aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "be-pidar"
محبت کو تم لاکھ پھینک آؤ گہرے کنویں میںمگر ایک آواز پیچھا کرے گیکبھی چاندنی رات کا گیت بن کرکبھی گھپ اندھیرے کی پگلی ہنسی بن کےپیچھا کرے گیمگر ایک آواز پیچھا کرے گیوہ آوازنا خواستہ طفلک بے پدرایک دنسولیوں کے سہارےبنی نوع انساں کی ہادی بنیپھر خدا بن گئیکوئی ماںکئی سال پہلےزمانے کے ڈر سےسر رہ گزراپنا لخت جگر چھوڑ آئیوہ نا خواستہ طفلک بے پدرایک دنسولیوں کے سہارےبنی نوع انساں کا ہادی بناپھر خدا بن گیا
آج برائے فاتحہ شام کو جو اٹھائے ہاتھصورتیں کچھ جھلک پڑیں آنسوؤں کی تڑپ کے ساتھ
دوا سے کچھ نہ ہوا اور دعا سے کچھ نہ ملابشر نے کچھ نہ دیا اور خدا سے کچھ نہ ملا
سنیے اک ناعاقبت اندیش کی فریاد ہےکہہ رہا ہے وہ مجھے اپنی جوانی یاد ہےمیں جسے کہتا تھا گھر وہ آج طفل آباد ہےمیری تنہا جان ہے اور کثرت اولاد ہے''اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں''
درد ہے دل کے لئے اور دل انساں کے لئےتازگی برگ و ثمر کی چمنستاں کے لئے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
ڈھونڈھتی پھرتی رہی روح کسی ساتھی کودر بدر ٹھوکریں کھاتا رہا پندار مرااپنی مٹی سے بھی اٹھی نہیں سوندھی خوشبوغیر کے دیس میں لٹتا رہا سنسار مرا
ماضی کے محل کی کہنہ دیوارٹوٹا نہیں بے حسی کا پندار
اب کے سوچا ہے کہ یہ بات بتا دوں اس کو
دل میں اٹھتی ہے مسرت کی لہر ہولی میںمستیاں جھومتی ہیں شام و سحر ہولی میں
محبت زندگی ہےمحبت دل کی تیرہ ساعتوں میں روشنی ہےیہ ویرانوں میں خود رو نغمگی ہےمحبت جرأت اظہار ہے کردار ہےمحبت دیدۂ بے دار ہے پندار ہےایثار ہےمحبت جان دیتی ہےمحبت مان دیتی ہےمحبت بے نشاں رشتوں کو بھی پہچان دیتی ہےمحبت عقل بھی ہےمحبت ماورائے عقل بھی ہےمحبت ہجر بھی ہے وصل بھی ہےمحبت پیش رفت نسل بھی ہےمحبت زخم پر مرہممحبت سربسر ترحممحبت محترم سچ کا علم زور قلممحبت کاوش پیہممحبت راز یزداں کھولتی ہےمحبت ظرف آدم تولتی ہےمحبت خامشی میں بولتی ہےمحبت آرزو ہے جستجو ہے رنگ و بو ہےمحبت جیت کر مٹنے کی خو ہےمحبت ہار کر بھی سرخ رو ہےمحبت ابتدا ہے انتہا ہےمحبت باعث ارض و سما ہےمحبت میں خدا بھی مبتلا ہے
قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروا نہ کیقدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کیآہ بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبرغافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجرآشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھاہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھاشمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھیبارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھیآہ شودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہےدرد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہےبرہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میںشمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میںبتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوانور ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہواپھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سےہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
کسی کی طبیعت میں پندار مستیکسی کو غرور جوانی کی مستیکوئی مست میخانۂ خود پرستیامیروں کی دنیا تکبر کی پستیفریبوں کے سائے میں ڈیرا ہے ان کاگناہوں کے گھر میں بسیرا ہے ان کاکوئی اپنے زور حکومت پہ نازاںکوئی مال و دولت کی کثرت پہ نازاںکوئی اپنے ایواں کی رفعت پہ نازاںکوئی حشمت و جاہ و ثروت پہ نازاںوہ نشہ چڑھا ہے کہ بھولا خدا بھییہ سنتے نہیں بیکسوں کی دعا بھیجو نایاب شے ہو اسے ڈھونڈ لائیںجو مرغوب خاطر ہو وہ چیز کھائیںجو گرمی کو چاہیں تو سردی بنائیںاڑائیں پہاڑوں کی ٹھنڈی ہوائیںزمانے میں چلتی اگر ہے تو ان کییہاں دال گلتی اگر ہے تو ان کیہے دشوار ان کو بلندی نہ پستیامیروں کی دنیا میں مہنگی بھی سستینہ دیکھی انہوں نے کبھی فاقہ مستییہ ہیں بے نیاز غم تنگ دستییہ مفلس کی مشکل کو کیا جانتے ہیںیہ نادار کو خاک پہچانتے ہیںگزرتی ہے شب جو ہوس رانیوں میںتو کٹتا ہے دن فتنہ سامانیوں میںیہ ہیں مست اپنی تن آسانیوں میںزمانہ ہے ان سے پریشانیوں میںغریبوں کے حق میں بلا بننے والےیتیموں کے حق میں قضا بننے والےزمانہ ہو زچ جس سے وہ چال کر دیںجو ممکن ہو دنیا کا پامال کر دیںاگر ہو سکے سب کو کنگال کر دیںجو خوش حال ہوں ان کو بد حال کر دیںغرض ان کے دل ہیں محبت سے خالیاخوت سے خالی عنایت سے خالیجو بولے کوئی تو زبان کاٹ ڈالیںجو دیکھے کوئی اس کی آنکھیں نکالیںنہیں ان سے ممکن کسی کو سنبھالیںکوئی مر رہا ہو تو اس کو بچا لیںمگر شکر ہے عرشؔ فضل خدا کاوہ خلاق حافظ ہے ہر بے نوا کا
تمہارے عزم جواں نے اکثرنئے خیالوں کا نور بخشا تھا آگہی کوکوئی بھی تاریخ پا بجولاں نہ کر سکی تھیتمہاری آزاد و آسماں گیر زندگی کوشکست ہرگز نہ دے سکی تھیتمہارے جذبوں تمہارے پندار بندگی کو
سکھی پھر آ گئی رت جھولنے کی گنگنانے کیسیہ آنکھوں کی تہ میں بجلیوں کے ڈوب جانے کیسبک ہاتھوں سے مہندی کی ہری شاخیں جھکانے کیلگن میں رنگ آنچل میں دھنک کے مسکرانے کیامنگوں کے سبو سے قطرہ قطرہ مے ٹپکنے کیگھنیرے گیسوؤں میں ادھ کھلی کلیاں سجانے کی
قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروا نہ کیقدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کیآہ بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبرغافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجرآشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھاہند کو لیکن خیالی فلسفے پر ناز تھاشمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھیبارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھیآہ شودر کے لئے ہندوستاں غم خانہ ہےدرد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہےبرہمن سرشار ہے اب تک مے پندار میںشمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میںبت کدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوانور ابراہیم سے آذر کا گھر روشن ہواپھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سےہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
آج کی رات بہت سرد بہت کالی ہےتیرگی ایسے لپٹتی ہے ہوائے غم سےاپنے بچھڑے ہوئے ساجن سے ملی ہے جیسےمشعل خواب کچھ اس طور بجھی ہے جیسےدرد نے جاگتی آنکھوں کی چمک کھا لی ہےشوق کا نام نہ خواہش کا نشاں ہے کوئیبرف کی سل نے مرے دل کی جگہ پا لی ہےاب دھندلکے بھی نہیں زینت چشم بے خوابآس کا روپ محل دست تہی ہے جیسےبحر امکان پہ کائی سی جمی ہے جیسےایسے لگتا ہے کہ جیسے مرا معمورۂ جاںکسی سیلاب زدہ گھر کی زبوں حالی ہےنہ کوئی دوست نہ تارا کہ جسے بتلاؤںاس طرح ٹوٹ کے بکھرا ہے انا کا شیشہمیرا پندار مرے دل کے لیے گالی ہےنبض تاروں کی طرح ڈوب رہی ہے جیسے!غم کی پنہائی سمندر سے بڑی ہے جیسے!آنکھ صحراؤں کے دامن کی طرح خالی ہےوحشت جاں کی طرف دیکھ کے یوں لگتا ہےموت اس طرح کے جینے سے بھلی ہے جیسےتیرگی چھٹنے لگی، وقت رکے گا کیوں کرصبح خورشید لیے در پہ کھڑی ہے جیسےداغ رسوائی چھپانے سے نہیں چھپ سکتایہ تو یوں ہے کہ جبیں بول رہی ہے جیسے!
اک ندا آئی بہت دور سے کانوں میں مرےپھر خیال آیا کہ یہ وہم مرا ہو شایدمیرے الجھے ہوئے خوابوں کے صنم خانے ہیںمیرے انفاس کی موہوم صدا ہو شایدمیں تصور کے خلاؤں میں بھٹکتا ہوں سداشبنمی سوچ کی راس آتی نہیں مجھ کو ہواجو مرے شوق تکلم کی طلب گار نہ ہواس سے قربت کی تمنا کا تقاضا بے سودخواب جو آنکھوں میں مجہول نظارہ ہو جائےاس کے سچ ہونے کا بے معنی دلاسا بے سودبے ندا خواہش لیلیٰ سے مجھے کیا حاصلایسی نادیدہ زلیخا سے مجھے کیا حاصلکیا خبر اس کے تخیل میں مرا نام نہ ہومجھ سے ملنے کی حماقت سے وہ کترا جائےکیا پتا میری رفاقت اسے منظور نہ ہومجھ سے مل بیٹھے مگر جلد ہی اکتا جائےوصل معمورۂ احساس کے خوابوں میں رہےحسرت شرف ملاقات سرابوں میں رہےکیا پتا اس کو مرے قرب کی خواہش ہی نہ ہوبات کرنی بھی نہ ہو اس کو گوارا مجھ سےکیا خبر پہلی ملاقات پہ وہ یہ کہہ دےرکھنا امید نہ ملنے کی دوبارہ مجھ سےیہ تصور مرے پندار سے ٹکراتے ہیںمیرے جذبات اسی خوف سے مر جاتے ہیںجو صدا دور سے آئی ہے فقط وہم سے وہوہم کے سائے سے امید لگانا ہے فضولدہر کی تلخ حقیقت کو نظر میں رکھ کرریت پر خوابوں کی تصویر بنانا ہے فضولایسی تصویر کا ہر رنگ اتر جاتا ہےوقت کے ساتھ خلاؤں میں بکھر جاتا ہے
ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتےجان جاں سچ پہ کیوں اتنا اصرار ہےسچ کی عظمت سے کب ہم کو انکار ہےہم بھی شاعر ہیں آخر اسی قوم کےجس کا ہر فرد بکنے پہ تیار ہےہم ہیں لفظوں کے تاجر یہ بازار ہےسچ تو یہ ہے گزرتے ہوئے وقت سےفائدہ جو اٹھا لے وہ فن کار ہےہم نہ سقراط ہیں ہم نہ منصور ہیںہم سے سچ کی توقع ہی بیکار ہےتیز تلوار سی وقت کی دھار ہےاس لیے جان جاں اپنی تحریر سےخوف تعزیر سےسچے موتی کبھی ہم نہیں رولتےہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
ان کو مجھ سے گلہ مجھ کو ان سے گلہ وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوںخامشی بن گئی حاصل مدعا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوںکشمکش میں ہیں مغرور رعنائیاں بے اماں پھرتی ہیں کتنی پرچھائیاںبیتے لمحوں کا آئینہ دھندلا گیا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوںکوئی افسانہ کہتی نہیں زندگی دھڑکنیں دل کی ہیں اجنبی اجنبیبربط آرزو ہو گیا بے صدا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوںسرد ہے آتشیں ولولوں کی جبیں دل دھڑکتے ہیں اور آنکھ اٹھتی نہیںکون بتلائے کس سے ہوئی ہے خطا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوںہوش کس کو کہ دہرائے روداد غم روٹھی روٹھی سی ہے لذت کیف و کمکھویا کھویا سا ہے اعتماد وفا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوںتلخیٔ شوق کے داغ دھلتے نہیں جی مچلتا ہے اور ہونٹ کھلتے نہیںکتنی بے بس ہے احساس کی ہر ادا وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوںکیسے یہ پیچ و خم آ پڑے ناگہاں ہم سفر ہم سفر سے ہوا بد گماںگم اندھیروں میں ہونے لگا راستہ وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوںوجہ آزردگی تا بلب آئے کیا ایک پندار ہے کتنا صبر آزماپیار کو مل گیا اک نیا مشغلہ وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوںحرمت اک درد کی خم بہ خم رہ گزر کر رہی ہے اشارے کہ آؤ ادھرکون منزل کا کس کو بتائے پتہ وہ بھی خاموش ہیں میں بھی خاموش ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books