aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "be-nutq"
دے رہا ہے گالیاں بے نطق ہر پیر و جواںواہ کیا کہنا تری تہذیب کا ہندوستاں
میری تمام کائناتگھاس کے ورق کی طرح سوکھنے لگےتو تم اس تنہا رستے پہ آؤ گے؟تخلیق کے چپ مالک! آقا! خدا!تم کہ کھوئے ہوؤں کے درد مدتوں سنبھالے رہے ہواس رستے پہ کہ جہاںمجھے کبھی یقیں نہ ہو سکا کہ پانی مانگوں تو کیسےروٹی یا عافیت یا محض پہچان کی بھیک مانگوں تو کیسےتم آؤ گے؟جلے ہوئے جسم کے اس رستے پہ؟موت کے دوسرے ساحل پہدھوئیں کی طرح پاش پاش بوڑھی ہڈیوں کیاس سر زمین پہ؟یہاں بے نطق لفظ ایک دوسرے کا منہ تکتے ہیںاور ہر دعا نے لفظوں سے منہ موڑ لیا ہے
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سےسایۂ شام غریباں کی طرحشورش دیدۂ گریاں کی طرحموسم کنج بیاباں کی طرحکتنا بے نطق ہے یادوں کا ہجومجیسے ہونٹوں کی فضا یخ بستہجیسے لفظوں کو گہن لگ جائےجیسے روٹھے ہوئے رستوں کے مسافر چپ چاپجیسے مرقد کے سرہانے کوئی خاموش چراغجیسے سنسان سے مقتل کی صلیبجیسے کجلائی ہوئی شب کا نصیبمیرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سےپھر سے زخموں کی قطاریں جاگیںاول شام چراغاں کی طرحہر نئے زخم نے پھر یاد دلایا مجھ کواسی کمرے میں کبھیمحفل احباب کے ساتھگنگناتے ہوئے لمحوں کے شجر پھیلتے تھےرقص کرتے ہوئے جذبوں کے دہکتے لمحےقریۂ جاں میں لہو کی صورتشمع وعدہ کی طرح جلتے تھےسانس لیتی تھی فضا میں خوشبوآنکھ میں گلبن مرجاں کی طرحسانس کے ساتھ گہر ڈھلتے تھےآج کیا کہیے کہ ایسا کیوں ہےشام چپ چاپفضا یخ بستہدل مرا دل کہ سمندر کی طرح زندہ تھاتیرے ہوتے ہوئے تنہا کیوں ہےتو کہ خود چشمۂ آواز بھی ہےمیری محرم مری ہم راز بھی ہےتیرے ہوتے ہوئے ہر سمت اداسی کیسیشام چپ چاپفضا یخ بستہدل کے ہم راہ بدن ٹوٹ رہا ہو جیسےروح سے رشتۂ جاں چھوٹ رہا ہو جیسےاے کہ تو چشمۂ آواز بھی ہےحاصل نغمگیٔ ساز بھی ہےلب کشا ہو کہ سر شام فگاراس سے پہلے کہ شکستہ دل میںبد گمانی کی کوئی تیز کرن چبھ جائےاس سے پہلے کہ چراغ وعدہیک بہ یک بجھ جائےلب کشا ہو کہ فضا میں پھر سےجلتے لفظوں کے دہکتے جگنوتیر جائیں تو سکوت شب عریاں ٹوٹےپھر کوئی بند گریباں ٹوٹےلب کشا ہو کہ مری نس نس میںزہر بھر دے نہ کہیںوقت کی زخم فروشی پھر سےلب کشا ہو کہ مجھے ڈس لے گیخود فراموشی پھر سےمیرے کمرے میں اتر آئیخموشی پھر سے
در حقیقت خامشی معراج ہے گفتار کیاس سے بہتر کوئی بھی صورت نہیں اظہار کیہو گئی ہے نطق کی ہر ہر ادا جب بے اثرمیں نے دیکھا ہے طلسم خامشی کو کارگرخامشی ایسے بھی لمحوں کی کہانی کہہ گئیجن میں گویائی پشیمانی اٹھا کر رہ گئی
اس حسن کو اب کیجیے کس حسن سے تعبیریہ حسن نظر پاش ہے یا عکس تخیلیہ نیم نگاہی ہے کہ جلوؤں کا تسلسلیہ حسن ترنم ہے تبسم ہے کہ طوفانیا جلوۂ شاداب حجابوں میں نمایاںیہ حسن کا حاصل ہے کہ جلوؤں کا تقاضادامان نظر پردۂ محمل ہے سراپایہ جلوۂ بے تاب ہے یا برق شرر خیزیا جام محبت ہے کہ جذبات سے لبریزنظارۂ گل رنگ ہے پیمانۂ راحتعکس نظر افروز ہے آئینۂ فطرتاک پیکر حیرت ہے کہ اک سحر کی تصویردامان فضا پر ہے خیالات کی تحریرتسلیم ہے کہ مائیگیٔ نطق کی تقصیر
درد کا نام سماعت کے لیے راحت جاںدست بے مایہ کو زرنطق خاموش کو لفظخواب بے در کو مکاںدرد کا نام مرے شہر خواہش کا نشاںمنزل ریگ رواںدرد کی راہ پہ تسکین کے امکان بہت!
اپنے تابوت میں خود سے ہیبت زدہ جبر کی زندگانی میں جیتا رہایوں جمال سحر زرد سورج کے ہاتھوں میں گروی رہاکسمساتے بدن کے جنوبی طرف تازیانوں کی برسات جاری رہی اور شمالی طرف سنگ باری سے ادھڑی ہوئی کھال پرزندگی کی یہ تمثیل لکھی گئی میں تو بس وقت کی جیل میں قید تھااور تصور میں تھی لہلہاتی ہوئی خوش نما زندگییعنی شندور کی بھربھری گھاس پہ بیٹھ کے میچ پولو کے دیکھا کروںاور قہوہ کی چسکی لگاتے ہوئی سارتر کو پڑھوںقہقہوں کے تموج میں رقصاں رہیں نطق تخلیق کے بے کراں زمزمے
وہ حرف جو فضائے نیل گوں کی وسعتوں میں قید تھاوہ صوت جو حصار خامشی میں جلوہ ریز تھیصدا جو کوہسار کی بلندیوں پہ محو خواب تھیردائے برف سے ڈھکیوہ لفظ جو فضا کے نیلے آنچلوں سے چھن کےجذب ہو رہا تھاریگ زار وقت میںجو ذرہ ذرہ منتشر تھادھندلی دھندلی ساعتوں کی گرد میںوہ معنیٔ گریز پالرز رہا تھا جو رگ حیات میںوہ رمز منتظر کہ جو ابھی نہاں تھابطن کائنات میں
ذرے ذرے میں دواں روح و رواں پاتا ہوں میںزندگی کو ایک بحر بیکراں پاتا ہوں میںغنچہ غنچہ نطق پر آمادہ آتا ہے نظرپتے پتے کی زباں کو نغمہ خواں پاتا ہوں میںزندہ ہستی کی خبر دیتی ہے رفتار نفسبوئے گل کو زندگی کا ترجماں پاتا ہوں میںبرق کی جنبش ہو یا باد صبا کا ہو خرامزندگی کا ہر تموج میں نشاں پاتا ہوں میںاس سے آگے بھی ہیں روحیں اڑتی پھرتی بے شمارطائر سدرہ کا جس جا آشیاں پاتا ہوں میںہو چکی ہے حکمراں جس نخل پر باد خزاںاس کی رگ رگ میں بہار بے خزاں پاتا ہوں میںچار سو راہ سفر پر دوڑتی ہے جب نظرزندگی کو کارواں در کارواں پاتا ہوں میںجانے والوں کی تباہی کے نشانوں میں نہاںآنے والی ہستیوں کی بستیاں پاتا ہوں میںالغرض سمجھے ہو جن کو موت کی بربادیاںزندگی کے انقلاب ان میں نہاں پاتا ہوں میں
دلوں میں رنگ محبت کو استوار کیاسواد ہند کو گیتا سے نغمہ بار کیاجو راز کوشش نطق و زباں سے کھل نہ سکاوہ راز اپنی نگاہوں سے آشکار کیااداسیوں کو نئی زندگی عطا کر دیہر ایک ذرے کو دل دے کے بے قرار کیاجو مشرب اس کا نہ اس طرح عام ہو جاتاجہاں سے محو محبت کا نام ہو جاتا
دلوں میں رنگ محبت کو استوار کیاسواد ہند کو گیتا سے نغمہ بار کیاجو راز کوشش نطق و زباں سے کھل نہ سکاوہ راز اپنی نگاہوں سے آشکار کیااداسیوں کو نئی زندگی عطا کر دیہر ایک ذرے کو دل دے کے بیقرار کیاجو مشرب اس کا نہ اس طرح عام ہو جاتاجہاں سے محو محبت کا نام ہو جاتا
دل خواص ہے روح عوام ہے اردوزباں نہیں ہے مکمل نظام ہے اردو
آدم خاکی کی پیدائش سے پہلےجن کا کہنا تھا زمیں پرخون بہائے گا یہ ناحقاور مچائے گا فساداب وہی پیشین گو امیدواراس کے گن گاتے ہوئے تھکتے نہیںامتحان گاہ مقدر ہو تو ایسیجس میں پر تاب و تواں ہمکارپردازان فطرت لا جواباور آدم اس کی طینت میں تو گویاحل شدہ پہلے سے تھے سارے سوالجن مظاہر کی طرف دیکھا نظر بھر کرمعانی کے دمک اٹھے انہیں میں مضمراتحکمت اشیا کے سانچے میں ڈھلیبے ساختہ اسم آفرینی مرحباخاک بے مقدار کے ذرات میںجوہر نطق و بیاں ایسا بھی مخفی ہےکسے معلوم تھاامتحاں ختماور مسجود ملائک بن گئی انساں کی ذاتمیں نے لیکن شیوۂ انکار اپنایاکہ میں آتش نہادمرتبے میں خاک افتادہ سے برتراصل میں والا گہرچاہے افلاک و زمین پرپھیل کر چھا جائے یہ مشت غبارحربہ تسخیر لیکن کارگر مجھ پر بھی ہو اس کایہی اک مرحلہ ہے معرکے کاامتحاں یہ سخت تر ہےکامیابی اس میں بھی پائے یہیامیدوار خوش گماںآساں نہیںمیری اپنی اک لغت ہےجس میں اسما کے معانی بار باراک نئی تعبیر کے آئینہ دارمنصب آزادگی آدم کااک پروانۂ غارت گریاس میں لکھا ہےاور آگاہیتباہی کے وسائل تک رسائی کا جوازاس میں چھپا ہےالغرض اس کھیل کا مہرہ وہیعلم اسما ہے مگراک پر فسوں تقلیب کاری کا شکاراک پر فسوں تقلیب کاری کا شکار
میری مجروح خلوتدہائی پہ اترے بھی تو کس طرحزہر شر شربت خیر کے ذائقےمیرے نطق و زباں کے لئے وقف ہیںصرف سود و زیاں کے لئے وقف ہیںمیں تصور کا محتاجصورت گری سے بہلتا رہوںذہن کے نیم اجالوں میںگرتا سنبھلتا رہوںحلقۂ روز و شب سے مچلتی ہوئیساری چنگاریاں مجھ پہ برسا کریںبحر ادراک کے سب کے سب جزر و مدمجھ پہ ٹوٹا کریںمیں نگاہوں میں خار مغیلاں لئےبس زمینوں زمینوں بھٹکتا رہوںاپنے سائے کو ہلکا سا نقطہ کیےانگنت نیم خوابیدہ آنکھوں کو تکتا رہوںاپنی پہچان کے واسطے اپنی تعریف میںصرف اتنا کہوںمیں اکائی گزیدہ سر انجمنمیرے چاروں طرفبے اماں اک گگنسوچ بنسوچ بن سورج بن
طبیب بھنبھنا گیامیں سب علاج کر کے تھک گیا ہوںپر یہ بچہ بولتا نہیںزبان اس کی تندرست ہےکہیں بھی کوئی رخنہ، کوئی نقص، میں نہیں سمجھ سکابدن بھی تندرست ہے مگر یہ نونہال چار سال کااشاروں سے ہی بات کرنا جانتا ہے، کیا کروں؟اسے کسی سپیشلسٹ کے پاس لے کے جائیے
یہ بے نور اندھی سیاست کا بازار ہےمصلحت کی دکاں ہےشناسا یہاں اجنبی ہیںمسرت کے لمحے بھی بے جان ہیںجسم و جاں کی حقیقت نہیں ہیںریاکار سوچوں کےجامد حصاروں میں لپٹی ہوئیسر زمین کہہ رہی ہےکہ یہ محفل تنگ داماں ہےساقی کا اعجازمطرب کی آوازاور نعرۂ سرمدی کچھ نہیں ہے یہاںتو بسذوق ہستی کابیدارئ آرزو کا اثاثہ سمیٹوانہیں بے نوائی کے غاروں میں کھو جاؤ جا کرجہاں کونے کونے میںہر کنج میں ہر قدم پرسکوت مکمل کا آسیب ہےشور و غوغا کا جنگل ہےاور گلشن نطق بے برگ و بار و ثمر ہےکہ اس محبس فکر میں خیالوں کی محشر خرامیاندھیروں اجالوں کی تکرار پیہم نہیں ہےاسی کنج بیگانگی میں چھپا لو دل و جاںجہاں سحر خیز بیدار روحیںکبھی نشۂ مے سے سرشار تھیں جوخمار تمنا گنوا کرسبک نرم خوابوں سے دامن بچا کرکار گاہ ہنر سے نگاہیں چرا کرزمانے کے نقش قدم دیکھتے دیکھتےسو گئی ہیںکہ وہ بار حریت دین و دل سےسبکبار سی ہو گئی ہیںاگر جان و دل پھر بھیبیدارئ آرزوفتنہ سازئ حق بینی و گرم رفتارئ جستجو پر مصر ہوںتو دیوار محبس کے روزن کو آنکھیں بنا لونگاہیں افق پر جما لو
دل میں جب اشعار کی ہوتی ہے بارش بے شمارنطق پر بوندیں ٹپک پڑتی ہیں کچھ بے اختیار
پھر اک دن ایسا آئے گاآنکھوں کے دئیے بجھ جائیں گےہاتھوں کے کنول کمھلائیں گےاور برگ زباں سے نطق و صداکی ہر تتلی اڑ جائے گیاک کالے سمندر کی تہ میںکلیوں کی طرح سے کھلتی ہوئیپھولوں کی طرح سے ہنستی ہوئیساری شکلیں کھو جائیں گیخوں کی گردش دل کی دھڑکنسب راگنیاں سو جائیں گیاور نیلی فضا کی مخمل پرہنستی ہوئی ہیرے کی یہ کنییہ میری جنت میری زمیںاس کی صبحیں اس کی شامیںبے جانے ہوئے بے سمجھے ہوئےاک مشت غبار انساں پرشبنم کی طرح رو جائیں گیہر چیز بھلا دی جائے گییادوں کے حسیں بت خانے سےہر چیز اٹھا دی جائے گیپھر کوئی نہیں یہ پوچھے گاسردارؔ کہاں ہے محفل میں
فضاؤں کے سمندر میں تلاطم ہو گیا برپامہ نو کی سنہری ناؤ اچھلی کھا کے ہچکولانظر نیچی کئے محمل سے باہر آ گئی لیلیٰتبسم آتے آتے رک گیا شرما گئی لیلیٰکن انکھیوں کا اشارہ شوخیاں کرتا ہے گھونگھٹ میںشرارت کے عناصر مل گئے ہیں مسکراہٹ میںہلال عید کو کیوں خنجر ناز و ادا کہئےبرا کیا ہے جو محراب جبین دل ربا کہئےمبارک ہو سمیٹی لیلائے شب نے ردا اپنیعروس عید نے پردے سے دکھلائی ادا اپنیمساجد میں موذن کی صدائیں بہکی جاتی ہیںلب زاہد کو جنبش ہے دعائیں بہکی جاتی ہیںتمناؤں کی کلیاں کھل رہی ہیں دل کے دامن میںترانہ ہے مسرت کا فضا کے دل کی دھڑکن میںبہار عید آئی حسن کی رونق بڑھانے کوجواں بیوہ کے دل میں شمع حسرت کو جلانے کوبہار عید حسرت کی خلش دل میں جگاتی ہےیتیموں کی نظر کو سسکیاں لینا سکھاتی ہےبہار عید کیا ہیجان جذبات تمنائیبہار عید کیا دولت کی اک بے کیف انگڑائیدھواں اٹھے نہ کیوں شاعر کے قلب زار و سوزاں سےکہ کھیلی جا رہی ہیں ہولیاں خون غریباں سےوہ دیکھو ہو رہی ہے روشنی ایوان دولت میںلہو دہقاں کا جلتا ہے چراغ بزم عشرت میںہلال عید خون آرزو رنگینیاں تیرییتیموں کی نگاہ بے زباں افسانہ خواں تیریقسم ہے اے ہلال عید اشکوں کی روانی کیقسم ہے اے ہلال عید بیوہ کی جوانی کیقسم ان کاروانوں کی جو لٹ جائیں سر منزلقسم ان کشتیوں کی ڈوب جائیں جو لب ساحلقسم ان سرخ آنکھوں کی ہو طاری جن پہ بے ہوشیقسم اس نطق کی جو ہو گیا ہو نذر خاموشیقسم ان زرد ہونٹوں کی بنی جن کے لئے نرمیقسم ان سرد بوسوں کی نہیں جن میں ذرا گرمیقسم اس نالۂ شب کی نہیں جس کا کہیں مامنقسم اس چشم تر کی جس کی قسمت میں نہیں دامنقسم ہے اس جماہی کی جو ہو رسواکن مستیقسم ہے اس جوانی کی جو ہو وقف غم ہستیقسم ہے اے ہلال عید سائل کی نگاہوں کیقسم ہے کج کلاہی کی قسم ہے کج کلاہوں کیکہ رونق تجھ سے ہو سکتی ہے عشرت کے دیاروں میںمگر کیا خاک ہوگی روشنی دل کے مزاروں میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books