےبھائی کہیں میں پڑھتا ہوں مت دھیان بٹاؤباجی بولیں بھاگو میرے کان نہ کھاؤبولے کوئی کسی سے تو یہ بیچ میں ٹپکےبات کرے تو اچکے مٹکے آنکھیں جھپکےجب دیکھو تب لارا لارا ری ری ری ریجب دیکھو تب ہاہا ہاہا ہی ہی ہی ہیامی امی وہ جو ہیں ناں آنٹی سرورآج پہن کر آئیں تھی اک نیلا جمپرہاں نیلا سا کچھ اودا کچھ نیلا نیلالگتا تھا کچھ ان کے اوپر ڈھیلا ڈھیلالڑنے لگی پھر مجھ سے وہ بلقیس کی بچیاس ڈبیا کا ڈھکنا تو ہے بالکل پچیمہر نے لی بلقیس کی چٹکی ہو ہو ہو ہوعینی کی گل سے نہیں بنتی ہو ہو ہو ہوعفت اور میں جھولا جھولتے باری باریخالہ بی کی چوٹی ہے کیا لمبی سیبانو کے گھر آئی ہے بولتی مینا باجیہوتا ہے اک ٹانگ کا مرغا ہے نا باجیکرتی ہیں کیوں شام کو چڑیاں چیں چیں چیں چیںابو آپ ذرا فضلو کے کان تو کھینچیںوہ دیکھو پھر آن کے بیٹھا چھت پر کواباوا آدم کی تھیں بیوی ماما حوادور سے آتا دیکھیں تو گھبرائیں پڑوسنلوگ کہیں لو وہ آ دھمکیں بی بکواسنبٹو بی بی سن تو لو سب ہنستے ہیں تم پردیکھو تھوڑی دیر ذرا خاموش بھی رہ کر
نہ آغاز جس کا نہ انجام کوئیاسی بے نشاں کا پرستار ہوں میں
تب کچھ بے معنی چیخوں سےاک مطلب کی چیخ اچانک میں ہتھیا لوں
اندھیارا اور خاموشی مل جاتے ہیںدرد بہت بڑھ جاتا ہےدنیا پر وحشت چھا جاتی ہےکہنے کو باتیں ہیں با معنی بھی بے معنی بھیجب بات کا مطلب اڑ جائےالفاظ پریشاں ہو جائیںکیا جانے کیا کہنا کس سے کہنا کیا ہے
سب لگاتے رہیں کچھ اپنے طریقے سے قیاساپنے مخصوص تجربے سے ہوا ہو جو گماںاور یہ دیکھ کے میں خوب ہنسوں اور سوچوںبے سبب بھی کئی ہوتے ہیں عملہر کسی بات کا مطلب تو نہیں ہوتا ہے
لب بیاباں، بوسے بے جاںکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟جسم کی یہ کار گاہیںجن کا ہیزم آپ بن جاتے ہیں ہم!نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ہمسائےکہ جیسے دزد شب گرداں کوئی!شام سے تھے حسرتوں کے بندۂ بے دام ہمپی رہے تھے جام پر ہر جام ہمیہ سمجھ کر جرعۂ پنہاں کوئیشاید آخر ابتدائے راز کا ایما بنے!مطلب آساں حرف بے معنیتبسم کے حسابی زاویےمتن کے سب حاشیےجن سے عیش خام کے نقش ریا بنتے رہے!اور آخر بعد جسموں میں سر مو بھی نہ تھاجب دلوں کے درمیاں حائل تھے سنگیں فاصلےقرب چشم و گوش سے ہم کون سی الجھن کو سلجھاتے رہے!کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟شام کو جب اپنی غم گاہوں سے دزدانہ نکل آتے ہیں ہم؟یا زوال عمر کا دیو سبک پا رو بہ رویا انا کے دست و پا کو وسعتوں کی آرزوکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟
اگر ممکن نہیں ہے توجدا ہونے کا کیا مطلببچھڑ جانے کا غم کیسایہ نالے اور فغاں کیوں ہیںہم اتنے بے کراں کیوں ہیں
دکھ کے لمحوں میں مرا ایک سہارا ماں ہےمیں اگر ڈوبتی کشتی ہوں کنارہ ماں ہے
تم سے بھارت کے لوگوں کیدیکھی نہ گئی جب بربادیبے خوف و خطر ہو کر یکسرلڑنے لگے جنگ آزادیکی دور وطن سے بربادیاے نیتا جی اے نیتا جیچترنجن داس کی قربت میںبھارت کے لیے ہر کام کیادانش جرأت ہی سے اپنیقومی تحریک میں نام کیامانگیں تھیں تمہاری بنیادیاے نیتا جی اے نیتا جیجھیلے نہ گئے انگریزوں کےبڑھتے ہوئے حد سے ظلم و ستماک فوج بنا کر پھر تم نےسب ختم کیے ان کے دم خمکر دی دشمن کی بربادیاے نیتا جی اے نیتا جیآزادی کی خاطر تم نےجیلیں کاٹیں ہر غم جھیلاآزاد ہوا جس دن بھارتتم نے ہی نہ آنکھوں سے دیکھاتم دیکھتے جشن آزادیاے نیتا جی اے نیتا جیجاپان میں جا کر اے نیتاکس طرح کہاں روپوش ہوئےرخ کر نہ سکے پھر بھارت کاایسے بھی کیا مدہوش ہوئےآ جاؤ کہ اب ہے آزادیاے نیتا جی اے نیتا جیاکثر یہ گماں ہے لوگوں کوتم سامنے جیسے آئے ہواس کا یہ کہیں مطلب تو نہیںتم ذہن و دل پر چھائے ہوکہتی ہے یہ ساری آبادیاے نیتا جی اے نیتا جی
ہمیں زعم تھا یہکہ ہم توبڑے گیان والے ہیںلیکناگر گیان ہوتاتو آخرہری چھاؤں کی جستجو میںیہ بھیڑوں کا غلہ بھٹکتے بھٹکتےیہاں تو نہ آتایہ جنگل بڑا ہےمگر اس کی ہریالی بھیڑوں کے غلے کو نگلے چلی جا رہی ہےہمیں ماؤں نے جو سکھایا تھا بچپن میں لفظوں کا مطلبوہ مطلب یہاں کھو چکے ہیںوفا اور محبتخلوص اور عقیدت کے الفاظ جن پر ہمیں ناز تھاآج انڈے کے چھلکے کے مانند پچکے پڑے ہیںہر اک سمت شک کے اندھیروں کے خیمے گڑے ہیںوفاؤں کی چھاتی پہوہموں کا عفریتبے ناچے چلتا چلا آ رہا ہےدلوں میںحسد کی انگیٹھی جلا کرانا کی رضائی میں دبکے ہوئے لوگلفظوں کے تیروں پر عیاریوں کا ہلاہل چڑھائے چلے جا رہے ہیںکسی کو کسی پر بھروسہ نہیں ہےسبھی اپنے خوں میں نہائے کھڑے ہیںہمیں یہ خبر ہی نہیں ہےکہ جو تیر ہم نےچلائے تھے اوروں پہوہ سارے ناوکہمارے ہی اپنے دلوں کا لہو پی رہے ہیںنہ میں میں رہا ہوں نہ تم تم رہے ہو
اس لفظ کاکیا مطلب ہے جوتم محبت میں شکر گزاری کے لیےایک خاصے موقعے پراستعمال کرتی ہو
میں نوائے غم میں اپنی وہ اثر کہیں سے لاتاترے دل میں ہوک اٹھتی جو میں بے قرار ہوتامیں اسے بھی اپنے ہی دل کی طرح خراب کرتاترے دل پہ کاش ظالم مرا اختیار ہوتامرا اس غزل سے مطلب تھا جلیلؔ صرف اتنامیں کسی سے شکوہ کرتا کوئی شرمسار ہوتا
جب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سےقطع تعلق ہو کے انگلش میں غصہ کرتی ہےمیں تو ڈر جاتا ہوں لیکنکمرے کی دیواریں ہنسنے لگتی ہیںوہ اک ایسی آگ ہے جس کو صرف دہکنے سے مطلب ہےوہ اک ایسا پھول ہے جس پر اپنی خوشبو بوجھ بنی ہےوہ اک ایسا خواب ہے جس کو دیکھنے والا خود مشکل میں پڑ سکتا ہےاس کو چھونے کی خواہش تو ٹھیک ہے لیکنپانی کون پکڑ سکتا ہےوہ رنگوں سے واقف ہےبلکہ ہر اک رنگ کے شجرے تک سے واقف ہےاس کو علم ہے کن خوابوں سے آنکھیں نیلی پڑ جاتی ہیںہم نے جن کو نفرت سے منسوب کیاوہ ان پیلے پھولوں کی عزت کرتی ہےکبھی کبھی وہ اپنے ہاتھ میں پنسل لے کر ایسی سطریں کھینچتی ہےسب کچھ سیدھا ہو جاتا ہےوہ چاہے تو ہر اک چیز کو اس کے اصل میں لا سکتی ہےصرف اسی کے ہاتھوں سے دنیا ترتیب میں آ سکتی ہےہر پتھر اس پاؤں سے ٹکرانے کی خواہش میں زندہ ہےلیکن یہ تو اسی ادھورے پن کا جہاں ہےہر پنجرے میں ایسے قیدی کب ہوتے ہیںہر کپڑے کی قسمت میں وہ جسم کہاں ہےمیری بے مقصد باتوں سے تنگ بھی آ جاتی ہے تومحسوس نہیں ہونے دیتیلیکن اپنے ہونے سے اکتا جاتی ہےاس کو وقت کی پابندی سے کیا مطلب ہےوہ تو بند گھڑی بھی ہاتھ میں باندھ کے کالج آ جاتی ہے
نیلا نیلا امبر کیوں ہےدھرتی کھاتی چکر کیوں ہےبلی چوہے کیوں ہے کھاتیکالی کوئل کیوں ہے گاتیکیوں پانی میں رہتی مچھلیکیوں چرخے پر گھومے تکلیتتلی رنگ برنگی کیوں ہےیہ دنیا بے ڈھنگی کیوں ہےہندو مسلم سکھ عیسائیکیوں رکھتے مذہب کی کھائیکچھ گورے کچھ کالے کیوں ہیںاونچے پیسے والے کیوں ہیںچیزیں اتنی مہنگی کیوں ہیںجانیں اتنی سستی کیوں ہیںجھگڑا کرتے کیوں ہیں انساںدھن پر مرتے کیوں ہیں انساںخود غرضی ہی پیاری کیوں ہےمطلب کی ہی یاری کیوں ہےہر دم بم کے خطرے کیوں ہیںجنگ کے بادل بکھرے کیوں ہیںصدہا باتیں من میں اٹھتیںگھیرے مجھ کو سوچیں رہتیںمیں ہوں ننھا منا بالکاوروں جیسا کب ہوں زیرکپاپا تم ہو عالم فاضل ہر فن میں ہو پورے کاملپاپا مجھ کو بتلاؤ ناساری باتیں سمجھاؤ نا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books