نانک

MORE BYعلامہ اقبال

    INTERESTING FACT

    حصہ سوم سے 1908 ( بانگ درا)

    قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروا نہ کی

    قدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کی

    آہ بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبر

    غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر

    آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا

    ہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھا

    شمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی

    بارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی

    آہ شودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہے

    درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے

    برہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں

    شمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میں

    بتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا

    نور ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہوا

    پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے

    ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نانک نعمان شوق

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY