کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

ن م راشد

کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

ن م راشد

MORE BYن م راشد

    لب بیاباں، بوسے بے جاں

    کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

    جسم کی یہ کار گاہیں

    جن کا ہیزم آپ بن جاتے ہیں ہم!

    نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ہمسائے

    کہ جیسے دزد شب گرداں کوئی!

    شام سے تھے حسرتوں کے بندۂ بے دام ہم

    پی رہے تھے جام پر ہر جام ہم

    یہ سمجھ کر جرعۂ پنہاں کوئی

    شاید آخر ابتدائے راز کا ایما بنے!

    مطلب آساں حرف بے معنی

    تبسم کے حسابی زاویے

    متن کے سب حاشیے

    جن سے عیش خام کے نقش ریا بنتے رہے!

    اور آخر بعد جسموں میں سر مو بھی نہ تھا

    جب دلوں کے درمیاں حائل تھے سنگیں فاصلے

    قرب چشم و گوش سے ہم کون سی الجھن کو سلجھاتے رہے!

    کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

    شام کو جب اپنی غم گاہوں سے دزدانہ نکل آتے ہیں ہم؟

    یا زوال عمر کا دیو سبک پا رو بہ رو

    یا انا کے دست و پا کو وسعتوں کی آرزو

    کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ن م راشد

    ن م راشد

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟ نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY